فالسہ کاشت کریں اور 2 سے 3 لاکھ روپے فی ایکڑ منافع کمائیں

آپ نے فالسے کا شربت تو ضرور پیا ہو گا؟
اگر نہیں پیا تو ضرور پئیں. آپ قدرت کے ایک اورذائقے سے آشنا ہو جائیں گے.
فالسے کی کاشت کے حوالے سے ہمارے کئی ایک قارئین نے ایگری اخبار سے رابطہ کیا جن کی تحریک پر یہ مضمون پیشِ خدمت ہے. امید ہے کہ یہ مضمون فالسے کی کاشت و و برداشت کے حوالے سے آپ کی مکمل رہنمائی کرے گا.
فالسے کے باغات کن کن علاقوں میں لگائے جا سکتے ہیں؟
فالسہ ایک سخت جان پودا ہے جو سخت گرمی اور سخت سردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے.
اپنی اسی صلاحیت کی وجہ سے یہ پنجاب کے تمام اضلاع میں کاشت کیا جا سکتا ہے. لیکن اگر موجودہ صورت حال کو دیکھا جائے تو فالسے کے زیادہ تر باغات جنوبی پنجاب میں موجود ہیں جہاں سے فالسے کا پھل پورے پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں‌ فروخت کے لئے بھیجا جاتا ہے.
فالسے کے پودوں کو کس طرح کی زمین چاہئے؟
یوں تو فالسہ ہر قسم کی زمین میں کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے البتہ میرا زمین فالسے کے لئے بہترین ہے. فالسے کو ہلکی سیم تھور والی یا ہلکی کلراٹھی زمینوں میں بھی کاشت کیا جا سکتا ہے.
فالسے کے پودے کو کتنے پانی کی ضرورت ہے؟
جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ فالسہ ایک سخت جان اور گرمی کی شدت کو برداشت کرنے والا پودا ہے. یہی وجہ ہے کہ اسے کم پانی کے ساتھ بھی اگایا جا سکتا ہے. البتہ جب فالسہ فروری کے مہینے میں پھل پھول لینا شروع کر تا ہے تو پھر اس کی پانی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے. فروری سے جون تک اسے زیادہ پانی کی خرورت ہوتی ہے. پھل بننے کے دوران فالسے کو 5 سے 7 دن کے بعد پنی لگانا چاہئے.
البتہ جب اس کا سارا پھل پودے سے توڑ لیا جائے تو پھر 20 سے 30 دن کے بعد پانی لگانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے. بس ایک بات کا خیال رہے کہ پودوں کے مڈھ سوکھنے نہ پائیں.

فالسے کی پنیری کب اور کیسے تیار کی جاتی ہے؟

ویسے تو فالسے کے پودے قلم کے ذریعے بھی تیار ہو سکتے ہیں لیکن بہتر یہی ہے کہ آپ بیج کے ذریعے فالسے کی پنیری تیار کر لیں.
بیج حاصل کرنے کے لئے بازار کا جائزہ لے کر صحت مند اور ذائقہ دار فالسہ فروٹ والی ریڑھی سے خرید لیں. ہاتھ سے فالسے کا گودا بیج سے علیحدہ کر کے شربت بنا لیں اور بیجوں کو صاف کر کے سائے میں خشک کر لیں.
لیجئے آپ کا بیج کاشت کے لئے تیار ہے.
فالسے کا بیج بونے کا بہترین وقت جون جولائی کا مہینہ ہے. بہتر یہی ہے کہ بیج پٹڑیوں پر کاشت کیا جائے. پٹڑیوں کا درمیانی فاصلہ 6 سے آٹھ انچ ہو تو بہتر ہے. اب ان پٹڑیوں پر تین تین انچ کے فاصلے پر بیج لگا دیں. بہتر یہی ہے کہ بیج خشک زمین میں لگا کر اوپر سے پانی لگا دیں. ان کیاریوں کو وتر پر پانی لگاتے رہیں. 15 سے 20 دن کے بعد فالسے کے بیج اگنا شروع ہو جائیں گے.
جون جولائی میں لگایا ہوا فالسے کا بیج 6 یا 7 ماہ کے اندر اندر یعنی اگلے سال جنوری فروری میں تقریباََ 3 فٹ کا ہو جاتا ہے. تین فٹ کا پودا کھیت میں منتقل کرنے کے قابل ہوتا ہے.

فالسے کی پنیری کھیت میں کب اور کیسے منتقل کی جاتی ہے؟

فالسے کے پودے کھیت میں منتقل کرنے کا بہترین وقت فروری کا آخری ہفتہ ہے. فالسہ دراصل ایک پت چھڑ پودا ہے. اس لئے اس کو نئی کونپلیں نکلنے سے پہلے کھیت میں منتقل کر دینا چاہیئے. فروری میں کاشت کئے ہوئے پودے کورے وغیرہ کے اثرات سے بھی محفوظ رہتے ہیں.
پودے بغیر گاچی نکالے جڑوں سے اکھاڑ کر کھیت میں منتقل کئے جا سکتے ہیں. بہتر یہ ہے کہ کھیت میں منتقل کرنے سے ایک مہنہ پہلے فالسے کے پودوں کو اوپر سے تھوڑا تھوڑا کاٹ دیا جائے. اس سے یہ ہو گا کہ پودا کھیت میں منتقل ہونے کے بعد سیدھا اوپر جانے کی بجائے ایک جھاڑی سی بنا لے گا اور نہائیت اچھی پیداوار دے گا.

ایک ایکڑ میں فالسے کے کتنے پودے لگائے جاتے ہیں؟

فالسے کا باغ لگانے کے لئے قطار سے قطار کا فاصلہ 7 فٹ اور پودے سے پودے کا فاصلہ 4 فٹ رکھنا مناسب ہے. ضرورت کے مطابق قطار سے قطار اور پودے سے پودے کا فاصلہ ایک فٹ کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے.
اس حساب سے آپ کے ایک ایکڑ میں 1000 سے 1200 پودے لگیں گے. فالسے کے پودوں کوتین چار فٹ سے زیادہ بڑھنے نہیں دیا جاتا یہی وجہ ہے کہ اس کو دوسرے باغات مثلاََ کینو، آم، کھجور یا امرود وغیرہ کے باغات کے اندر بھی کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے.

فالسے کا پودا کب پھل دینا شروع کرتا ہے اور کتنے عرصے تک پھل دیتا ہے؟

فالسے کا پودا کھیت میں منتقل ہونے کے تقریبا ایک سال بعد پھل پھول دینا شروع کر دیتا ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ فروری میں منتقل کیا ہوا پودا اگلے سال فروری میں پھولوں پر آ جائے گا.
فالسے کا پودا ایک دفعہ لگا لیا جائے تو مسلسل 30 سال تک پھل دیتا رہتا ہے. اس لحاظ سے اس کی عمر کئی دوسرے پھل دار پودوں سے زیادہ ہے.

فالسے کے پودے کی شاخ تراشی کیوں اور کب کرنی چاہئے؟

فالسے میں پھل نئی شاخوں پر آتا ہے. لہذا بہتر اور زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے اس کی شاخوں کو کاٹنا بہت ضروری ہے.
واضح رہے کہ فالسے کی شاخ تراشی جنوری میں کرنی چاہئے. بہتر یہ ہے کہ تیز دھار کلہاڑی یا ٹوکے کی مدد سے فالسے کے مڈھ سے اوپر ساری شاخیں کاٹ دی جائیں. جنوری میں شاخیں کاٹنے سے فروری کے مہینے میں اس پر نئی شاخیں نکل آئیں گی جن پر بھر پور پھل لگے گا. شاخ تراشی کا دوسر فایدہ یہ ہے کہ اگر دسمبر میں کورے کی وجہ سے فالسے کی شاخیں سوکھ بھی جائیں تو پریشان ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں. جیسے ہی آپ جنوری میں یہ سوکھی ہوئی شاخیں کاٹیں گے ساتھ ہی فروری میں سرسبز وشاداب شاخیں نکل آئیں گی.
فالسے کی شاخیں شہتوت کی شاخوں کی طرح ٹوکریاں بنانے کے کام میں لائی جا سکتی ہیں. یا انہیں ایندھن کے طور پر جلایا بھی جا سکتا ہے.

فالسے کے باغات کو کب اور کتنی کھاد ڈالنی چاہئے؟

فالسے کے پودوں کو کھاد ڈالنے کا بہترین وقت جنوری کا مہینہ ہے. شاخ تراشی کے فوراََ بعد فالسے کو کھاد ڈال کر پانی لگائیں تاکہ پودا اس کھاد کو نئی شاخیں نکالنے اور پھل پھول بنانے کے لئے کام میں لا سکے.
شاخ تراشی کے بعد ایک بوری بوریا، ایک بوری ڈی اے پی اور ایک بوری پوٹاش فی ایکڑ کے حساب سے ڈال دیں. اگر ہو سکے تو گوبر کی کھاد 10 گلو گرام پودے کے حساب سے ڈالیں. ہمارے نزدیک یہ کھاد کی کم سے کم مقدار ہے.
ویسے ڈاکٹر منور احد نور کی سن 2017 میں شائع شدہ کتاب بعنوان علم اثمار و پیداوار میں ایک کلو گرام یوریا، ایک کلو گرام ایس ایس پی اور ایک کلو گرام ہی پوٹاشیم سلفیٹ فی پودا ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے. اس حساب سے فی ایکڑ کھاد 20 بوری یوریا، 20 بوری ایس ایس پی اور 20 بوری ہی پوٹاشیم سلفیٹ یعنی کل 60 بوری کھاد بنتی ہے.
یہ بات بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ آپ فالسے کو زیادہ کھاد چاہیں تو ڈال سکتے ہیں زیادہ کھاد کی وجہ سے اس کی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا.

فالسے کے باغ سے فی ایکڑ کتنی پیداوار ہو سکتی ہے؟

پنجاب میں فالسہ کاشت کرنے والے کاشت کار 60 سے 70 من فی ایکڑ فالسے کی پیداوار حاصل کر رہے ہیں.
زیادہ کھادیں ڈالنے اور باغ کی بہتر دیکھ بھال کر کے اس سے بھی زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے.

فالسے کا پھل کہاں بکتا ہے اور اس سے کتنی آمدن ہو سکتی ہے؟
فالسے کی قیمت منڈی میں دوسری اجناس کی طرح اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے. پچھلے سال یعنی 2018 میں  فالسے کا ریٹ سال 2017 کی نسبت بہتر تھا. مگر اس سال (2019) کل کا پرچون ریٹ 400 روپے کلو تھا۔ لیکن فی ایکڑ آمدن کا حساب لگاتے ہوئے آپ ذہن میں رکھیں کہ فالسے کا منڈی میں اوسط ریٹ  100 روپے سے 120 روپے فی کلو یعنی 4 ہزار سے 48 سو روپے فی من ہو سکتا ہے۔
60 سے 70 من فی ایکڑ پیداوار کو سامنے رکھ کر اگر حساب لگایا جائے تو فالسے کے ایک ایکڑ سے 2 لاکھ 40 ہزار سے لے کر 3 لاکھ 36 ہزار روپے کی آمدن ہو سکتی ہے.
فالسے کا پھل جنوبی پنجاب کی لوکل منڈیوں کے علاوہ تمام بڑے شہروں کی منڈیوں میں باآسانی فروخت ہو جاتا ہے. یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ فالسہ کاشت کرنے والے کاشتکار کو اسے بیچنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا.

فالسے کی چنائی کیسے کی جاتی ہے؟

یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ فالسے کا پھل چھوٹا اور نازک ہوتا ہے. اس لحاظ سے اس کی چنائی ذرا مشکل ہے.جنوبی پنجاب میں عام طور پر عورتیں اور بچے فالسے کی چنائی کرتے ہیں جہاں ایک کلو چنائی کا ریٹ اوسطاََ 25 روپے تک ہے.خواتین اور بچے چھڑیوں سے بنی ہوئی چھوٹی چھوٹی ٹوکریوں میں فالسے کی چنائی کرتے ہیں جنہیں جنوبی پنجاب کی علاقائی زبان میں چھکُو بولتے ہیں. ایک چھکُو میں 5 سے سات کلو تک فالسہ آ جاتا ہے.
جب فالسے کے پودے پر پھل بن جاتا ہے تو کاشتکار عام طور پر شاخوں کے سرے کاٹ دیتے ہیں. اس سے پودے کی شاخ بڑھنا رک جاتی ہے اور وہ خوراک جو پودے کی شاخ بڑھنے پر صرف ہونا تھی وہی خوراک پھل کو ملتی ہے جس سے پھل زیادہ موٹا اور صحت مند ہو جاتا ہے.
کاشتکار پھل سے جھکی ہوئی فالسے کی شاخوں کو ہاتھ سے الٹتے پلٹتے بھی رہتے ہیں. اس سے پھل کو روشنی اور ہوا ملتی ہے جس سے پھل ایک تو جلدی پک کر تیار ہو جاتا ہے اور دوسرے اس کی کوالٹی بھی بہتر ہو جاتی ہے.
فالسے کی چنائی عام طور پر صبح کے وقت شروع ہو کر کر گیارہ بجے تک چلتی رہتی ہے. اور چنا ہوا پھل اگلی صبح مارکیٹ میں فروخت کے لئے بھیجا جاتا ہے. 24 گھنٹے چھکو کے اندر پڑا رہنے کی وجہ سے فالسہ مکمل طور پر پک جاتا ہے.

کیا فالسے پر بیماریوں یا کیڑوں مکوڑوں کا حملہ بھی ہوتا ہے؟
فالسے کے پتے چونکہ کھردرے اور سخت ہوتے ہیں اس لئے اس پر بہت کم کیڑے مکوڑے حملہ کرتے ہیں. فالسے پر کوئی قابل ذکر بیماری بھی حملہ نہیں کرتی. ہلکے پھلکے حملے کی صورت میں موقع کی مناسبت سے ایک آدھ سپرے کر دیا جائے تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے. اس لئے فالسے پر کیڑوں مکوڑوں اور بیماریوں کے حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے.

تحریر
1 ڈاکٹر شوکت علی، ماہر توسیع زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد
2. محمد اصغر پی ایچ ڈی سکالر، توسیع زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

اظہار تشکر
1. اس مضمون میں زیادہ تر افکار ایک ترقی پسند کاشتکار چوہدری محمد ذالفقار کے تجربات سے اخذ کئے گئے ہیں. یہ کاشتکار تحصیل چوبارہ ضلع لیہ کے رہنے والے ہیں اور گزشتہ 30 سال سے فالسے کی کاشت کے ساتھ منسلک ہیں.
2. اس کے علاوہ پھلوں کی کاشت سے متعلق کتاب بعنوان علم اثمار و پیدوار بھی یہ مضمون لکھتے ہوئے پیش نظر رہی ہے.

اس تحریر کو مصنف کا نام ہٹا کر استعمال کرنا یا مصنفین کی اجازت کت بغیر ویڈیو بنانے کے لئے کام میں لانا اخلاقا و قانونا درست نہیں ہے.
البتہ اس تحریر کو شئیر کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے.
جملہ حقوق بحق مصنفین محفوظ ہیں

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں