کیا پنجاب اور سندھ میں بھی پستہ کامیاب ہے؟

آج کل پستے کی کاشت کے حوالے سے ایک ویڈیو وائرل ہے۔ ویڈیو میں پنجاب اور سندھ کے کاشتکاروں کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ پستے کے باغات لگائیں۔ ویڈیو میں پیش کردہ معلومات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ پستے کے باغات لگا کر، پنجاب اور سندھ کے کاشتکارچوتھے سال میں ہی فی ایکڑ 10 لاکھ روپے باآسانی کما سکتے ہیں جو دسویں سال میں 42 لاکھ روپے فی ایکڑ تک جا پہنچیں گے۔ ظاہر ہے اتنی زبردست ترغیب پر کاشتکار مائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یہی وجہ تھی کہ پنجاب بھر سے کاشتکار مجھ ناچیز سے رابطہ کر رہے تھے اور پستے کی کاشت سے متعلق دریافت کر رہے تھے۔

لہذا ضروری سمجھا گیا کہ عمومی آگاہی کے لئے بات چیت کی جائے۔ زیر نظر مضمون کا مقصد، پستے کی کاشت بارے فیصلہ کرنے میں کاشتکاروں کی اعانت کرنا ہے۔

دنیا میں پستہ پیدا کرنے والے ملک انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ پیداوار کے لحاظ سے 18 ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا چودہواں نمبر ہے۔دنیا کے دو ملک ایران اور امریکہ، پستے کی بین الاقوامی تجارت پر چھائے ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر پستے کی تجارت تقریبا 4 ارب ڈالر(650 ارب روپے تقریبا) کو چھو رہی ہے(بحوالہ ادارہ خوراک و زراعت، اقوام متحدہ)

پستے کی فی ایکڑ پیداوار کو دیکھا جائے تو پاکستان، دنیا میں پہلے نمبر پر ہے(بحوالہ بالا)۔ لیکن اس کے باوجود ہم اپنی ضرورت کا 95 فیصد پستہ درآمد کرتے ہیں۔ گزشتہ برس پاکستان نے 50 کروڑ روپے کا 25 ہزار من پستہ درآمد کیا ہے ۔ پاکستان میں سارے کا سارے پستہ ایران سے آتا ہے (بحوالہ حکومت پاکستان)

فی زمانہ، صوبہ بلوچستان کے کئی اضلاع جیسا کہ، خاران، خضدار، نوشکی، مستونگ، قلات، آواران میں پستے کے باغات موجود ہیں۔ پستہ ایک سخت جان پودا ہے جو کم پانی اور ہلکی زمینوں میں بھی کامیابی سے پھل دیتا ہے۔ محکمہ زراعت بلوچستان، کاشتکاروں کو پستے کے باغات لگانے کی ترغیب دے رہا ہے۔ خاص طور پر سیب کے وہ علاقے جہاں پانی کا مسئلہ سر اٹھا رہا ہے، وہاں کاشتکار پستے کے باغات لگا رہے ہیں۔

بلوچستان میں، محکمہ زراعت، ہلکی اور کم پانی والی زمینوں پر پستے کی کاشت کو پروموٹ کر رہا ہے

سوال یہ ہے کہ اگر مذکورہ علاقوں میں پستہ اگایا جا سکتا ہے تو پنجاب اور سندھ میں کیوں نہیں اگایا جا سکتا؟

یہ بات درست ہے کہ پنجاب اور سندھ میں پستے کی کاشت کے قوی امکانات موجود ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تاحال پستے کا ایسا کوئی بھی معلوم درخت نہیں ہے جس نے پنجاب اور سندھ کی آب و ہوا میں پھل اٹھایا ہو۔

نوٹ: اگر کسی نے پنجاب اور سندھ میں پستے کے درخت پر صحت مند پھل دیکھا ہو تو 03338360766 پر واٹس ایپ کرے۔ ایگری اخبار اسے شائع کرنے میں مسرت محسوس کرے گا

دراصل، پھل دار پودوں کو پھل اٹھانے کے لئے 7 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم والی ٹھنڈ کے لمبے اور مخصوص دورانیے(Chilling Hours) کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایران میں پائی جانے والی پستے کی اکبری ورائٹی کو پھل اٹھانے کے لئے 1200 گھنٹے کی ٹھنڈ درکار ہوتی ہے۔اگر اکبری ورائٹی کو 1200 کی بجائے 1000 گھنٹا ٹھنڈ ملے تو پستے کی پیداوار 21 فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔800 گھنٹے ٹھنڈ ملنے پر پیداوار میں 50 فیصد کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جبکہ 700 گھنٹے ٹھنڈ ملنے پر پستے کی اکبری ورائٹی بالکل ہی پھل نہیں اٹھاتی۔

اگر پستے کے پودوں کو مطلوبہ دورانئے کی ٹھنڈ نہ ملے تو پودے پھل نہیں اٹھاتے

وسطی اور جنوبی پنجاب میں زیادہ سے زیادہ 300 سے 400 گھنٹے ٹھنڈ پڑتی ہے۔ اس آب و ہوا میں اکبری ورائٹی تو قطعی پھل نہیں اٹھائے گی۔ البتہ کم ٹھنڈ میں، پھل دینے والی ورائٹیوں کی کامیابی کے امکانات کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔

بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک سال سردی کا موسم ذرا طویل ہوا تو پودے نے پھل اٹھا لیا جبکہ دوسرے سال سردی کی شدت ذرا کم رہی اور پودا یکسر ہی پھل سے محروم رہا۔

یہاں ایک بات ضرور ذہن میں آتی ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب دنیا کے چپے چپے کا موسمی ریکارڈ دستیاب ہے، تو کیا اس ریکارڈ کی مدد سے یہ حساب کتاب نہیں لگایا جا سکتا کہ ایک علاقے کا پودا دوسرے علاقے میں کامیابی سے پھل دے پائے گا یا نہیں؟

جی بالکل لگایا جا سکتا ہے۔ اور سائنسدان اجنبی پودوں پر آزمائشی تجربات کرنے سے پہلے اس طرح کا حساب کتاب لازمی پیش نظر رکھتے ہیں۔ لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ تمام تر سائنسی جدت کے باوجود بھی یہ حساب کتاب بوجوہ حتمی نہیں ہوتے۔ حتمی طور پر کچھ کہنے سے پہلے لازم ہے کہ آپ آزمائشی طور پر پھل دار پودے لگائیں اور پھر مشاہدہ کریں کہ موجودہ آب و ہوا میں پودا تواتر کے ساتھ پھل دے رہا ہے یا نہیں۔ کامیاب آزمائش کے بعد ہی کاشتکاروں کو بلا جھجک باغات لگانے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ حتمی آزمائش سے قبل باغات لگانے میں ناکامی کے امکانات کو کسی صورت رد نہیں کیا جا سکتا۔

پستے کے درختوں پر آزمائشی تجربات بارانی ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ، چکوال میں گزشتہ 8 سال سے جاری ہیں۔ امریکہ سے ایسی ورائٹیاں منگوا کر کاشت کی گئی ہیں جن کی ٹھنڈے دورانیے کی طلب پنجاب میں پڑنے والے سردی سے قدرے مطابقت رکھتی ہے۔ پستے کی ان مختلف پیوند شدہ ورائٹیوں کو کھیت میں منتقل کئے ہوئے پانچ سال بیت چکے ہیں لیکن ابھی تک پودوں پر پھل نہیں آیا۔ مزید دو سال تک ان پودوں پر پھل آنے کی قوی امید ہے۔ مطلب یہ کہ پستہ 4 سال بعد نہیں بلکہ ممکنہ طور پر 7 سال بعد پھل ابتدائی پھل دینا شروع کرتا ہے۔

چکوال میں کاشت شدہ پستے کی کاشت وغیرہ سے متعلق تفصیلی ویڈیو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

پھل آنے کے بعد یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کیا پودے تواتر سے پھل اٹھا رہے ہیں؟ اور آیا ان پودوں سے اتنی پیداوار حاصل ہو رہی ہے کہ پستے کے باغات کو نفع بخش کہا جا سکے۔ اس سارے حساب کتاب کے بعد ہی پنجاب میں پستے کی کامیاب کاشت سے متعلق حتمی اعلان کیا جا سکتا ہے۔

اِدھر ہمارے ہاں یہ روائیت چل نکلی ہے کہ نرسری بان حضرات کہیں سے چند پودے درآمد کرلیتے ہیں۔ اور جیسے ہی ان پودوں کے پتے اور شاخیں نکلتی ہیں تو کامیابی کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ فیس بک پر پودوں کی تصویریں شیئر کرتے ہیں، کاشتکاروں کو سبز باغ دکھاتے ہیں اور سینکڑوں پودے تیار کر کے برائے فروخت کی اشتہاری مہم چلا دیتے ہیں۔ اور اس اشتہاربازی میں ان پودوں کی ایسی ایسی خوبیاں گنواتے ہیں جن کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر پستے کے حوالے سے کچھ باغبان حضرات دعوی کر رہے ہیں کہ انہوں نے بیرون ملک سے پستے کے ایسے ہائبرڈ پودے منگوا لئے ہیں جنہیں پھل دینے کے لئے نر پودے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ دعوی قطعی درست نہیں ہے۔ دنیا میں پستے کے دو بڑے تحقیقی ادارے ایک ایران اور دوسرے امریکہ میں کام کر رہے ہیں۔ یہ بات مستند ہے کہ ابھی تک پستے کا کوئی ایسا پودہ وجود میں نہیں آیا جسے پھل دینے کے لئے نر پودے کی ضرورت نہ ہو۔ البتہ نر پودے کی شاخ، مادہ پودے پر قلم کی جا سکتی ہے۔ اس طرح کے غیر مستند دعوے کرنے کا مقصد زیادہ سے زیادہ کاشتکاروں کو اپنی طرف راغب کرنا ہوتا ہے۔ اور دوسرا نئے پروموٹ کئے جانے والے پودے چونکہ عام دستیاب نہیں ہوتے اس لئے انہیں من مانی قیمت پر فروخت کر کے کروڑوں روپے بنائے جاتے ہیں۔ سادہ لوح، کم پڑھے لکھے اور صاحب حیثیت کاشتکار ایسی اشتہاری مہموں کا سب سے پہلا شکار ہوتے ہیں۔

باغ لگ جانے کے بعد یہ کاشتکار، حالات اورآب و ہوا کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ قانون کمزور ہے اس لئے ایسے باغات پر پھل نہ آنے کی صورت میں کاشتکاروں کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا۔ ناکامی کی صورت میں، پودوں کو اکھاڑ پھینکنے کے سوا کاشتکاروں کے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ، کاشتکارایک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے، نرسری بان کو گالیاں دے کر دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ اس طرح کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر نظر آتی رہتی ہیں۔ لیکن کاشتکار کے پیسے اور وقت کا کس قدر نقصان ہوا ہے؟ اس بات کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔

اس لئے میری کاشتکاروں سے درخواست ہے کہ اچھی طرح چھان پھٹک کر فیصلہ کریں۔ کم سے کم اس وقت تک باغات نہ لگائیں جب تک کہ پودوں پر لگا ہوا پھل اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔

ہمارے ہاں جدت پسند نرسری بانوں کی خدمات بھی لائق تحسین ہیں۔ نجی سطح پر اجنبی پودوں کی آزمائش کے حوالے سے چند کامیابیاں بھی انہوں نے حاصل کی ہیں۔ لیکن میں ان سے دست بستہ اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی بوٹی کے چکر میں کاشتکار کا بکرا ذبح نہ کیا کریں۔ اور راتوں رات امیر بننے کے چکر میں جلد بازی کا راستہ چھوڑ دیں۔ نئے تجربات ضرور کریں، لیکن حتمی کامیابی سے پہلے پودوں کی فروخت سے قطعی اجتناب کریں۔ اس سے آپ کو دو چار سال صبر کی زحمت تو ضرور اٹھانا پڑے گی۔ لیکن یاد رکھیں صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔

واقعہ یہ بھی ہے کہ اجنبی پودوں کی بلا روک ٹوک درآمد، نسل کشی اور کاشت سے پاکستان میں ایسے کیڑوں اور بیماریوں نے جگہ بنا لی ہے جن کا اس سے پہلے یہاں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ زرعی سائنسدان تو آزمائشی تجربات میں اس بات کا پورا خیال رکھتے ہیں کہ اجنبی پودا ہر طرح کے حشرات اور بیماریوں کے خلاف قابل قبول قوت مدافعت رکھتا ہو، جبکہ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر نرسری بان اس پہلو پر توجہ نہیں دیتے۔ میرا نرسری بانوں کو مشورہ ہو گا کہ وہ آزمائشی پودوں کو اس حوالے سے بھی پرکھنے کا ہنر حاصل کریں۔ اگر اس سلسلے میں کسی پروفیشنل کی خدمات حاصل کر لی جائیں تو یہ سب سے بہتر ہو گا۔

کاشتکاروں کے لئے مشورہ

کاشتکاروں کے لئے مشورہ یہی ہے کہ پستے کی کامیاب کاشت کا دعوی کرنے والے نرسری بانوں سے ان کے دعوی کا ثبوت طلب کریں۔ اور تب تک باغات لگانے کی طرف نہ جائیں جب تک کہ پنجاب یا سندھ میں پستے کے پودے پر لگا ہوا پھل اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ لیکن اگر آپ پھر بھی پستہ کاشت کرنا چاہتے ہیں تو چند پودے آزمائشی طور پر لگا لیں۔ میں زیادہ سے زیادہ 10 پودے لگانے کا مشورہ دوں گا۔ اس کے بعد چند سال انتظار کریں اور دیکھیں کہ موجودہ آب و ہوا میں پودے پھل اٹھا رہے ہیں یا نہیں؟ کامیاب آزمائش کے بعد باغات لگانے کا فیصلہ کریں۔ اس میں آپ کے لئے زیادہ عافیت ہے۔

تحریر

ڈاکٹر شوکت علی

ماہرِ توسیعِ زراعت، فیصل آباد

اظہارِ تشکر

جناب محمد عقیل فیروز، سینئر سائنٹسٹ (ہارٹی کلچر)، بارانی ایگری کلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ، چکوال

جناب فخرالدین رازی، اسسٹنٹ پروفیسر/ماہر اثمار، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

جناب امجد علی، پروفیسر (ریٹائرڈ)، یونیورسٹی آف ایگری کلچر، کوئٹہ، بلوچستان

جناب ڈاکٹر حفیظ الرحمن، ڈائریکٹر ہارٹی کلچر، پاکستان ایگری کلچرل ریسرچ کونسل، اسلام آباد

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں