گندم پر تحقیق: پاکستان بمقابلہ دنیا

خوشی کی بات یہ ہے کہ آج   کل پاکستانی میڈیا   بھی  کہیں کہیں زراعت پر بات کرنے لگ گیا ہے۔ لہذا جب بھی  گندم   کی   فی ایکڑ کم پیداوار  کا ذکر ہوتا ہے ،میڈیا   زرعی  تحقیقی اداروں کو نشانے پر رکھ لیتا ہے۔ حوالہ دیا جاتا ہے  کہ ہالینڈ میں گندم کی پیداوار 95 من ، انگلینڈ میں 90 من فی ایکڑ ہے  جبکہ پاکستان سے 30 کا ہندسہ بھی عبور نہیں ہو رہا۔ اسی طرح بھارت   اور بنگلہ دیش میں فی ایکڑ   پیداوار کا حوالہ دے کر تحقیقاتی اداروں کو سخت سست کہا جاتا ہے اور  ان میں بہتری لانے کے دلچسپ فارمولے تجویز کئے جاتے ہیں۔ میڈیا  پر ہونے والا جب  یہی تجزیہ ، پالیسی سازوں کے کان میں پڑتا ہے تو ان کی رائے بھی   ان تحقیقیاتی اداروں کے  خلاف ہو جاتی ہے اور وہ بھی ان اداروں میں اکھاڑ پچھاڑ  کرنے پر مائل   نظر آنے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے  یہ سب کچھ نامکمل معلومات پر مبنی غلط تجزیے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

لہذا انتہائی ضروری  ہے کہ درست معلومات  اور حقیقت ِ حال کو سامنے لایا جائے اور  فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے  حوالے سے  ان تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی کا صحیح تجزیہ کیا جائے۔تاکہ  درست فیصلے کئے جا سکیں۔

تجزیہ کرتے وقت سب سے اہم بات جو پیشِ نظر رہنی چاہئے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں گندم 5 مہینے کی فصل ہے لیکن  باقی دنیا میں ایسا نہیں ہے۔ یورپ کے زیادہ تر ممالک میں گندم 9 سے 10 مہینے  کی فصل ہے۔ روس اور امریکہ  میں بھی گندم 10 مہینوں میں پک کر تیار ہوتی ہے۔ جبکہ یمن میں گندم 3 مہینوں  اور بنگلہ دیش و سوڈان میں صرف  4 مہینوں میں تیار ہو جاتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ  گندم کی فی ایکڑ پیداوار کا  دوسرے ملکوں سے موازنہ کرتے ہوئے ہمیں فصل کے دورانیے کو  لازما پیش نظر رکھنا ہو گا۔   یعنی ہم کہ سکتے ہیں کہ  پاکستان میں اگر گندم 5 مہینوں میں 50 من  فی ایکڑ پیداوار دیتی ہے تو امریکہ میں 10 مہینے کی فصل کو 100 من  فی ایکڑ پیداوار دینی چاہئے۔ مطلب یہ کہ پاکستان کے 50 من  فی ایکڑ اور امریکہ کے 100 من  فی ایکڑ برابر تصور کئے  جانے چاہئیں ۔ کسی بھی دوسرے انداز سے  کیا ہوا موازنہ ہرگز   درست نہیں ہو گا۔

کس ملک میں گندم کی فصل کتنے مہینوں کی ہے اور وہاں پر اوسط پیداوار کیا ہے؟ اس  پر مضمون کے آخر میں بات ہو گی ۔ پہلے   اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ گندم کی اوسط پیداوار میں کس ادارے کی ہے۔ اور وہ ذمہ داری جو تحقیقاتی اداروں کی سونپی گئی ہے کیا وہ اسے بطریق احسن پورا کر رہے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ کاشت کار کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کا عمل اتنا سادہ نہیں ہے۔اس میں کئی عوامل حصہ دار ہوتے ہیں  جو  ذیل میں درج کئے جا رہے ہیں۔

اول

بہترین پیداواری صلاحیت کی حامل ورائٹیوں  کا ہونا  ایک بنیادی ضرورت ہے ۔ بہترین ورائٹیاں تیار کرتے رہنا زرعی تحقیقاتی اداروں کا  کام ہے۔

دوم

سرکاری  تحقیقاتی  ادارے قانونی طور پر بیج  کا کاروبار نہیں کر سکتے۔ بیج کی تجارتی پیمانے پر تیاری اور  فروخت پرائیویٹ شعبے کے ہاتھ میں ہے۔ سیڈ کمپنیاں تحقیقی اداروں سے صحیح النسل  بیج لے کر اسے تجارتی پیمانے پر تیار کرتی ہیں۔ لہذا اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ   سیڈ کمپنیاں بیج بناتے  و فروخت کرتے ہوئے  کوئی گڑ بڑ نہ کریں۔ اور کاشتکار کے ہاتھ  ملاوٹ سے پاک   صحیح النسل ورائٹی پہنچے ۔ بیج کی کوالٹی  اور  نسل کو یقینی بنانا فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کا کام  ہے ۔

سوم

مناسب پانی، کھاد، سپرے وغیرہ کے بغیر بیج سے مطلوبہ پیداوار حاصل نہیں کی جا سکتی لہذا اس کے لئے کاشتکار کے پاس مالی وسائل  کا ہونا ضروری ہے۔ اس ضمن  میں کاشتکار وں کو سبسڈی  دی جا  سکتی ہے یا  قرضے وغیرہ   فراہم کئے جا سکتے ہیں۔ یہ کام بھی  حکومت کی کاشتکار دوست  پالیسی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

چہارم

   محض سبسڈی دینا یا قرضے دینا کافی نہیں ہے،  بلکہ ملاوٹ سے پاک   معیاری کھادوں ا ور   معیاری زرعی ادویات  کی بروقت دستیابی  کے بغیر بھی  پیداوار  کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔یہ دونوں  کام  بالترتیب محکمہ زراعت   (توسیع )   اور محکمہ پیسٹ وارننگ و کوالٹی کنٹرول  پیسٹی سائڈ  کے ذمے ہیں۔

پنجم

بیج  کب  اور کس طرح کی زمین میں بونا ہے، پانی کب  اور کتنا لگانا ہے ، کھاد کتنی اور کب ڈالنی ہے،  زہر کونسی،   کب ، کتنی اور کیسے  استعمال کرنی ہے؟ جب تک کاشتکار کے پاس  یہ ساری معلومات نہیں ہوں گی،مطلوبہ پیداوار حاصل نہیں  کی جا سکتی ۔ لہذا کاشتکار کو   ان امور پر عملدرآمد کے لئے   قائل کرنا اور اسے یہ ساری معلومات بہم پہنچانا    محکمہ زراعت  (توسیع)  کا کام ہے۔

ششم

منڈی میں زرعی اجناس کی مناسب قیمت پر فروخت کو یقینی بنانا  از حد ضروری ہے۔  کیونکہ  اگر کاشت کاری منافع بخش  نہ رہے تو کسان حوصلہ ہار جاتا ہے اور کھیت میں تن دہی سے کام نہیں کرنا  جس سے  زرعی ترقی کا تسلسل رک جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بھی حکومتی پالیسی  اور محکمہ زرعی مارکیٹنگ کا کردار  حتمی ہے۔

اوپر درج کئے گئے زرعی ترقی کی مشین کے  یہ  کل چھ   کے چھ پُرزے  اگر درست حالت میں ہوں تو   پھر ہی یہ گاڑی دوڑتی  ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک پُرزا بھی خراب ہو جائے تو  گاڑی  کی رفتار سست ہو جاتی ہے یا بالکل رُک جاتی ہے۔

جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ زرعی تحقیاتی اداروں کی ذمہ داری  بہترین پیداواری صلاحیت کی ورائٹیاں تیار کرنا ہے۔ لہذا ہم تحقیقاتی اداروں کی کاکردگی کا اسی تناظر میں جائزہ لیں گے۔

فیصل آباد میں قائم ادارہ تحقیقات گندم، ایوب ریسرچ 1911 سے گندم کی ورائٹیاں پیش کر رہا ہے۔ اس ادارے سمیت دیگر اداروں کی حالیہ منظور شدہ ورائٹیوں کی پیداواری  صلاحیت 75 من  فی ایکڑ سے زائد ہے۔ سب سے زیادہ پیداواری صلاحیت کی ورائٹی  گلیکسی -2013 تھی جس کی پیداوار80 من فی ایکڑ ریکارڈ کی گئی ۔ واضح رہے کہ  یہ ساری ورائٹیاں 5 مہینے کی ورائٹیاں ہیں۔ بالکل اسی طرح مصنف نے کوشش کی ہے کہ گندم پیدا کرنے والے دنیا کے اہم و نمائندہ ممالک کے تحقیقا تی  اداروں پر نظر ڈالی جائے اور وہاں پیش کی جانے والی سب سے زیادہ پیداواری صلاحیت کی ورائٹیوں کو سامنے لا یا جائے۔ اس حوالے سے اکٹھی کی گئی معلومات  درج ذیل ٹیبل میں پیش کی جا رہی ہیں۔

اوپر دئیے گئے ٹیبل میں پیش کی گئی معلومات  سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان   میں گندم پر تحقیق کرنے والے اداروں نے دنیا  کی بہترین پیداواری صلاحیت کی ورائٹیاں تیار کی ہیں۔ ٹیبل کے مطابق جرمنی کے پاس سب سے زیادہ یعنی    115 من سے زائد پیداواری صلاحیت کی حامل ورائٹی ہے لیکن اتنی پیداوار 10 مہینوں میں حاصل ہوتی ہے۔ اسی ورائٹی کی ماہانہ پیداوار 12 من فی ایکڑ سے بھی کم ہے جبکہ پاکستان کی ورائٹی گلیکسی 2013 کی ماہانہ پیداوار 16 من فی ایکڑ ہے۔ بالکل اسی طرح چائنہ میں بہترین پیداواری صلاحیت رکھنے والی ورائٹی کی ماہانہ پیداوار تقریبا 13 من فی ایکڑ، بھارت میں تقریبا 15 من فی ایکڑ، بنگلہ دیش میں تقریبا 12 من فی ایکڑ، روس میں تقریبا 7 من فی ایکڑ اور امریکہ میں ساڑھے 9 من فی ایکڑ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جانا چاہئے کہ  گندم کی تحقیق میں پاکستان کہاں کھڑا ہے۔

اب ہم پاکستانی کاشت کار کے کھیت سے حاصل ہونے والی اوسط فی ایکڑ پیداوار کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں کچھ ترقی پسند کاشت کار 90 من فی ایکڑ سے بھی زیادہ پیداوار لیتے ہیں، لیکن مجموئی طور پر کاشت کاروں کی اوسط پیداوار کے حوالے سے پاکستان کی کمزوریاں واضح ہیں۔ پاکستان کی اگر فی  ایکڑ اوسط پیداوار  کم ہے تو اس کی ذمہ داری  تحقیقاتی اداروں پر عائد نہیں ہوتی ۔ اس کی ذمہ زرعی مشین کے دیگر پانچ پرزوں میں سے کسی نہ کسی پر عائد ہوتی ہے جس کا آنے والے مضامین میں تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔

سر دست ہم آپ کے سامنے گندم پیدا کرنے والے دنیا کے اہم ممالک کی فی ایکڑ اوسط پیداور کا ڈیٹا پیش کرتے ہیں۔

ٹیبل میں پیش کی گئی معلومات ایف اے او سٹیٹ اور یو ایس ڈی اے سے حاصل کی گئی ہیں۔ معلومات 2019 کے ڈیٹا پر مبنی ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ  امریکہ اور روس میں ماہانہ  اوسط پیداوار پاکستان سے کم ہے لیکن  یہ حقیقت بھی منہ کھولے کھڑی ہے کہ اس حوالے سے بھارت، بنگلہ دیش  اور چائنہ پاکستان سے آگے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی ورائٹیاں تو اچھی ہیں لیکن کاشت کار ان ورائٹیوں سے مطلوبہ پیداوار حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ لہذا  ورائٹیوں کی پیداواری صلاحیت اور کھیت سے حاصل ہونے والی اوسط پیداوار میں بہت زیادہ فرق ہے۔   یہ فرق بھارت میں تقریبا 38 من، بنگلہ دیش میں 24 من  ، چائنہ میں ساڑھے 24 من جبکہ پاکستان میں  ساڑھے 51 من ہے۔ اس فرق کی ذمہ داری تحقیقاتی اداروں پر عائد نہیں ہوتی۔ اس کی ذمہ داری کن کن اداروں پر عائد ہوتی ہے؟ اور کیا وجوہات ہیں کہ وہ ادارے اس فرق کو کم کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کر پا رہے؟ اس پر آئندہ بات ہو گی۔ انشاءاللہ

تحقیق و تحریر

ڈاکٹر شوکت علی

ایسوسی ایٹ پروفیسر (توسیع زراعت)

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں