پاک چونگ چارہ: ایک ایکڑ سے 20 بھینسیں پالیں

چارے میں دلچسپی رکھنے والے کاشتکاروں نے نیپیئر گراس کا نام تو ضرور سن رکھا ہو گا۔
نیپیئر گراس کی کئی نسلیں دنیا کے مختلف ممالک میں پائی جاتی ہیں۔ آج ہم نیپیئر گراس چارے کی جس نسل پر بات کریں گے وہ سال 2010 میں تھائی لینڈ کے ایک زرعی تحقیقی ادارے میں تیار ہوئی ہے۔ نیپیئر گراس کی اس نئی نسل کو سپر نیپیئر کا نام دیا گیا ہے۔ عرف عام میں اسے پاک چونگ بھی کہتے ہیں۔ ساہیوال کے ایک کاشتکارسرفراز نے دعوی کیا ہے کہ اس نے پاک چونگ کی کاشت کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

سرفرازنے پاک چونگ چارہ گزشتہ دو سال سے لگا رکھا ہے اور اس نے ہر حوالے سے اس چارے کو پرکھا ہے۔ سرفراز کی پرکھ اور بین الاقوامی تحقیق کو سامنے رکھتے ہوئے یہ مضمون لکھا جا رہا ہے۔

اگر آپ پاک چونگ چارے کا ایک ایکڑ کاشت کر لیں تو وہ 20 بڑے جانوروں کی خوراک کے لئے سال بھر کے لئے کافی ہو گا۔ اس چارے میں پروٹین کی مقدار مکئی سے بھی زیادہ ہے۔ یہ چارہ کیا ہے؟ اور پنجاب میں آپ کو اس کا بیج کہاں سے ملے گا؟ یہ سب جاننے کے لئے ذیل کا مضمون پڑھئے۔

پاک چونگ چارہ کس طرح کی زمین میں کاشت کیا جا سکتا ہے؟

ویسے تو پاک چونگ چارہ ہلکی زمین پر بھی کاشت کیا جا سکتا ہے لیکن اچھی پیداوار لینے کے لئے اسے اچھی زمین درکار ہے۔ اچھی زمین میں کاشت کرنے سے اس کی پیداوار 5000 من فی ایکڑ سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ جبکہ ہلکی زمین میں یہ نشوونما تو پائے گا لیکن اس کی پیداوار 4000 من فی ایکڑ یا اس سے بھی کم ہو سکتی ہے۔

پاک چونگ چارے کی کاشت کب اور کیسے کی جاتی ہے؟

پاک چونگ چارہ سال میں دو مرتبہ کاشت کیا جا سکتا ہے۔ پہلی مرتبہ یکم فروری سے یکم اپریل تک اور دوسری مرتبہ یکم اگست سے یکم نومبر تک کاشت کیا جا سکتا ہے۔ پاک چونگ چارہ سمّے بنا کر کاشت کیا جاتا ہے۔ ہر سمے پر کم از کم ایک اور زیادہ سے زیادہ دو آنکھیں ہونی چاہئیں۔ بہتریہی ہے کہ ایک سمے پر دو آنکھیں ہوں۔

پاک چونگ چارے کے سمّے خشک زمین میں لگا کر اوپرسے پانی لگا دیا جا تا ہے۔

سمّے لگانے سے پہلے ٹریکٹر کی مدد سے کھیلیاں بنا لیں۔ ایک کھیلی سے دوسری کھیلی کا درمیانی فاصلہ تقریبا اڑھائی فٹ ہونا چاہئے۔ ان کھیلیوں کےکناروں پر بالکل اسی جگہ سمّے لگائیں جس جگہ مکئی کے چوکے لگائے جاتے ہیں۔ سمے پر ایک آنکھ ہونے کی صورت میں اسے زمین میں باکل ویسے ہی لگایا جا تا ہے جیسے گلاب کی قلم لگائی جاتی ہے۔ لیکن اگر سمے پر ایک کی بجائے دو آنکھیں چھوڑی گئی ہوں تو پھر سمے کو بالکل کماد کے سمے کی طرح زمین میں لٹا کر دبا دیں اور اوپر ہلکی سی مٹی ڈال دیں۔ سمّا لگاتے ہوئے آنکھوں کا رخ اوپر کی طرف ہونا چاہئے اور ان پر ہلکی مٹی ڈالیں تاکہ جب آنکھ پھوٹے توشگوفے کو زمین سے باہر نکلنے میں دقت نہ ہو۔ سمّے لگاتے ہوئے ایک سمّے کا دوسرے سمّے سے فاصلہ تقریبا ڈیڑھ فٹ رکھنا چاہئے۔

پاک چونگ چارہ کٹائی کے لئے کب تیار ہوتا ہے اور کتنے سال تک چلتا ہے؟

بجائی کے تقریبا 90 دن بعد پاک چونگ چارہ کم و بیش 8 فٹ قد کر کے پہلی کٹائی کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ہر 60 دن بعد اگلے کٹائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یکم مارچ سے 31 اکتوبرتک چارے کی بڑھوتری بہت تیز ہوتی ہے جبکہ یکم نومبر سے 28 فروری تک پاک چونگ کی بڑھوتری سست ہو جاتی ہے۔ اس طرح اگر ہم 8 فٹ پر کٹائی کریں تو چارے کی سال بھر میں 3 کٹائیاں لی جا سکتی ہیں۔ لیکن اگر 10 سے 12 فٹ پر کٹائی کی جائے تو پھر سال بھر میں 2 کٹائیاں ملتی ہیں۔ البتہ اگر اسے ہر 3 فٹ پر کاٹ لیا جائے تو پھر اس سے 6 کٹائیاں بھی لی جا سکتی ہیں۔

ایک مرتبہ کاشت کیا گیا پاک چونگ چارہ 20سال تک چلتا رہتا ہے۔ واضح رہے کہ اس پر مکئی یا جوار کی طرح کوئی سٹا وغیرہ نہیں نکلتا اور مناسب قد پر اس کی کٹائی ہوتی رہے تو یہ ہر کٹائی میں سرسزوشاداب ہو تا ہے۔

پاک چونگ چارہ کتنی پیداوار دیتا ہے؟

اگر پاک چونگ چارے کی کٹائی 6 سے7 فٹ تک کر لی جائے توکاشتکار اس کی 3 کٹائیاں لے سکتا ہے اور ہر کٹائی کی اوسط پیداوار 1600 من فی ایکڑ تک ہو سکتی ہے۔ اس طرح سالانہ پیداوار تقریبا 4800 من فی ایکڑ تک ہو سکتی ہے۔

اسی طرح اگر10 سے 12 فٹ پر لے جا کر کٹائی کریں تو سال میں اس کی 2 کٹائیاں لی جا سکتی ہیں جس سے فی کٹائی پیداوار تقریبا2400 من اور سالانہ پیداوار 4800 من تک ہو سکتی ہے۔

لیکن اگر 3 فٹ پر کٹائی کی جائے تو سال میں 7 کٹائیاں لی جا سکتی ہیں۔

کیا جانور پاک چونگ چارے کو شوق سے کھاتے ہیں؟

تمام جانور جیسا کہ بکریاں، گائیاں، بھینسیں اور گھوڑے وغیرہ اس چارے کو نہائیت شوق و رغبت سے کھاتے ہیں۔ بکریوں کے لئے 3 فٹ پر کٹائی کرنی چاہئے۔ جبکہ دوسرے جانوروں جیسے گائیوں، بھینسوں اور گھوڑوں کے لئے 7 فٹ پر کٹائی کرلینی چاہئیے۔

پاک چونگ کو کتنی کھاد اور پانی کی ضرورت ہے؟

بہتر یہی ہے کہ پاک چونگ چارے کو ہفتہ وار پانی لگایا جائے۔ لیکن اگر دو ہفتے یا تین ہفتے بعد بھی پانی لگائیں تو یہ مرتا نہیں ہے۔ اسے آپ ٹیوب ویل کا ہلکے نمکیات والا پانی بھی لگا سکتے ہیں۔ کھاد کے حوالے سے بات کریں تو سرفراز نے دو سالوں میں اسے کوئی کھاد نہیں ۔ لیکن یہ بات آپ کو ذہن میں رکھنی چاہئے کہ پاک چونگ چارہ بہت زیادہ پیداوار دینے والا ایک چارہ ہے۔ اور زیادہ پیداوار اسی وقت ممکن ہے جب اس کو مناسب پانی اور غذائیت ملے گی۔

کیا پاک چونگ چارے پر کیڑے مکوڑے اور بیماریاں بھی حملہ کرتی ہیں؟

اگر ہم جوار، باجرے یا مکئی کا چارہ کاشت کریں تو اس پر کئی طرح کے کیڑے مکوڑے اور بیماریاں وغیرہ حملہ کرتی ہیں جن سے چارے کو محفوظ رکھنے کے لئے دانے دار زہریں یا سپرے وغیرہ کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ لیکن پاک چونگ چارے پر پچھلے دو سالوں میں کسی طرح کے حشرات یا کسی بیماری کا حملہ نہیں دیکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہاس پر کسی طرح کی کیڑےمار یا پھپھوندی کش زہروں کا استعمال نہیں کرنا پڑا۔

پاک چونگ چارے میں کتنی غذائیت ہے اور اس کی کٹائی کب کرنی چاہئیے؟

پاک چونگ چارے کے پتوں میں پروٹین کی مقدار تقریبا 17 فیصد اورتنے میں تقریبا 4 فیصد پائی جاتی ہے۔ اس طرح پاک چونگ کے پورے پودے میں پروٹین کی مقدار اوسطا 11 فیصد پائی جاتی ہے جو کہ مکئی کے چارے میں پائی جانے والی پروٹین سے زیادہ ہے۔

کیا پاک چونگ چارے کا سائلج بنایا جا سکتا ہے؟

جس طرح ہمارے ہاں مکئی کا سائلج بنایا جاتا ہے بالکل اسی طرح پاک چونگ چارہ بھی سائلج کے حق میں بہت اچھا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس کے سائلج میں پروٹین کی مقدار 10 فیصد تاک پائی گئی ہے جو کہ بہت ہی حوصلہ افزا ہے۔

پاک چونگ چارے کا بیج کہاں سے ملے گا ؟

پاک چونگ چارے کا بیج قیمتا حاصل کرنے کے لئے آپ سرفراز سے اس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

03008690677

لیکن میرا کاشتکاروں کو یہ مشورہ ہے کہ وہ ابتدائی طور پر ایک آدھ کنال پر پاک چونگ کاشت کریں۔ جب یہ چارہ بڑا ہو جائے تو اس کی قلموں سے زیادہ رقبے پر کاشت کر لیں۔

زرعی محققین کے لئے مشورہ

It was noted that three cultivars of Hybrid Napier grass cvv i.e. Hybrid Napier cv. Pakchong-1; Hybrid Napier cv. CO-3; and Giant Napier need to be imported and tested in Pakistan. The Research, Development and Extension of these cultivars could bring significant improvement in the livestock industry of Pakistan

تحریر

ڈاکٹر شوکت علی، ایسوسی ایٹ پروفیسر، توسیع زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں