مکئی کے ہائبرڈ بیجوں کی درآمد: ذمہ دار کون؟

خلاصہ

پاکستان اپنی ضروریات کا 85 فیصد مکئی کا ہائبرڈ بیج باہر سے درآمد کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک کو اگر 8 ارب روپے سالانہ کا بیج درآمد کرنا پڑ رہا ہے تو پھر نالائقی کس کی ہے؟ مکئی پر تحقیق کرنے والے اداروں کی یا حکومتوں کی؟ حکومت کہتی ہے کہ اس ادارے کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے لیکن ادارے میں کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا کام تو بین الا قوامی معیار کو چھو رہا ہے۔ اور بیج کی درآمد کی ذمہ دار حکومتوں کی ناقص پالیسیاں ہیں۔ حکومت ادارے کو نجکاری کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں مگر زرعی سائنسدان سراپا احتجاج ہیں۔ اس مضمون میں تحقیقاتی ادارہ برائے مکئی، جوار و باجرہ ساہیوال کی کارکردگی پر ایک نظر ڈال کر ہابرڈ بیج کی درآمد کے حقیقی اسباب کو واضح کیا گیا ہے۔ مضمون کے آخر میں پاکستان کو ہائبرڈ بیج میں خود کفیل بنانے کے لئے تجاویز دی گئی ہیں۔

پاکستان نے گزشتہ سال (2020-2019)، 4 لاکھ 40 ہزار من مکئی کا ہائبرڈ بیج درآمد کیا جس پر ساڑھے 8 ارب روپے سے زائد کا زر مبادلہ خرچ کرنا پڑا۔ زیادہ تر یہ بیج امریکہ، تھائی لینڈ، ترکی اور انڈیا سے درآمد کیا گیا ۔

ارب روپے سے زائد کا زر مبادلہ خرچ کرنا پڑا۔ زیادہ تر یہ بیج امریکہ، تھائی لینڈ، ترکی اور انڈیا سے درآمد کیا گیا ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جیسا زرعی ملک اگر مکئی کا ہائبرڈ بیج حاصل کرنے کے لئے اربوں روپے، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جیبوں میں ڈال رہا ہے تو نالائقی کس کی ہے؟ مکئی پر ریسرچ کرنے والے تحقیقاتی اداروں کی یا ارباب اختیار کی؟ آئیے اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان میں مکئی پر ریسرچ کرنے کے لئے ساہیوال میں قائم تحقیقاتی ادارہ برائے مکئی، جوار و باجرہ، ایک نمایاں اور قدیمی تحقیقی ادارہ ہے۔ اس ادارے نے 1940 میں مکئی پر تحقیق کا آغاز کیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد اس ادارے کی تحقیقی سرگرمیوں کو معطل کر دیا گیا۔ لیکن 7سال بعد 1954 میں ادارے کی سرگرمیاں پھر سے بحال ہو گئیں۔ جب پاکستان میں مکئی پر ہونے والی تحقیق کو معطل کیا جا رہا تھا تب امریکہ میں 100 فی صد رقبے پر ہائبرڈ مکئی کاشت ہو رہی تھی۔ بالآخر1959 میں، تحقیقاتی ادارہ برائے مکئی کو ہائبرڈ بیج بنانےکا ٹاسک دیا گیا۔ 1966 میں ہی اس ادارے نے مکئی کی ہائبرڈ ورائٹی بنا کر دنیا کو حیران کر دیا۔ 7 سال کے قلیل عرصے میں تیار کی جانے والے اس ورائٹی ”ڈبل کراس 59” کی پیداواری صلاحیت 76 من فی ایکڑ تھی۔ ٹھیک تین سال بعد 1969 میں ادارے نے دوسری دھماکہ دار ہائبرڈ ورائٹی “ڈبل کراس 697” متعارف کروا دی جس کی پیداواری صلاحیت 93 من فی ایکڑ تھی۔ واضح رہے کہ یہ ورائٹی، امریکی ورائٹیوں کے ٹکر کی ورائٹی تھی۔ 1966 سے لے کر آج تک یہ ادارہ 43 ورائٹیاں تیار کر چکا ہے جس میں 21 ہائبرڈ ورائٹیاں شامل ہیں۔ اس ادارے کی تیار کردہ مکئی کی حالیہ ورائٹیوں کی پیداواری صلاحیت 140من فی ایکڑ تک ہے۔

تحقیقاتی ادارہ مکئی، جوار و باجرہ ساہیوال میں تیار کی گئی مکئی کی ہائبرڈ ورائٹیاں

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان میں 1966 سے ہی مکئی کی ہائبرڈ ورائٹیاں تیار کی جا رہی ہیں تو پھر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی کون حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے کہ وہ یہاں اپنے ہائبرڈ بیج انتہائی مہنگے داموں کاشتکاروں کو فروخت کریں؟ اور اگر ہم نے ہائبرڈ بیج باہر سے ہی درآمد کرنا تھے تو پھر ہائبرڈ بیجوں کی تحقیق پر اربوں کھربوں روپے کا قومی سرمایہ جھونکنے کی کیا ضرورت تھی؟

پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو کاروبار کرنے کے لئے لائسنس دینے کا آغاز 1980 کی دہائی سے ہوا۔ ان کمپنیوں کو یہاں آنے کی اجازت اس لئے نہیں دی گئی تھی کہ ہمارے پاس ہائبرڈ بیج کی ٹیکنالوجی نہیں تھی۔ اس کی وجوہات کچھ اور ہوں گی جنہیں بہرحال تلاش کیا جانا چاہئے۔ پاکستان میں سب سے پہلی کمپنی، مانسینٹو تھی جسے 1984 میں بیج کا کاروبار کرنے کا لائسنس دیا گیا۔ جب مانسینٹو پاکستان میں فخریہ طور پر ہائبرڈ بیج متعارف کروا رہی تھی تب تک ساہیوال میں قائم تحقیقاتی ادارہ، مکئی کی تین کامیاب ہائبرڈ ورائٹیاں تیار چکا تھا۔ پائنئیر سیڈ (1989)، سنجنٹا (1991) اور آئی سی آئی(1998) کا پاکستان میں آنا تو بہت بعد کی باتیں ہیں۔

آج بھی جب یہ غیر ملکی کمپنیاں کاشتکاروں کو اربوں روپوں کا بیج فروخت کر رہی ہیں، تحقیقاتی ادارہ مکئی کی ہائبرڈ ورائٹیاں کسی بھی طرح ان سے پیچھے نہیں ہیں بلکہ بعض حوالوں سے تو زیادہ کامیاب ہیں۔ گزشتہ 6 سالوں میں اس ادارے نے خریف اور بہاریہ مکئی کی 8 ہائبرڈ ورائٹیاں کاشت کے لئے منظور کروائی ہیں۔

لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جب بھی مکئی کے ہائبرڈ بیجوں کی بھاری درآمد کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو انگلیاں ہمیشہ مکئی کے تحقیقیاتی اداروں کی طرف اٹھائی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تحقیقی اداروں کے ذمے جو کام تھا وہ تو بین الاقوامی معیار کو چھو رہا ہے۔ اب اگلا کام ارباب اختیار کا تھا کہ وہ ہائبرڈ بیج کی تجارتی پیمانے پر تیاری کے لئے پالیسیاں بناتے۔ ہائبرڈ بیج کی کمرشل پیداوار کے لئے کوئی سرکاری ادارہ بنایا جاتا یا پھر مقامی پرائیویٹ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جاتی۔ اور اگر یہ سارے کام نہیں ہو سکے تو اس کے جواب دہ حکومتی پالیسی ساز ہیں، تحقیقی ادارے ہرگز نہیں ہیں۔

اسے لاعلمی کی انتہا کہیے، ناعاقبت اندیشی کہیے یا کچھ اور کہ ایک مرتبہ پھر اصل مسئلے کی نشاندہی اور موزوں حل کی بجائے اسی تحقیقاتی ادارے کو لتاڑا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ادارے کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ اور کارکردگی بہتر بنانے کے نام پر ادارے کی اکھاڑ پچھاڑ ہونے جا رہی ہے جس سے نہ صرف یہ کہ ادارے کی جڑیں ہل کر رہ جائیں گی بلکہ قومی خزانے سے لگنے والے اربوں روپے بھی ضائع ہونے کا قوی امکان ہے۔ ادارے میں کام کرنے والے قابل زرعی سائنسدان سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں اور واویلا کر رہے ہیں کہ ادارے کو بچا ؤ ادارے کو بچاؤ ۔ ۔ ۔ لیکن حکومت اس کی ٹرانسفارمیشن پر تلی بیٹھی ہے۔

اصل مسئلہ کیا ہے؟

یہ بات درست ہے کہ تجارتی پیمانے پر مکئی کا زیادہ تر ہائبرڈ بیج پاکستان میں پیدا نہیں کیا جا رہا ۔ لیکن اس کی ذمہ داری تحقیقی اداروں کی بجائے براہ راست حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔آئیے اس بات کو ذرا تفصیل سے سمجھتے ہیں۔

جب تحقیقاتی ادارہ برائے مکئی نے 60 کی دہائی میں ہائبرڈ ورائٹیاں تیار کر لیں تو اس کے بعد اگلا مرحلہ تجارتی پیمانے پر ہائبرڈ بیج کی تیاری کا تھا۔ اس کام کے لئے ضروری تھا کہ ہائبرڈ سیڈ پروڈکشن کے لئے کوئی ادارہ بنایا جاتا۔ یا پھرپہلے سے موجود کسی سرکاری ادارے کی استعداد و صلاحیت میں اضافہ کر کے اسے ہائبرڈ سیڈ کی پروڈکش کے لئے تیار کیا جاتا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔ الٹا حکومت نے تھوڑا بہت بیج پیدا کرنے والے ویسٹ پاکستان ایگری کلچرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن جیسے سرکاری ادارے کو 1972 میں یہ فرما کر بند کر دیا کہ یہ ادارہ کام نہیں کرتا۔

سرکاری ادارے کو بند کرنے کے چند ماہ بعد حکومت نے ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے ادارہ براہ خوراک و زراعت سے بیج کا مسئلہ حل کرنے کے لئے رہنمائی کی دوخواست کی۔ ان دونوں عالمی اداروں نے بیج کی پیداوار نجی شعبے کے سپرد کرنے کی بھر پور وکالت کی۔

1976 میں حکومت پاکستان نے ورلڈ بینک سے 56 ملین ڈالر کی مالی امداد و تکنیکی معاونت قبول کر کے اُن کی ہدایات پر عملدرآمد شروع کر دیا جس سے بیج کی پیداوار سرکاری ہاتھوں سے نکل کر نجی ہاتھوں میں جانے کا عمل تیز ہو گیا۔

آج 45 سال بعد، میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ملک میں بیج کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ہمیں عالمی اداروں کی رہنمائی کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی؟ کیا ملک میں ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جو مسئلے کا حل پیش کر سکتا؟ کیا 70 کی دہائی میں ملک پر حکومت کرنے والے دماغ اس قدر بانجھ تھے کہ انہیں اس سادہ سے مسئلے کے حل کے لئے عالمی اداروں کی رہنمائی کے لئے درخواست گزارنا پڑی؟ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ مسئلہ قابلیت کا نہیں تھا۔ یا تو مسئلہ نفسیاتی نوعیت کا تھا، یا پھر چکر 56 ملین ڈالر کا تھا جو 1976 میں پاکستان کو موصول ہوئے۔

بہرحال ورلڈ بینک اور عالمی ادارہ خوراک و زراعت کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے بھی بہتری کا راستہ لیا جا سکتا تھا۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ ادارہ تحقیقاتِ مکئی میں تیار ہونے والی ہائبرڈ ورائٹیوں کے نر و مادہ پودے ملکی پرائیویٹ کمپنیوں کو دینے کی پالیسی متعارف کرواتی۔ ملکی کمپنیوں کو تجارتی پیمانے پر ہائبرڈ بیج تیار کرنے کی تربیت فراہم کی جاتی۔ اور یہ کمپنیاں مقامی سطح پر تیار شدہ ہائبرڈ بیج کاشتکاروں کو سستے داموں فروخت کرتیں۔ لیکن مقامِ افسوس کہ حکومت نے اس مقصد کے لئے کوئی پالیسی نہیں بنائی بلکہ بعد میں تحقیقی ادارے کو تجارتی پیمانے پر بیج بنانے سے بھی روک دیا اور یہ پابندی آج تک برقرار ہے۔

اس طرح کے حالات میں وہی کچھ ہو سکتا تھا جو بعد میں ہوا اور آج تک ہو رہا ہے۔ حکومت نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو لائسنس جاری کر دئیے کہ وہ ہائبرڈ بیج تیار کر کے یا باہر سے درآمد کر کے کاشتکاروں کو فروخت کریں۔ آج یہ کمپنیاں 10 سے 12 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے مکئی کا ہائبرڈ بیج فروخت کر رہی ہیں۔ جبکہ اس بیج کی پیداواری لاگت 2500 سے3000 روپے فی ایکڑ کے لگ بھگ پڑتی ہوگی۔

گزشتہ سات آٹھ سال سے ہماری حکومتیں محسوس کر رہی ہیں کہ ماضی کی پالیسیوں کے نتائج ٹھیک نہیں تھے۔ 2016 میں منظور ہونے والا پلانٹ بریڈرز رائٹس ایکٹ ایک قابل ستائش قدم تھا جس کے تحت اب تحقیقاتی ادارے، ملکی کمپنیوں کو اپنی ورائٹیاں فروخت کر سکتے ہیں تاکہ کمپنیاں تجارتی پیمانے پر ہائبرڈ بیج پیدا کر کے کاشتکاروں کو فروخت کر سکیں۔ لیکن ابھی بھی بہت سے مسائل ہیں۔ تحقیقاتی ادارہ برائے مکئی نے اپنا ایک ہائبرڈ بیج دو سال قبل بولی کے لئے پیش کیا تھا جس کی ایک ملکی کمپنی نے 54 لاکھ روپے بولی لگائی تھی۔ لیکن دو سال گزرنے کے باوجود ورائٹی کی منتقلی سرخ فیتہ عبور نہیں کر سکی۔ سنا ہے کہ اس میں رکاوٹ حکومت پنجاب کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے تھی۔ لیکن کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ اس بات کی چھان بین میں لگا رہے کہ اس ورائٹی کی منتقلی میں رکاوٹ کا اصل ذمہ دار کون تھا۔

؎ ہم کو کس دشت سے لائی تھیں کہاں چھوڑ گئیں

ان  ہواؤں  سے  کوئی  پوچھنے والا  بھی  نہیں

تحقیقاتی ادارہ مکئی میں گزشتہ 6 سالوں میں تیار کی گئی ورائٹیوں کی بنیادی معلومات

حل کیا ہے؟

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ پلانٹ بریڈرز رائٹس ایکٹ 2016 میں تحقیقی اداروں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ورائٹیاں بولی کے لئے پیش کر سکتے ہیں۔ اس ایکٹ میں ترمیم کر کے بولی کے عمل کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ ایکٹ میں یہ شق بھی شامل ہے کہ تحقیقی ادارہ غیر ملکی کمپنیوں کو ہائبرڈ بیج کے نر و مادہ پودے فروخت نہیں کرے گا۔ یہ نہائیت خوش آئند بات ہے۔ اس سے ملکی کمپنیوں کو ہائبرڈ بیج بنانے کے شعبے میں قدم جمانے کا موقع ملے گا۔ بلکہ میری تجویز تو یہ ہو گی کہ کم از کم 5 سال تک مقامی کمپنیوں کو ہائبرڈ بیج کی پیداوار کے لئے نر و مادہ پودے فروخت کرنے کی بجائے مفت تقسیم کئے جائیں۔ جب زیادہ سے زیادہ کمپنیاں ہائبرڈ بیج بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیں گی تو پھر بولی کا نظام متعارف کروایا جا سکتا ہے۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ مکئی کی ہائبرڈ ورائٹیاں تیار کرنے کے حوالے سے پاکستان مکمل طور پر خود کفیل ہے۔ اس کامیابی پر ساہیوال سیمت دیگر شہروں میں قائم مکئی پر تحقیق کرنے والے اداروں کو شاباش دینی چاہئے۔ تحقیق کے سکیل کو مزید بڑھانے کے لئے انہی اداروں کو افرادی قوت اور دیگر سہولیات مہیا کر دی جانی چاہئیں۔ لیکن یہ کام کرنے کے لئے کسی بہت بڑی ٹاسک فورس، تھنک ٹینک، اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت یا ورلڈ بینک مشن کی ضرورت نہیں ہےبلکہ اس کے لئے سب سے موزوں آدمی تحقیقی ادارے کا سربراہ اور اس میں کام کرنے والے زرعی سائنسدان ہیں۔ ان کی تجاویز کو قبول کیا جائے نشاندہی پر مناسب سہولیات مہیا کر دی جائیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ اس سے ادارے کی کاکردگی میں زبردست انگڑائی پیدا ہوگی۔

تحقیق و تحریر

ڈاکٹر شوکت علی

ایسوسی ایٹ پروفیسر، ماہر توسیع زراعت

زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں