پاکستان میں دھان کی فی ایکڑ اوسط پیداوار اور اصل حقائق

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے مطابق دنیا میں 117 ممالک چاول پیدا کرتے ہیں جن میں سے پہلے15 ممالک کی پیداوار، نیچے والے گراف میں دکھائی گئی ہے۔ ان میں سے چین پہلے، بھارت دوسرے اور پاکستان نویں نمبر پر ہے۔

بحوالہ ایف اے او سٹیٹ: یہ پیداوار چاول کی نہیں بلکہ مونجی کی ہے

اب ہم مزید دیکھتے ہیں کہ دھان پیدا کرنے والے دنیا کے پہلے15 ممالک کی فی ایکڑ اوسط پیداوار کیا ہے؟

بحوالہ ایف اے او سٹیٹ: یہ پیداوار چاول کی نہیں بلکہ مونجی کی ہے

دھان کی فی ایکڑ اوسط پیداوار کے لحاظ سے امریکہ پہلے نمبر پر ہے۔ پاکستان کا بارہواں نمبر ہے جو ویت نام، بنگلہ دیش، بھارت، فلپائن اور برما سے بھی پیچھے ہے۔ ہمارے ہاں زرعی تبصرہ نگار جب دیکھتے ہیں کہ پاکستان ویت نام، بنگلہ دیش اور برما جیسے ممالک سے بھی پیچھے ہے تو پھر حکومتی زرعی اداروں کی شامت آ جاتی ہے۔ دھان کی پیداوار بڑھانے کے ذمہ دار زرعی اداروں کو سخت سست کہا جاتا ہے اور اکثر اوقات یہ غیر منصفانہ تنقید، اداروں کی نجکاری یا زرعی ٹرانسفارمیشن جیسی تجاویز کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔

بات یہ ہے کہ اتنے سادہ اور سرسری انداز سے کیا گیا تجزیہ انتہائی بچگانہ اور گمراہ کن ہے۔ یہ مضمون لکھنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ پاکستان میں دھان کی فی ایکڑ اوسط پیداوار کے حوالے سے اصل حقائق کو سامنے لایا جائے۔

بات یہ ہے کہ دنیا میں کئی اقسام کے چاول کاشت ہوتے ہیں۔ سائنسی حوالے سے تو بات خاصی پیچیدہ ہے، لہذا سمجھنے کے لئے ہم چاول کو دو بڑے گروپوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک موٹا چاول اور دوسرا خوشبودار چاول۔ چند ملکوں کو چھوڑ کر باقی دنیا میں موٹا چاول کاشت ہوتا ہے۔ وہ ممالک جو خوشبودار چاول پیدا کرتے ہیں ان میں پاکستان، بھارت، تھائی لینڈ اور امریکہ قابل ذکر ہیں۔ خوشبودار چاولوں کا بادشاہ باسمتی چاول ہے جو صرف پاکستان اور بھارت کے مخصوص علاقوں میں پیدا کیا جا سکتا ہے۔

موٹے چاول کی فی ایکڑ پیداوار زیادہ ہوتی ہے لیکن یہ ہلکے معیار کا چاول مانا جاتا ہے جبکہ خوشبودار خصوصا باسمتی کی اوسط پیداوار موٹے چاول سے خاصی کم ہوتی ہے لیکن کوالٹی سے لحاظ سے یہ دنیا کا نمبرایک چاول ہے۔

عالمی منڈی میں چاولوں کی قیمتیں کوالٹی کے لحاظ سے ہی طے ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ قیمت باسمتی چاول کو ملتی ہیں۔ اس کے بعد امریکہ اور تھائی لینڈ کے ہلکی خوشبو والے چاولوں کی باری آتی ہے۔ جبکہ عالمی منڈی میں سب سے سستا فروخت ہونے والا موٹا چاول ہے۔

بحوالہ ایگری کلچر مارکیٹنگ انفارمیشن سسٹم پنجاب: یہ مونجی کی نہیں بلکہ چاول کی قیمت ہے۔

اوپر دئیے گئے گراف میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے 82 فیصد چاول (باسمتی) کی عالمی منڈی میں قیمت 39 ڈالر فی من ہے۔ جبکہ امریکہ میں پیدا ہونے والے ہلکے خوشبودار چاول کی فی من قیمت 34 ڈالر ہے۔ اسی طرح تھائی لینڈ میں پیدا ہونے والے ہلکی خوشبو والے چاول کی قیمت 19 ڈالر فی من ہے۔ دیگر تمام ممالک میں زیادہ تر موٹا چاول پیدا ہوتا ہے لہذا وہاں کے پیدا شدہ چاول عالمی منڈی میں 18 ڈالر فی من کے حساب سے بکتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ بھارت میں بھی باسمتی چاول پیدا ہوتا ہے لیکن وہاں 97فیصد موٹا چاول ہی کاشت کیا جاتا ہے۔ لہذا مجموعی طور پر بھارت کے چاول کی قیمت موٹے چاول کے حساب سے لگائی گئی ہے۔

آپ کو اندازہ ہو چکا ہو گا کہ جب عالمی سطح پر چاول کی فی ایکڑاوسط پیداوار کا ذکر ہوتا ہے تو پھر ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ کس ملک میں کونسا چاول اگایا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ موٹا چاول کاشت کریں یا باسمتی چاول ۔ ۔ ۔ اصل سوال فی ایکڑ اوسط پیداوار کا نہیں ہے۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آپ نے چاول کے ایک ایکڑرقبے سے اوسطا کتنی آمدن حاصل کی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم باسمتی چاول، ہلکی خوشبو والے امریکی و تھائی چاول اور موٹے چاول کی فی ایکڑ آمدن کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ کون سا ملک کہاں کھڑا ہے۔

یہ آمدن، چاول کی فی ایکڑ اوسط پیداوار کو عالمی منڈی میں گزشتہ 5 سال کی اوسط قیمت سے ضرب دے کر حاصل کی گئی ہے

اوپر دئیے گئے گراف میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان، دنیا کے سب سے زیادہ چاول پیدا کرنے والے 15 ممالک میں فی ایکڑ اوسط آمدن کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے۔مصر کا دوسرا نمبر ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ پاکستان میں باسمتی اوسطا 110 دن جبکہ مصر میں اوسطا 170 دن کی فصل ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اوسط آمدن کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ چاول کی پیداوار کے حوالے سے زرعی ادارے ناکام ہو رہے ہیں، یہ بات حقیقت کے منافی اور زرعی اداروں کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔

آئندہ مضمون میں پاکستان میں دھان کے تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے گی انشاء اللہ ۔

تحریر

ڈاکٹر شوکت علی

ماہر توسیع زراعت، فیصل آباد

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں