شہتوت کی غذائیت جان کر آپ سیب کو بھول جائیں گے

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ صبح کو روزانہ ایک سیب کھانے والے شخص کو کبھی ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا پڑتا۔ لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے پھل کے بارے میں بتائیں گے جو پنجاب سمیت پاکستان میں کم و بیش ہر جگہ پایا جاتا ہے اور جس کی غذائیت سیب کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

ہم آپ کے سامنے چار عدد گراف پیش کریں گے۔ ہر گراف میں بھورا رنگ شہتوت جبکہ نیلا رنگ سیب کو ظاہر کرے گا۔ میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ شہتوت اور سیب کی غذائیت کا موازنہ آپ کے سب اندازے غلط ثابت کر دےگا۔

اس گراف میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شہتوت میں کیلشیم کی مقدار سیب کے مقابلے میں 8 گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح شہتوت میں میگنیشیم 3 گنا زیادہ، فاسفورس بھی 3 گنا زیادہ، پوٹاشیم تقریباََ 2 گنا زیادہ، سوڈیم تقریباََ 20 گنا زیادہ اور وٹامن سی تقریباََ 8 گنا زیادہ ہے۔

آئیے اب دوسرا گراف دیکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ چکنائی دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک وہ چکنائی جو صحت کے لئے نقصان دہ ہے اور دوسری وہ جو انسانی صحت کے فائدہ مند ہے۔

اوپر والے گراف میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ شہتوت میں پولی صحت بخش چکنائی سیب کی نسبت تقریباََ 4 گنا زیادہ، مانو صحت بخش چکنائی بھی تقریباََ 4 گنا زیادہ جبکہ نقصان دہ چکنائی تقریباََ اتنی ہی ہے جتنی کہ سیب میں ہے۔

اسی طرح شہتوت میں وٹامن بی اور تھا یامین کی مقدار بھی سیب سے قدرے زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ شہتوت میں رائیبو فلیون اور زنک کی مقداریں بھی سیب کے مقابلے میں تقریباََ 3 گنا زیادہ پائی جاتی ہیں۔

آئیے اب اگلا گراف دیکھتے ہیں۔

اس گراف دیکھا جا سکتا ہے کہ شہتوت میں وٹامن ای کی مقدار سیب کے مقابلے میں تقریباََ 4 گنا، آئرن کی مقدار تقریباََ 8 گنا، پروٹین کی مقدار تقریباََ 7 گنا اور نیاسن کی مقدار تقریباََ 5 گنا زیادہ ہے۔ شہتوت میں ریشے کی مقدار کسی قدر کم ضرور ہے لیکن اتنی بھی کم نہیں ہے۔

اب ہم آپ کو آخری گراف دکھاتے ہیں۔

آخری گراف میں بھی شہتوت کے پھل میں وٹامن۔ کے کی مقدار سیب کے مقابلے میں تقریباََ 4 گنا، وٹامن اے کی مقدار تقریباََ 2 گنا اور فولک ایسڈ کی مقدار بھی سیب سے دو گنا زیادہ ہے۔

دراصل یہی وہ غذائیت ہے جو شہتوت کو یونانی ادویات میں شاہ توت بنا دیتی ہے۔ جدید سائنس کے حوالے سے بات کی جائے تو شہتوت دنیا کے ان چند پھلوں میں شامل ہے جس پر دنیا کے ہزاروں سائنس دانوں نے بیش بہا تحقیق کرنے کے بعد اس کی افادیت کو ثابت کیا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نہ صرف شہتوت کو غذائی اہمیت کو پہچانیں بلکہ اسے اس طرح سے اجاگر کریں کہ شہتوت عام آدمی کی خوراک کا لازمی جزو بن جائے۔ دنیا میں شہتوت براہ راست پھل کے علاوہ جام، جیلی، جوس و دیگر شکلوں میں بھی استعمال کیا رہا ہے۔

شہتوت کی تمام تر غذائیت کے سبب یہ انسانی جسم کے لئے کس قدر فائدہ مند ہے اور شہتوت کے استعمال سے کن کن بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے یا نجات حاصل کی جا سکتی ہے؟ آئندہ کسی مضمون میں اس پر بات ہو گی انشاء اللہ۔

اس مضمون میں پیش کی گئی تمام تر معلومات دنیا کےایک معتبر ادارے یونائیٹڈ سٹیٹس ڈیپارٹمنٹ آف ایگری کلچر کے قومی غذائی ڈیٹا بیس سے لی گئی ہیں۔

تحریر

ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، فیصل آباد

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں