کپاس میں سفید مکھی کے کنٹرول نہ ہونے کی وجہ اور اس کے خاتمے کا طریقہ

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اپنی کپاس کی فصل سے سفید مکھی کو مکمل طور پر پاک کر لیں تو پھر آپ کو ذرا تحمل کے ساتھ چند بنیادی باتیں کو سمجھنا ہوگا۔

یہ ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ انسان میں پیدائش سے لے کر مرنے تک کئی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے منہ میں دانت نہیں ہوتے۔ اسی طرح اس کے داڑھی مونچھیں بھی نہیں ہوتیں۔ پھر دو سال کے بعد بچے کے دانت نکل آتے ہیں۔ چھ سات سال کی عمر میں بچے کے دودھ کے دانت گرنا شروع ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ پکے دانت نکل آتے ہیں۔ جب وہی بچہ نوجوانی کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس کے منہ پر داڑھی اور مونچھوں کے سیاہ بال نکل آتے ہیں۔ 60 سال کی عمر کے آس پاس سر کے بال جھڑنا چروع ہو جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص گنجا ہو جاتا ہے۔ ستر اسی سال کی عمر میں دانت بھی گرنا شروع ہو جاتے ہیں اور بال سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

یعنی جیسے جیسے انسان اپنی زندگی کے دن گزارتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کے جسم میں مختلف طرح کی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں لیکن ظاہر ہے کہ یہ تبدیلیاں بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتیں۔

بالکل ایسی ہی تبدیلیاں کیڑوں مکوڑوں میں بھی آتی ہیں۔ لیکن کیڑوں مکوڑوں میں آنے والی تبدیلیاں بہت زیادہ نمایاں اور واضح ہوتی ہیں۔

آئیے سب سے پہلے یہ بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سفید مکھی کی زندگی میں کس طرح کی تبدیلیاں آتی ہیں۔

سفید مکھی کو تو آپ پہچانتے ہی ہوں گے۔ یہ سفید رنگ کا ایک چھوٹا سا پروانہ ہوتا ہے۔ جس طرح پرندوں میں کچھ پرندے نر اور کچھ مادہ ہوتے ہیں بالکل اسی طرح سفید مکھی میں بھی نر اور مادہ پروانے الگ الگ ہوتے ہیں۔

سفید مکھی کے نر اور مادہ پروانے پرندوں کی طرح ہی آپس میں جنسی ملاپ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مادہ مکھی انڈے دینا شروع کر دیتی ہے۔ ایک مادہ مکھی 100 سے 150 تک انڈے دے سکتی ہیں۔

سفید مکھی کے انڈوں سے 5 دن میں بچے نکل آتے ہیں۔ یہ بچے انڈوں سے نکلتے ہی رینگنا شروع کر دیتے اور بالآخر پتوں کے ساتھ چمٹ کر رس چوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ انڈوں سے نکلنے والے ان بچوں کے پر نہیں ہوتے اور شکل و صورت میں یہ بچے جانوروں کو لگنے والے چیچڑوں کی طرح کے ہوتے ہیں البتہ ان کا رنگ شفاف سا ہوتا ہے۔ کپاس کی فصل کا سب سے زیادہ نقصان یہی چیچڑ نما بچے ہی کرتے ہیں۔

5 دن کے بعد ان بچوں کی ٹانگیں جھڑ جاتی ہیں جس کے نتیجے میں یہ کیپسول کی طرح کے ہو جاتے ہیں۔

یہ کیپسول 11 دن تک بے حس وحرکت پڑے رہتے ہیں۔ اور 11 دن کے بعد اس کیپسول کا خول توڑ کر اندر سے بالکل اسی طرح پروانہ نکل آتا ہے جس طرح مرغی کا بچہ انڈے کا خول توڑ کر اندر سے نکل آتا ہے۔

کیپسول سے نکلنے والا سفید مکھی کا یہ پروانہ وہی ہے جو آپ کو کپاس کی فصل میں اڑتا پھرتا نظر آتا ہے۔ جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ ان پروانوں میں نر اور مادہ دونوں طرح کے پروانے شامل ہوتے ہیں۔ لہذا اگر یہ پروانہ مادہ ہو تو ٹھیک 2 دن کے بعد مادہ انڈوں پر آ جاتی ہے اور مسلسل 5 دن تک انڈے دیتی رہتی ہے۔ جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ 5 دنوں میں یہ مادہ تقریباََ 100 انڈے دیتی ہے اور مزید 2 دن زندہ رہ کر مر جاتی ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ انڈے سے بچہ ، بچے سے کیپسول اور کیپسول سے پروانہ بن کر مرنے تک، مادہ سفید مکھی کی کل زندگی 26 دن بنتی ہے۔ جس میں سے پروانے کی زندگی 7 دن ہے۔

لیکن اگر یہ پروانہ نر ہو تو پھر اس کی کل زندگی 24 دن بنتی ہے جس میں نر پروانے کی زندگی 5 دن ہے۔

اگر سفید مکی کے انڈوں، بچوں، کیپسولوں اور پروانوں پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو فصل کی پیداوار میں 50 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔

یہاں آپ کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ صرف بچے ہی پودوں کا رس چوستے ہیں۔ جن پروانوں کو اڑتا ہوا دیکھ کر کاشتکار گھبرا جاتا ہے وہ پودے کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ ان پروانوں کی طرف سے سب سے بڑا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ یہ انڈے دیں گے جن سے بچے نکل کر فصل کا نقصان کریں گے۔ انڈے اور کیپسول اگرچہ پتوں کا رس تو نہیں چوستے لیکن یہ بھی فصل کے لئے بڑا خطرہ سمجھے جاتے ہیں کونکہ یہی وہ انڈے ہیں جن سے بچے نکلنے ہیں اور یہی وہ کیپسول ہیں جن سے پروانے نکلنے ہیں۔

لہذا اگر ہم کپاس کی فصل کو سفید مکھی سے مکمل طور پر پاک کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس مکھی کے انڈوں، بچوں، کیپسولوں اور پروانوں کے خلاف بیک وقت محاذ کھولنا ہو گا

مسئلہ دراصل یہ ہے کہ پاکستان میں فروخت ہونے والی زیادہ تر زہریں ایسی ہیں جو سفید مکھی کے انڈوں، بچوں، کیپسولوں اور پروانوں کو بیک وقت نہیں مار سکتیں۔

کچھ زہریں ایسی ہیں جو انڈوں اور بچوں کو تو مارتی ہیں لیکن پروانوں کو نہیں مارتیں۔ اسی طرح کچھ دوسری زہریں ہیں جو صرف پروانوں کو مارتی ہیں لیکن انڈوں اور بچوں کا خاتمہ نہیں کرسکتیں۔ اسی طرح کیپسول اس قدر سخت جان ہوتے ہیں کہ آپ کوئی بھی زہر سپرے کر لیں وہ نہیں مرتے۔ ابھی تک کوئی بھی ایسی زہر مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے جو کیپسولوں کا خاتمہ کر سکے۔

لہذا اگر کاشتکار فصل پر انڈےو بچے مارنے والا زہر سپرے کر تا ہے تو پروانے زندہ رہ جاتے ہیں جو مسلسل انڈے دیتے رہتے ہیں اور پھر ان انڈوں سے اگلی نسل کے بچے نکل کر فصل پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح جب پروانوں کو مارنے والا سپرے کیا جاتا ہے تو انڈے اور بچے محفوظ رہتے ہیں۔ اور پھر چند دن بعد ہی انڈوں سے مزید بچے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح آپ کوئی سا بھی سپرے کر لیں کیپسولوں سے تو پروانے نکلنے ہی نکلنے ہیں۔

لہذا ان حالات میں ضروری ہو جاتا ہے کہ یا تو آپ کوئی ایسا فارمولا سپرے کریں جو انڈوں، بچوں اور پروانوں کا ایک ہی ہلے میں خاتمہ کر دے۔ یا پھر آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کھیت میں زہر کا اثر مسلسل 15 سے 20 دن تک باقی رہے تاکہ جب اگلی نسل سامنے آئے تو اس وقت کھیت میں زہرکا اثر موجود ہو جس کے باعث نئی نسل کا قلع قمع ہو سکے۔

یاد رکھیں اگر آپ کے کھیت میں مسلسل 15 سے 20 دن تک زہر کا اثر نہیں رہے گا تو پھر اگلی نسل کا خاتمہ نہیں ہو سکے گا اور آپ کی فصل سفید مکھی کے نشانے پر رہے گی۔

لیجئے اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کون سی زہریں انڈے بچے اور کونسی زہریں پروانوں کو مارتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم آپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ کس زہر کا اثر فصل میں کتنے دن تک رہتا ہے۔

جیسا کہ آپ اس چارٹ میں دیکھ لیا ہے کہ تقریباََ تمام زہریں یا تو زیادہ تر انڈوں و بچوں کو مارتی ہیں یا پھر پروانوں کو۔ کوئی بھی ایک زہر ایسی نہیں ہے جو انڈوں، بچوں، کیپسولوں سمیت پروانوں کو بھی تلف 100 فیصد تلف کر سکے۔

زہروں کے اثر کے حوالے سے بات کریں تو فلونیکا مڈ کے علاوہ آپ کوئی بھی سپرے کریں اس کا اثر چھ سات دن سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ 5 دن کے بعد سپرے دوبارہ کردیں۔ دو بار سپرے کرنے سے آپ کے کھیت میں زہر کا اثر مسلسل 10 دن تک باقی رہے گا۔

لیکن ہم تو آپ کو بتا چکے ہیں کہ کھیت میں کم از کم 15 سے 20 دن تک مسلسل زہر کا اثر رہنا چاہئے۔ تو کیا پھر تیسرا سپرے بھی کرنا پڑے گا؟ ماہرین سمجھتے ہیں کہ فصل پر ایک ہی زہر کو دو دفعہ سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ تو پھر کرنا کیا چاہئے؟

اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ آپ انڈے بچے مارنے والی اور پروانے مارنے والی دو الگ الگ زہروں کو ملا کر استعمال کریں۔

لیکن یہاں بھی ایک مسئلہ ہے۔

ہر ایک زہر کو ہر دوسری زہر کے ساتھ ملا کر سپرے نہیں کیا جا سکتا۔ دو مختلف زہروں کو ملا کر سپرے کرنے کی صورت میں بعض فارمولوں کا اثر کم اور بعض کا اثر زیادہ ہو جاتا ہے۔

مثال کے طور پر سنجینٹا پاکستان، کسانوں کو ہدائیت کرتی ہے کہ پولو کو کسی بھی دوسری زہر کے ساتھ ملا کر ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔

تو پھر آپ نے کس زہر کو کونسی زہر کے ساتھ ملانا ہے؟ اس سلسلے میں آپ کو کسی ماہر زراعت سے مشورہ کرنا ہو گا۔ کیونکہ بیسیوں زہروں کے سینکڑوں مکچروں کو بیان کرنا یہاں ممکن نہیں ہے۔

البتہ ہم آپ کو مثال کے طور پر دو زہریں بتا دیتے ہیں جنہیں آپ ایک دوسرے کے ساتھ مکس کر کے کپاس کی فصل پر سپرے کر سکتے ہیں۔

آپ 500 ملی لیٹر پائری پراکسی فن اور 500 ملی لیٹر میٹرین کو ملا کر سپرے کر سکتے ہیں۔ پائری پراکسی فن سفید مکھی کے انڈوں بچوں کا خاتمہ کرتی ہے اور میٹرین زیادہ تر پروانوں کو مارتی ہے۔ اس طرح ایک ہی سپرے سفید مکھی کے انڈوں، بچوں اور پروانوں کو ختم کرنے کے لئے اپنا کام دکھائے گی۔ لیکن ماہرین کے مطابق چار پانچ دن کے بعد اسی سپرے کو دہرانا بھی چاہئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تین چار دن بعد کیپسولوں سے جو پروانے نکلیں گے انہیں بھی تلف کرنا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ انڈے دیکر اپنی نسل نہ آگے بڑھائیں۔

اب آخر میں سوال یہ ہے یہ سفید مکھی کپاس کی فصل پر آتی ہی کیوں ہے؟ فصل میں موجود شکاری کیڑے سفید مکھی کے انڈوں، بچوں اور پروانوں کو شکار کرنے میں کیوں ناکام رہتے ہیں۔ آخر کونسی حکمت عملی اختیار کر کے ہم کم سے کم سپرے میں سفید مکھی سے اپنی فصل کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اس پر کبھی آئندہ بات ہو گی انشاءللہ۔

تحریر

ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، فیصل آباد

تکنیکی معاونت

ڈاکٹر محمد حسنین بابر، اسسٹنٹ انٹومالوجسٹ برائے کاٹن۔ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد

بابائے زراعت، محمد عاشق، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں