پنجاب میں مانجھلی کے درخت لگائیں اور لاکھوں کمائیں

کیا آپ نے مانجھلی یا مانجھداڑی کا نام سنا ہے؟
ہو سکتا ہے کہ سندھ کے زیادہ تر کاشتکار اس نام سے واقف ہوں لیکن پنجاب کے تمام کاشتکاروں کے لئے مانجھلی ایک بالکل نئی چیز ہے.
جی ہاں! مانجھلی ایک درخت ہے جو ابتدائی دو چار مہینے بالکل جنتر کی طرح معلوم ہوتا ہے. لیکن جب یہ اپنا قد کاٹھ دکھانا شروع کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنتر نہیں بلکہ مانجھلی ہے.

ویسے تو سندھ کے زیادہ تر اضلاع میں عموماََ یہ درخت دیکھا جا سکتاہے لیکن ضلع نوشہرو فیروز کے کاشتکار اسے باقاعدہ طور پر کاشت کر کے لاکھوں روپے کما رہے ہیں.
بیان کیا جاتا ہے کہ نوشہروفیروز میں پلائی شیٹ، کاغذ و گتا بنانے والے کارخانہ داروں نے کسانوں کو یہ راہ دکھائی ہے کہ وہ مانجھلی کاشت کر کے بھی پیسے کما سکتے ہیں. اس سے ایک طرف تو مل والوں کو خام مال مل جاتا ہے اور دوسری طرف کسانوں کی جیب بھی اچھی خاصی گرم ہو جاتی ہے.
روائتی طور پر سندھ میں اس درخت کی لکڑی کا استعمال چھتیں بنانے تک محدود تھا. سندھ کے ہاری اپنے کچے گھروں کی چھتیں بنانے کے لئے مانجھلی کے درخت کے ڈنڈے کام میں لاتے تھے. لیکن جب سے لینٹر ڈالنے کے کام کا آغاز ہوا ہے مانجھلی سے پیدا ہونے والے ڈنڈوں‌ کی ڈیمانڈ اور زیادہ بڑھ گئی ہے. مانجھلی کے بانس نما موٹے موٹے ڈندوں کو لینٹر کی ٹیکیں دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے. واضح رہے کہ پنجاب میں یہی کام پاپولر کے ڈندوں سے لیا جاتا ہے جو زیادہ تر خیبر پختونخواہ سے پنجاب میں لائے جاتے ہیں.
آج کل فصلوں پر آندھیوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے بھی اس درخت کو لگائے جانے کا رواج چل پڑا ہے. ایسی بہت سی فصلیں جن کو آندھی سے زیادہ خطرات ہوتے ہیں وہاں کھیت کے ارد گرد مانجھلی کو ونڈ بریکر کے طور پر لگا یا جارہا ہے.
اس کے علاوہ مانجھلی کے ڈنڈوں کو ہائی ٹنل بنانے اور انگوروں کو بیلیں چڑھانے کے لئے بھی کام میں لایا جا سکتا ہے. اس درخت کے پتے جانور خاص طور پر بکریاں بڑے شوق سے کھاتی ہیں.
اس درخت کی سب سے حیران کن بات اس کا نہائیت تیزی سے بڑھنا ہے. سندھ میں عام طور پر ڈیڑھ سال کے مانجھلی درخت کو کاٹ کر بیچ دیا جاتا ہے. اس طرح سے آپ اس کو گنے جیسی ہی ایک فصل قرار دے سکتے ہیں کیونکہ گنے کی ستمبر کاشت بھی 14 سے 16 ماہ تک کھیت میں رہتی ہے.

کیا مانجھلی پنجاب میں کاشت کیا جا سکتا ہے؟

میں نے ذاتی طور پر پنجاب میں مانجھلی کا کوئی درخت نہیں دیکھا البتہ سندھ کے ایک ترقی پسند کاشتکار جناب نسیم شاہ، جن کا فیصل آباد میں آنا جانا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے فیصل آباد کے آس پاس مانجھلی کے درخت لگے ہوئے دیکھے ہیں.
ہو سکتا ہے کہ پنجاب میں کہیں نہ کہیں اکا دکا مانجھلی کے درخت موجود ہوں لیکن پنجاب میں بڑے پیمانے پر مانجھلی کی کاشت کا تجربہ میرے علم کے مطابق جناب ساجد اقبال سندھو نے کیا ہے. ساجد اقبال سندھو زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے گریجوایٹ ہیں اور ٹنل فارمنگ کے وسیع کاروبار سے وابستہ ہیں.
انہوں نے ضلع چنیوٹ میں سات ایکڑ رقبے کے اوپر مانجھلی کے درخت کاشت کر رکھے ہیں.

چنیوٹ میں سات ایکڑ پر لگے ہوئے مانجھلی کے درختوں کا ایک منظر

میں نے ذاتی طور پر اس فارم کا دورہ نہیں کیا البتہ ساجد اقبال سندھو کے مطابق ان کا یہ تجربہ مکمل طور کامیاب رہا ہے اور اب یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ پنجاب میں بھی مانجھلی کو کمرشل بنیادوں پر کاشت کی جا سکتا ہے.

مانجھلی کتنے سالوں میں کاٹ کر بیچا جا سکتا ہے؟

ضلع نوشہرو فیروز سندھ میں موجود زراعت افسر جناب جُوڑیال لاکھ کے مطابق نوشہرو میں زیادہ تر کاشتکار 18 ماہ کے مانجھلی درخت کو کاٹ کر بیچ دیتے ہیں.
ساجد اقبال سندھو کے مطابق فروری میں کاشت کیا ہوامانجھلی کا پودا صرف 10 مہینوں میں 20 فٹ تک قد کر لیتا ہے. اس لحاط سے مانجھلی کا درخت کونوکارپس سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھنے والا درخت ہے. 18 ماہ میں اس کے بالے لینٹر میں ڈالنے یا چھتوں میں ڈالنے کے قابل ہو جاتے.
ساجد اقبال سندھو کے مطابق مانجھلی دو سال میں تیار ہو جاتا ہے. انہوں نے چند ماہ قبل مانجھلی کا ایک ایکڑ تقریباََ اڑھائی سال کی عمر میں فروخت کیا ہے.
یہ بات تو واضح ہے کہ اڑھائی سال کی عمر کا درخت ڈیڑھ سال والے درخت سے یقیناََ مہنگا فروخت ہو گا.

مانجھلی کس طرح کی زمین میں کاشت ہو سکتا ہے؟

اس حوالے سے میری سندھ کے کئی احباب سے گفتگو ہوئی ہے.
سندھ کے ترقی پسند کاشتکار جناب ریاض شاہد، زراعت افسر جناب لونے مَل، ضلع عمر کوٹ سندھ اور زراعت افسر جنا ب جوڑیال لاکھ نوشہرو فیروز سندھ کے مطابق مانجھلی کادرخت سفیدے کی طرح کمزور اور ہلکی کلراٹھی زمینوں میں بھی کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے.
جبکہ پنجاب میں مانجھلی کاشت کرنے والے زرعی ماہر جناب ساجد اقبال سندھو کا کہنا ہے کہ مانجھلی کاشت کرنے کے لئے اچھی زمین درکار ہوتی ہے. میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر کوئی کاشتکار پنجاب کی کلراٹھی زمین میں بھی مانجھلی کاتجربہ کرنا چاہتا ہے تو سندھی ماہرین کی بات سامنے رکھتے ہوئے اسے دو چار کنال پر یہ تجربہ کر گزرنا چاہئے.

مانجھلی کو کتنا پانی چاہئے؟

یہ بات ذہن میں رہے کہ مانجھلی بہر حال ایک درخت ہے اور ظاہر ہے کہ درختوں کو عموماََ فصلوں سے کم پانی چاہئے ہوتا ہے.
مانجھلی کے کاشتکاروں اور ماہرین کے مطابق ابتدائی وقت میں مانجھلی کو ہفتہ وار پانی دینا چاہئے. البتہ جب درخت اپنی جڑ بنا لے تو پھر اس کا وقفہ بڑھایا جا سکتا ہے اور اسے 15، 21 یا 30 دن بعد بھی پانی لگایا جا سکتا ہے.
جب درخت تھوڑا بڑا ہو کر چھتری بنا لیتا ہے تو پھر اس کو ایک مہینے بعد بھی پانی دیا جا سکتا ہے. لیکن ظاہر ہے اگر آپ درخت کا نمک پانی ذرا کھلا رکھیں تو درخت پیداوار بھی اچھی دیتا ہے.
زراعت افسر جوڑیال لاکھ کے مطابق اس درخت کو ٹیوب ویل کے ہلکے کھارے پانی سے بھی پالا جا سکتا ہے.

مانجھلی کے درخت کتنے فاصلے پر لگائے جاتے ہیں؟

زراعت افسر جوڑیال لاکھ کے مطابق نوشہرو فیروز میں مانجھلی کے پودے ڈیڑھ سے دو فٹ کے فاصلے پر لگائے جاتے ہیں. اس طرح ایک ایکڑ میں تقریبا 10 سے 12 ہزار پودے لگتے ہیں.
ایک بات تو سمجھ میں آ رہی ہے کہ اگر آپ نے 18 ماہ کے بعد ہی فصل کی کٹائی کرنی ہے پھر تو یہ فاصلہ مناسب معلوم ہوتا ہے لیکن اگر آپ نے اسے تین سال تک لے کر جانا ہو تو پھر یہ فاصلہ کم ہے.

ڈیڑھ فٹ کی کھالی پر لگے ہوئے ماجھلی کے درخت۔ ایک کھالی سے دوسے کھالی کا فاصلہ 6 فٹ رکھا گیا ہے

جناب ساجد اقبال سندھو نے اپنے فارم پر مانجھلی لگانے کے لئے قطار سے قطار کا فاصلہ 6 فٹ اور پودے سے پودے کا فاصلہ 3 فٹ رکھا ہے.
ہر چھ فٹ کے کوٹھے یا بیڈ کے بعد ڈیڑھ فٹ کی کھالی بنا کر اس کے دونوں طرف پودے لگائے گئے ہیں.
اس طرح ایک ایکڑ میں تقریباََ 3700 پودے لگائے جا سکتے ہیں.

مانجھلی کے ایک ایکڑ سے کتنی آمدن ہو گی؟

زراعت افسر جوڑیال لاکھ کے مطابق نوشہرو فیروز میں 18 ماہ کے مانجھلی کا ایکڑ تقریبا ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان بک جاتا ہے.
آئیے اس کا حساب ایک اور طرح سے لگاتے ہیں.
مانجھلی کے دو سال کے درخت کا وزن اسطاََ 25 کلو فی درخت تک ہو جاتا ہے. اس طرح 3500 تیار درختوں کا کل وزن تقریباََ 2200 من بنے گا.

پنجاب میں اگر لکڑ کی منڈی کو سامنے رکھا جائے تو گیلے بالن کا ریٹ کم از کم 160 روپے سے 200 روپےفی من کےدرمیان ہے.
اس طرح آپ کی 2200 من لکڑ تقریباََ ساڑھے تین لاکھ روپے سے لیکر ساڑھے چار لاکھ روپے کے درمیان بڑی آسانی سے بک سکتی ہے.
جیسا کہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ پنجاب میں لینٹر کو ٹیکیں دینے کے لئے پاپولر کے ڈنڈے استعمال کئے جاتے ہیں. فیصل آباد کی مارکیٹ میں پاپولر کا 12 فٹ لمبا ڈنڈا 350 روپے اور 10 فٹ لمبا ڈنڈا 250 روپے میں بک رہا ہے.
سندھ میں مانجھلی کے ڈنڈے لینٹر کو ٹیکیں دینے کے لئے کامیابی سے استعمال کئے جا رہے ہیں.

سندھ میں نہر کے پل پر لینٹر ڈالنے کے لئے ماجھلی کے ڈنڈے ٹرک سے اتارے جا رہے ہیں

اس طرح مانجھلی پنجاب میں پالولر کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے.
اگر کسان کے کھیت سے مانجھلی کا ایک ڈنڈا 100 روپے سے لیکر 140 روپے کے درمیان بھی بکے تو پھربھی 3500 تیار درختوں سے ساڑھے تین لاکھ سے لیکر 5 لاکھ روپے تک کی آمدن ہو سکتی ہے. واضح رہے کہ ڈنڈوں کے بالن کی آمدن اضافی ہوگی.

مانجھلی کب کاشت کیا جا سکتا ہے؟

مانچھلی پنجاب میں فروری مارچ سے لیکر نومبر تک کسی بھی مہینے کاشت کیا جا سکتا ہے. سندھ میں
زیادہ تر کاشتکار اسے کپاس کے ساتھ ہی مارچ اپریل میں فصل کھیت کے کناروں پر کاشت کر دیتے ہیں. کپاس کی چنائی کے بعد جب گندم کی بجائی کی جاتی ہے تو مانجھلی کھیت کے کناروں پر ہی کھڑا رہتا ہے. گندم کی کٹائی کے بعد مانجھلی کی کٹائی کر کے کاشتکار اس کے ڈنڈے بیچ دیتے ہیں. سندھی کاشتکاروں کے مطابق مانجھلی کا ایک ڈنڈا 100 روپے سے لیکر 150 روپے تک بک جاتا ہے.

پنجاب میں مانجھلی کی نرسری کہاں سے ملے گی؟

مانجھلی کی کاشت نرسری کے ذریعے نہیں بلکہ براہ راست بیج کے ذریعے ہو تی ہے. ایک ایکڑ مانجھلی کاشت کرنے کے لئے 10 سے 12 کلو بیج کی ضرورت ہوتی ہے.
پنجاب میں اگر آپ بیج حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ساجد اقبال سندھو سے رابطہ کیا جا سکتا ہے.
ساجداقبال سندھو کا رابطہ نمبر یہ ہے. 03218669044
ان کے ہاں سے ایک ایکڑ کا بیج تقریبا 2 ہزار میں مل جائے گا.
واضح رہے کہ مانجھلی کا بیج بیچنا جناب ساجد اقبال سندھو کا کاروبار نہیں ہے. وہ مانجھلی کو پنجاب میں فروغ پاتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں. وہ کسی کاروباری نہیں بلکہ رضاکارانہ جذبے کے ساتھ یہ کام کر رہے ہیں.

تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
ماہرِ توسیعِ زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

اظہار تشکر
1. جناب ساجد اقبال سندھو، چیف ایگزیکٹو، گرین سرکل
2. جناب لونے مل، زراعت افسر، ضلع عمر کوٹ سندھ
3. جناب جوڑیال لاکھ، زراعت افسر، نوشہرو فیروز سندھ
4. جناب نسیم شاہ، ترقی پسند کاشتکار، سندھ
5. تصاویر، جناب ریاض شاہد، ترقی پسند کاشتکار سندھ و ساجد اقبال سندھو فیصل آباد

بغیر اجازت اس آرٹیکل کو کہیں شائع کرنا یا ویڈیو بنانے کے لئے استعمال کرنا قانوناََ و اخلاقاََ درست نہیں.
البتہ اس مضمون کو شیئر کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے.
جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں.

Share Please

پنجاب میں مانجھلی کے درخت لگائیں اور لاکھوں کمائیں” ایک تبصرہ

  1. شکریہ جناب آپ اچھی کوشش کر رہے ہیں مجھے اس پودے کی اور تصویر دیکھنی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں