خبردار: چینی کی وجہ سے موٹاپا اور موٹاپے کہ وجہ سے 10 بیماریاں

پاکستان میں تقریباََ دو کروڑ مرد اور تین کروڑ عورتیں موٹاپے کا شکار ہیں.
موٹاپا، جسے پاکستان میں عام طور پر کوئی بیماری نہیں سمجھا جاتا . . . دراصل بیماریوں کی ماں ہے.
موٹاپے میں مبتلا شخص شوگر، بلڈ پریشر، دل، گردے، کینسر، جگر، پِتہ، بانجھ پن اور سانس کی بیماریوں میں باآسانی مبتلا ہو جاتا ہے.
دنیا میں موٹاپے کی وجہ سے سالانہ 34 لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں.
موٹاپے کا اصل سبب کیا ہے؟
ویسے تو موٹاپے کے کئی اسباب ہیں. لیکن تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ چینی اور چینی ملے مشروبات موٹاپے کی اہم وجہ ہیں.
پاکستانی تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارے ہاں سفید چینی کے علاوہ پیپسی، کوکا کولا، سپرائیٹ اور اسی طرح کے چینی سے بنے ہوئے جوس وغیرہ موٹاپے کا سبب ہیں.
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ چینی سے مشروبات بنانے والی کمپنیوں کا گٹھ جوڑ، یہاں بھی تحقیق کو منتازعہ بنانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے.
اس بات سے حال ہی میں پلاس میڈیسن میں چھپنے والی ایک تحقیق کے ذریعے پردہ اٹھایا ہے.
پلاس میڈیسن میں یہ بتایا گیا ہے کہ کوکا کولا، پیپسی کولا، شوگر بیورو برطانیہ، یورپین مشروبات ایسوسی ایشن اور امریکہ مشروبات ایسوسی ایشن نے اپنی جیب سے پیسا لگا کر الگ الگ تحقیقات کروائیں کہ آیا چینی سے بنے مشروبات موٹاپے کا سبب ہیں یا کہ نہیں؟ گھریلو نوعیت کی ان تحقیقات کے نتائج ان کمپنیوں کے حق میں بتائے گئے ہیں. یعنی ان تمام تحقیقات میں یہ بات سامنے لائی گئی ہے کہ موٹاپے کی ذمہ دار چینی اور چینی ملے مشروب نہیں ہے. اس تحقیق سے عام لوگوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ آج جتنے چاہیں چینی والے مشروبات ڈکار جائیں اس وجہ سے آپ پر موٹاپا نہیں آنے والا.
جبکہ حیران کن بات یہ ہے کہ دیگر تحقیقات جن کے پیچھے چینی سے مشروبات بنانے والی کمپنیوں کا پیسہ نہیں تھا ان میں صاف صاف یہ نتایج اخذ کئے گئے ہیں چینی ملے مشروبات موٹاپے کی اصل وجہ ہیں.
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈسٹری تحقیق پر پیسہ اس لئے لگاتی ہے تاکہ اپنے مطلب کے نتائج حاصل کر کے اپنے کاروبار اور منافع میں اضافہ کر سکے؟ اور کیا اسے اس منافع کے لئے انسانی جانوں کی بھی فکر نہیں ہے؟
اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ انڈسٹری کا تحقیق میں پیسہ لگانے کے پیچھے ذاتی نوعیت کے مفادات کار فرما ہوتے ہیں.
لہذا ضروری ہے کہ ان کمپنیوں کی تحقیق پر اندھا دھند ایمان لانے کی بجائے حکومت از خود تحقیق پر پیسا لگائے اور اس طرح کے تحقیقی منصوبے سرکاری تعلیمی اور تحقیق اداروں کے ہاتھوں مکمل کروائے جائیں تاکہ وہ غیر جانبدارانہ تحقیق کر کے عوام کو بتائیں کہ کیا ان کی صحت کے لئے فائدہ مند ہے اور کیا کچھ ان کے لئے نقصان دہ ہے.
سو گلاں دی اکو گل
اگر آپ موٹاپے اور موٹاپے سے پیدا شدہ بیماریوں سے بچنا چاہتے ہیں تو آج ہی چینی ملے مشروبات اور چینی وغیرہ کا استعمال ترک کر دیں یا انتہائی کم کر دیں.
کیونکہ ایگری اخبار آپ کی صحت کے لئے نیک تمنائیں رکھتا ہے.

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں