کھال خراب کیوں ہوتی ہے اور اسے کیسے بچایا جا سکتا ہے

ایک اندازے کے مطابق پچھلے سال (2018) عید قربان پر تقریباََ 81 لاکھ جانور ذبح کئے گئے جن میں 30 لاکھ گائیں، 50 لاکھ بکرے چھترے اور ایک لاکھ اونٹ شامل تھے۔

پچھلے سال گائے کی کھال اوسطاََ 2000 روپے میں، بکرے کی کھال 240 روپے میں، چھترے کی کھال 100 روپے میں اور اونٹ کی کھال 800 روپے میں فروخت ہوئی۔

اس حساب سے پچھلے سال حاصل ہونے والی 81 لاکھ کھالوں کا تخمینہ تقریباََ 7 ارب روپے بنتا ہے جو کہ ظاہر ہے ایک بہت بڑی رقم ہے۔

پاکستان میں یہ کھالیں کراچی، لاہور اور قصور وغیرہ میں سپلائی کی جاتی ہیں جہاں چمڑے کے کارخانوں میں ان کھالوں سے چمڑا تیار ہوتا ہے۔

بھیڑ بکری کی کھال سے 3 تا 6 مربع فٹ جبکہ گائے کی کھال سے 10 تا 20 مربع فٹ تک چمڑا حاصل ہو سکتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ان کھالوں سے جو چمڑا تیار کیا جاتا ہے اس کی عالمی منڈی میں قدر 20 ارب روپے سے زائد ہے۔ جب اس چمڑے سے جیکٹیں، جوتے، پرس اور دیگر مصنوعات تیار ہوتی ہیں تو اس کی قدر میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

لیکن یہ سب اسی صورت ممکن ہوتا ہے اگر کھالوں کو جانور کے جسم سے اتارتے ہیں مناسب طریقے سے محفوظ کیا جا سکے۔ بصورت دیگر یہ کھالیں ضائع ہو سکتی ہیں اور اوپر والی ساری جمع تفریق کا بیڑا غرق ہو سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کھال کو محفوظ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟

اس بات سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ کھال خراب کیوں ہوتی ہے؟

ہو سکتا ہے آپ کو یہ بات جان کر حیرانی ہو کہ وہ ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں ان میں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ لیکن یہ جراثیم اس وقت تک کوئی کارروائی نہیں کرتے جب تک انہیں اپنی نشوونما کے لئے مطلوبہ ماحول میسر نہ آئے۔

یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے گندم کے دانے سال ہا سال تک بوریوں میں پڑے رہنے کے باوجود اس وقت تک اگنے کی کوشش نہیں کرتے جب تک انہیں مناسب پانی، گرمائش اور جڑیں داخل کرنے کے لئے مٹی میسر نہ آئی۔ جیسے ہی گندم کے بیج کو یہ تینوں چیزیں میسر آتی ہے، بیج فوراََ حرکت میں آتا ہے اور اپنا اگاؤ شروع کر دیتا ہے۔

لہذا جیسے ہی ہم قربانی کے جانور کی کھال اتارتے ہیں، ہوا میں موجود جراثیم فوراََ اس کھال کے ساتھ چمٹ کر اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔

تازہ کھال میں 65 فیصد پانی اور 35 فیصد پروٹین (ماس) ہوتا ہے۔ ان دو چیزوں کے ساتھ ساتھ اگر ان جراثیموں کو 4 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ گرمائش میسر آ جائے تو یہ جراثیم کھال کے اوپر اور اندر داخل ہو کر نشوونما شروع کر دیتے ہیں۔

مناسب ماحول میسر آتے ہی یہ جراثیم انتہائی تیزی کے ساتھ اپنی آبادی میں اضافہ کرنے لگتے ہیں۔ ایک جراثیم (بیکٹریا) بغیر کسی جنسی ملاپ کے ہر20 منٹ کے بعد ایک بچہ پیدا کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر 20 منٹ کے بعد کھال پر موجود جراثیم کی آبادی دو گنی ہو جاتی ہے۔ اس حساب سے 24 گھنٹے کے اندر اندر ایک جراثیم اپنی افزاءش نسل کے ذریعے 4 ارب جراثیم پیدا کر لیتا ہے۔

کھال پر نشوونما پاتے ہوئے جراثیم

ذرا سوچئے کہ جس کھال کو 4 ارب جراثیم کھا رہے ہوں اس کھال کا حشر کیا ہوتا ہو گا۔ یہ جراثیم اپنی نشوونما کے دوران خاص قسم کی گیسیں چھوڑتے ہیں جس کی وجہ سے کھال میں سے ایک ضاص قسم کی بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے۔

واضح رہے کہ اگر ایک دفعہ یہ جراثیم کھال میں گھس جائیں تو پھر چھوٹے موٹے ٹوٹکے سے ان کی افزائش کو روکا نہیں جا سکتا۔ اس لئے کھال کو ان جراثیموں سے بچانے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ جیسے ہی جانور کی کھال اتاری جائے فوراََ کھال کو اچھی طرح سے نمک لگا دیں۔ نمک لگانے سے جراثیم کھال پر اپنی کارروائی شروع ہی نہیں کع سکیں گے۔

خیال رہے کہ اگر ایک دفعہ کھال جراثیم سے متاثر ہو جائے تو پھر اس سے معیاری چمڑا پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ کھال کو اتارنے کے فوراََ بعد اگر نمک نہ لگایا جائے تو چار گھنٹے کے بعد کھال خراب ہو جاتی ہے۔ اس لئے جتنی جلدی ہو سکے کھال کو نمک لگا دینا چاہئے۔

کھال کو کتنا نمک لگانا چاہئے؟

کھال کو کتنا نمک لگانا چاہئے؟ اس بات کا دارومدار کھال کے وزن پر ہے۔ کھال کے وزن کے 40 فیصد وزن کے برابر نمک کھال کو لگانا چاہئے۔

بھیڑ بکری کی تازہ کھال کا وزن 3 سے 5 کلوگرام اور گائے کی تازہ کھال کا وزن 10 سے 20 کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ 10 کلوگرام وزنی کھال کو 4 کلوگرام اور 5 کلو وزنی کھال کو 2 کلوگرام نمک لگانا چاہئے۔

کھال کو نمک کیسے لگانا چاہئے۔

یہ بات تو آپ جانتے ہی ہیں کہ کھال کے بالوں والے حصے کی طرف نمک لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نمک لگانے کے لئے کوشت والے حصے کو اوپر کر کے کھال کو زمین پر بچھا دیں۔

اب پسا ہوا نمک لے کر کھال کے اوپر چھڑکتے جائیں۔ خیال رہے کہ کھال کا کوئی بھی حصہ ایسا نہ رہے جس پر نمک چھڑکنے سے رہ گیا ہو۔

کھال کو زمین پر بچھا کر اچھی طرح نمک چھڑک دیا گیا ہے

اب اپنے ہاتھوں سے نمک کو اچھی طرح کھال کے اوپر مسلتے جائیں۔ خاص طور پر کھال کے گردن، ٹانگوں اور دم والے حصوں پر نمک کو اچھی طرح رگڑیں۔ کھال کے کناروں پر بھی اچھی طرح نمک کو ملیں۔ ہاں اگر کھال اتارتے ہوئے آپ سے کھال پر کوئی کٹ لگ گیا ہو تو کٹ والی جگہ پر اچھی طرح سے نمک رگڑیں۔

پوری تسلی کرنے کے بعد کھال کو ایک طرف پھیلا کر رکھ دیں۔ خیال رہے کہ کھال کو پلاسٹک کے شاپر میں نہ ڈالیں اور جلدی ممکن ہو پیوپاری یا فلاحی ادارے وغیرہ کے حوالے کر دیں۔

آپ کی معلومات کے لئے بتاتے چلیں کہ نمک کھال کے پانی کو چوس لیتا ہے۔ نمک لگانے کے بعد آپ کی کھال کا وزن 15 فیصد تک کم ہو جاتا ہے جس سے جراثیم کو اپنی نشوونما میں مشکل پیش آتی ہے۔

اب آپ کو بتاتے ہیں کہ اگر کھال کو صحیح وقت پر اور صحیح طریقے سے نمک نہ لگایا جائے تو اس کے کیا نقصانات ہوتے ہیں۔

دنیا میں بہترین کوالٹی کا چمڑا دانے دار چمڑا سمجھا جاتا ہے۔

یہ دانے دار چمڑا ہے جس میں دانے نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں۔

دانے دار چمڑا وہ ہوتا ہے جو کھال کے بال اتار کر ہلکی سی صفائی کر کے تیار کیا جاتا ہے۔ لیکن جراثیم کے حملے کی وجہ سے کھال کی اوپر والی تہہ جس پر دانے بنے ہوتے ہیں ضائع ہو جاتی ہے جس سے چمڑے پر نظر آنے والے دانےختم ہو جاتے ہیں۔ بین الاقوامی منڈیوں میں دانے کے بغیر والے چمڑے کےدام بہت کم ملتے ہیں۔

اس کے علاوہ جو مسائل آتے ہیں ان میں چمڑے کی رنگائی، چمڑے کی لچک میں کمی اور چمڑے کی پائیداری میں کمی آنا شامل ہیں۔
ظاہر ہے غیر معیاری چمڑا پیدا کرنے سے نہ صرف یہ کہ پاکستان کا چمڑا بدنام ہوتا ہے بلکہ کارخانہ دار بھی قربانی کی کھال کے زیادہ دام دینے کو تیار نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ پچھلے سال بکرے کی کھال 50 روپے اور گائے کی کھال 100 روپے تک بھی بکتی رہی ہے۔
پاکستان کا چمڑا پوری دنیا میں مقبول ہے۔ لہذا اپنے معیار کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم کھال جیسے قدرت کے انمول عطیے کو نمک شمک لگا کر اچھی طرح سے محفوظ بنائیں تاکہ قربانی کی کھال اپنے بہترین مصرف کی شکل میں سامنے آئے۔

تحریر

ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، فیصل آباد

Share Please

کھال خراب کیوں ہوتی ہے اور اسے کیسے بچایا جا سکتا ہے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں