دھان کے حوالے‌سے‌بہاولنگر‌کے‌ترقی‌پسند‌کاشتکار‌کا‌ذاتی تجربہ

اسامہ محمد خان خاکوانی بہاولنگر کے ترقی پسند کاشتکار ہیں. وہ اپنے فارم پر نت نئے تجربات کرنے کا شوق رکھتے ہیں. دھان کے حوالے سے انہوں نے اپنے گزشتہ سال کے تجربات فیس بک پر شئر کئے ہیں جن کی اہمیت کے پیش نظر ایگری اخبار انہیں شائع کر رہا ہے.

قسم کا نام: PUSA 1509
پاکستانی اداروں کی کسان باسمتی بھی یہی چیز ہے۔
بہترین نرسری بوائی کی تاریخ: 10 جون سے 30 جون
بہترین ٹرانسپلانٹنگ تاریخ: پوری جولائی. ترجیحی طور پر 15 سے 30 جولائی.

ڈی ایس آر یا کاشت بذریعہ ڈرل کے لئے بہترین وقت: 15 جون سے 30 جون.

فوائد:
1 کم قد
2 مختصر مدت میں پک کر تیار
3 پانی کی بچت۔ یہ اس موسم میں لگتی ہے جب عام طور پر ساون شروع ہو چکا ہوتا ہے۔
4 بوجہ کم قد گرتی نہیں۔
5 بیماریوں کے خلاف زیادہ مزاحمت.
6 گرنے کے خوف کے بغیر زیادہ پیداوار کے لئے زیادہ کھاد فراہم کی جا سکتی ہے.
7۔کائنات / پوسا 1121 سے زیادہ لمبا دانہ۔
8. ٹرانسپلانٹنگ کے بعد 90 سے 100 دن اور ڈی ایس آر 120 دن کے بعد تیار
9. پیداواری صلاحیت 70 من ہے. میرا سب سے بہترین پلاٹ 62 من ہوا.

نقصانات۔
1 مارکیٹ میں بکری کے مسائل ہیں۔
2۔ پاکستان میں ابھی بھی کسی کمپنی کے پاس 100 فیصد خالص خالص بیج نہیں ہے
3۔کچھ علاقوں میں بکائنی بیماری کی اطلاعات ہیں، لیکن اس نے گزشتہ تین موسموں میں میرے فیلڈ پر الحمدللہ حملہ نہیں کیا.
4 لیٹ بوائی کے باوجود کائنات سے 10 سے 15 دن پہلے سے تیار ہوتی ہے لہذا ابتدائی موسم میں بہتر ریٹ ملتا ہے لیکن چوٹی کے موسم میں اور بعد میں اس کا ریٹ کائنات 200 روپے کم ہوتا ہے.
5 کچھ فیکٹریوں نے اطلاع دی ہے کہ یہ پروسیسنگ کے بعد زیادہ ٹوٹا ہوا چاول دیتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اس کی ریکوری کم ہے.
6 اگر تجویز کردہ تاریخوں سے قبل کاشت کی جائے تو پھر بہت کم پیداوار ملے گی.

ایک بہت اہم بات: 5 ضرب 5 انچ کے فاصلے پر پودے لگائیں. یا زیادہ سے زیادہ 6 انچ. چونکہ اس کی بوٹا مارنے کی صلاحیت کم ہے اس لیے زیادہ فاصلے کی صورت میں پیداوار کم ہو جائے گی۔

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں