انگور کی کاشت، اخراجات اور آمدن سے متعلق ایک جامع مضمون

پنجاب میں انگور کن کن علاقوں میں کاشت ہو سکتا ہے؟

بچپن سے ہی ہمارا یہ مشاہدہ رہا ہے کہ جب ریڑھی والا انگور بیچنے گاؤں میں آتا تو وہ . . چمن کے انگور آ گئے چمن کے انگور . . کی آوازیں لگاتا. پھر جب دنیا داری کی تھوڑی بہت سمجھ آنے لگی تو معلوم ہوا کہ چمن، بلوچستان کا کوئی علاقہ ہے جہاں انگور پیدا ہوتا ہے. لہذا ابتدا سے ہی ہمارے ذہن میں یہ تصور تھا کہ انگور صرف بلوچستان میں ہی پیدا ہو سکتا ہے.
لیکن اب زرعی تحقیقاتی ادارے انگور کی ایسی ورائٹیاں سامنے لے آئے ہیں جو پنجاب کے کسی بھی ضلع میں کاشت ہو سکتی ہیں.
قصہ مختصر اب آپ انگور کی فصل پنجاب کے کسی بھی ضلع میں کاشت کر سکتے ہیں.
راقم، اٹک، ٹوبہ ٹیک سنگھ، بہاولپوراور بہاولنگر کے چند کاشتکاروں کو ذاتی طور پر جانتا ہے جو انگور کی فصل نہائیت کامیابی سے کاشت کر رہے ہیں.
لیکن ایک بات واضح ہے کہ انگور کی کاشت کے لئے وہ علاقے زیادہ بہتر ہیں جہاں ہوا میں نمی کم رہتی ہو اور بارشیں بھی کم ہوتی ہوں. کیونکہ اگر ہوا میں نمی زیادہ ہو تو انگور پر پھپھوندی کا حملہ زیادہ ہوتا ہے جس سے پھل خراب ہو جاتا ہے. اسی طرح زیادہ بارشوں کی وجہ سے انگور کے گچھے پھپوندی کی وجہ سے گلنا شروع ہو جاتے ہیں، پھل پھٹ جاتا ہے اور انگور پھیکے اور بدمزہ رہ جاتے ہیں جس سےکاشتکار کا نقصان ہوتا ہے.
یہی وجہ ہے کہ حکومت پنجاب نے جنوبی پنجاب کو جس میں‌ ملتان، لودھراں، بہاولنگر اور بہاولپور وغیرہ کے اضلاع شامل ہیں انگور وادی کا درجہ دے رکھا ہے. کیونہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ہوا میں نمی کم رہتی ہے اور بارشیں بھی کم ہوتی ہیں.
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وسطی اور شمالی پنجاب ( یعنی فیصل آباد، لاہور، اٹک وغیرہ) کے کسانوں کو انگور کاشت نہیں کرنا چاہئے. ان علاقوں کے کاشت کار انگور ضرور کاشت کریں لیکن ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اگیتی ورائٹیاں کاشت کریں. یعنی ایسی ورائٹیاں کاشت کریں جن کا پھل بارشوں کا سیزن شروع ہونے سے پہلے پہلے یعنی زیادہ سے زیادہ 30 جون تک ختم ہو جائے.

انگور کی کاشت کے لئے کس طرح کی زمین چاہئے؟

یوں تو انگور ہر طرح کی زمین میں کاشت کیا جا سکتا ہے. لیکن ہلکی میرا زمین میں پودا زیادہ خوش رہتا ہے.
کلراٹھی اور سیم زدہ زمین میں انگور کی فصل کامیاب نہیں ہے. سائنسی زبان میں بات کی جائے تو زیادہ سے زیادہ 5’7 پی ایچ والی زمین انگور کی کاشت کے لئے بہترین ہے. ویسے تو ہمارے پاکستان میں زیادہ تر زمینوں کی پی ایچ 5’7 سے اوپر ہی ہے. زیادہ پی ایچ کا مطلب ہے زیادہ کلراٹھی زمین. یہ بالکل وہی بات ہے کہ انگور کی کاشت کے لئے زمین کلراٹھی نہیں ہونی چاہئے.
اسی طرح ایسی زمینیں جن میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت کم ہو اور پانی زیادہ دیر تک کھڑا رہے، وہ بھی انگور کے لئے بہتر نہیں ہے.

انگور کی کون کون سی اقسام کاشت کے لئے بہترین ہیں؟

پنجاب میں ہمارے کاشتکار عام طور پر جو ورائٹیاں کاشت کر رہے ہیں ان کے نام یہ ہیں.

1. سلطانینا سی
2. تھامسن
3. پرلٹ
4. ارلی وائٹ
5. شوگرا ون
6. کنگ روبی (سیڈ لیس)
7.وٹرو بلیک
8. فلیم سیڈ لیس
9. ریڈ گلوب
10. کرمسن سیڈلیس
11. بلیک میجک
12. نارک بلیک
13. کارڈی نال
14. آٹم رائل وغیرہ

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے رقبے کے لئے کس ورائٹی کا انتخاب کرنا ہے.

ورائٹی کا انتخاب کرتے ہوئے آپ نے تین باتوں کو مد نظر رکھنا ہے.

نمبر 1
ورائٹی کا پھل مون سون کی بارشوں سے پہلے ختم ہو جائے

کوشش کریں کہ انگور کی ایسی ورائٹیاں کاشت کریں جو اگیتی ہوں اور مون سون کی بارشوں یعنی 30 جون سے پہلے پہلے ان کا پھل پک کر تیار ہو جائے اور توڑ کر بیچا جا سکے. انگور کے گچھوں پر اگر بارش پڑنا شروع ہو جائے تو اس سے بڑا نقصان ہو تا ہے. کیونکہ بارش سے پھل گلنا شروع ہو جاتا ہے، پھٹ جاتا اور پھیکا و بدمزہ رہ جاتا ہے.
بلوچستان میں ایک روائیت ہے کہ جب انگور کا گچھا بن جاتا ہے تو کاشتکار قرآن مجید لے کر باغوں میں بیٹھ جاتے ہیں. جہاں وہ تلاوت کر کے اللہ رب العزت سے دعا مانگتے ہیں کہ یا اللہ ہمارے باغات کو بارش سے محفوظ رکھ.
یہ بات آپ کو اس لئے بتائی ہے تاکہ اس بات کو اچھی طرح محسوس کر لیں کہ اگیتی ورائٹی کی کاشت آپ کے لئے کس قدر اہم ہے.

جنوبی پنجاب (ملتان، لودھراں، بہاولنگر اور بہاولپور وغیرہ) کے علاقوں میں تو بارشیں ویسے ہی نسبتاََ کم ہوتی ہیں البتہ وسطی پنجاب (فیصل آباد، ساہوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ وغیرہ) اور شمالی پنجاب (راولپنڈی، اٹک وغیرہ) کے کاشتکاروں کو پچھیتی ورائٹی کا رسک بالکل نہیں لینا چاہئے.
اگیتی ورائٹیوں میں ارلی وائٹ، شوگرا.ون اور وٹرو بلیک قابل ذکر ہیں.

نمبر 2
انگور کی ایسی ورائٹی کاشت کریں جن کا پھل، ایرانی، افغانی اور بلوچستانی انگور سے پہلے پہلے فروخت ہو جائے.
صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں تقریباََ 80 فیصد سے زیادہ انگور بلوچستان میں پیدا ہوتا ہے. بلوچستان کا سندرخانی اور گول انگور پنجاب کی منڈیوں میں بہت مقبول ہے. بلوچستان کے علاوہ سینکڑوں ٹن سندر خانی اور گول انگور ایران اور افغانستان سے بھی قانونی اور (کاشتکاروں کے مطابق) غیر قانونی طریقوں سے پاکستان کی حدود میں داخل ہوتا ہے.

یہ سارا انگور پنجاب کی منڈیوں میں جولائی کے مہینے میں نظر آنا شروع ہو جاتا ہے. آج (8 جولائی) کو پہلی مرتبہ میں نے فیصل آباد کی مارکیٹ میں سندرخانی انگور دیکھا ہے جسے میں نے 300 روپے کلو کے حساب سے خریدا ہے. ایران، افغان اور بلوچستان کی سندر خانی اور دیگر ورائٹیوں کے ساتھ پنجاب کی ورائٹیاں مقابلہ نہیں کر پاتیں اور نتیجتا ریٹ کم ملتا ہے.
اس لئے پنجاب کے کاشتکاروں کو چاہئے کہ وہ ایسی ورائٹیاں کاشت کریں جو زیادہ سے زیادہ 15 جولائی تک ختم ہو جائیں.
ان ورائٹیوں میں ارلی وائٹ، شوگرا.ون اور وٹرو بلیک کے علاوہ سلطانیہ بھی شامل ہے.

نمبر 3

ورائٹی کا رنگ انگوری ہو، پھل میٹھا ہو اور شکل خوبصورت و چمکدار ہو

پاکستان کی منڈیوں‌میں رنگ دار انگور (کالا، سرخ، ہلکا سرخ) اور بیج والا انگور زیادہ پسند نہیں کیا جاتا اور اس کی قیمت کم ملتی ہے جبکہ انگوری رنگ کا پھل منڈی میں بہت اچھی قیمت پاتا ہے.
بہاولپور کے ایک کاشتکار جاوید صاحب جن کا انگور کاشت کرنے کا سات سالہ تجربہ ہے ان کا خیال ہے کہ رنگ دار ورائٹی اپنے رقبے پر ہرگز کاشت نہیں کرنی چاہئے. اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میں نے چند دن پہلے رنگ دار انگور منڈی میں بھیجا ہے جو 50 روپے کلو کے حساب سے بکا ہے جبکہ اس کے برعکس انگوری رنگ کا انگور 100 روپے کلو کے حساب سے بک رہا ہے. یہی وجہ ہے کہ اب جاوید نے فیصلہ کیا ہے کہ جو تھوڑا بہت رنگ دار انگور ان کے رقبے پر لگا ہوا ہے اسے ختم کر کے اس کی جگہ پر اب وہ انگوری رنگ کا انگور کاشت کر دیں گے.

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انگور کے کاشتکار میاں اسلم نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ منڈیوں میں رنگ دار انگور زیادہ سے زیادہ 50 روپے کلو کے حساب سے قیمت پاتا ہے جبکہ انگوری رنگ کا انگور 100 روپے فی کلو تک بھی بکتا ہے.

البتہ رنگ دار ورائٹیوں میں میاں اسلم کا خیال ہے کہ وٹرو بلیک ورائٹی چل سکتی ہے. ان کا خیال ہے کہ اگر گاہک ایک دفعہ یہ انگور خرید لے تو پھر وہ دوسری دفعہ بھی اسے خریدنا پسند کرے گا.

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو وٹرو بلیک کی شکل سندر خانی انگور جیسی ہے اور دوسرا اس میں بیج بھی نہیں ہے اور تیسرا اس کا گودا بہت مزیدار ہے اور پھل چمکدار ہت. چوتھا یہ اگیتی ورائٹی ہے اور 30 جون تک ختم ہو جاتی ہے. پانچواں منڈی میں اس کا ریٹ بھی 80 روپے فی کلو تک مل جاتا ہے.

انگوری رنگ کی پسند کی جانے والی ورائٹیوں میں ارلی وائٹ، شوگراون اور سلطانیہ قابل ذکر ہیں.
جبکہ اگر آپ چاہیں تو رنگ دار ورائٹیوں میں وٹرو بلیک یا پھر کارڈینل کا بھی تجربہ کر سکتے ہیں.

یہ ورائٹیاں کہاں سے ملیں گی؟

عام طور پر جب ہم نرسریوں کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں پتوکی کا نام آتا ہے جہاں سے ہر طرح کے پودے با رعائیت مل جاتے ہیں. لیکن انگور کی نرسری کے حوالے سے صورت حال مختلف ہے.
پنجاب میں جن کاشتکاروں نے انگوروں کے باغات لگائے ہوئے ان میں سے زیادہ تر نے ساتھ پودے تیار کرنے کا بھی کاروبار شروع کر رکھا ہے.
اٹک، حاصل پور، بہاولنگر، بہاولپور، فیصل آباد کے علاقوں میں کئی ایسے کاشتکار ہیں جو پودے تیار کرکے فروخت کرتے ہیں.

پودے بیچنے والے زیادہ تر کاشتکاروں نے اپنے فیس بک پیج بنا رکھے ہیں جہاں سے ان کے موبائل نمبر حاصل کر کے ان سے پودوں کے ریٹ اور دستیابی سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکتی ہے.
فیس بک سرچ میں جا کر انگریزی میں ” گریپس فارم” لکھ کر سرچ کریں تو بہت سے اس طرح کے پیج آپ کے سامنے آ جائیں گے.

انگور کے پودے آپ کو کس ریٹ پر ملیں گے؟

پودوں کے ریٹ کے حوالے سے آپ کے سامنے تین راستے ہوتے ہیں.

نمبر 1: آپ ایک سال کا پودا لگانا چاہتے ہیں.
نمبر 2: آپ ایک ماہ کا پودا لگانا چاہتے ہیں.
نمبر 3: آپ قلم لگانا چاہتے ہیں.
ایک سال کے پودے کی قیمت ورائٹی کے مطابق 50 روپے سے لیکر 150 روپے تک ہو گی. اس میں رجحان یہ ہے کہ نئی ورائٹیاں آپ کو مہنگی جبکہ پرانی ورائٹیاں سستی ملیں گی.
ایک ماہ والا پودا 25 سے 30 روپے تک ملے گا.
جبکہ تیار شدہ قلم آپ کو 10 سے 15 روپے میں مل جائے گی.

پودے کس موسم میں لگانے چاہئیں؟

اگر آپ کسی پودے بیچنے والے سے مشورہ کریں گے تو ہو سکتا ہے وہ آپ کو پودے اگست ستمبر میں بھی لگوا دے. لیکن یاد رکھیں اگست ستمبر میں پودے لگانا آپ کے لئے کسی طور فائدہ مند نہیں ہے. ایک تو اگست ستمبر میں آپ کو پودا مہنگا ملے گا. دوسرے اگر کسی نرسری والے نے آپ کو سستے پودے دے دئیے تو پھر بھی اس موسم میں کاشت کئے ہوئے پودے نومبر دسمبر میں اپنے پتے جھاڑ کر سو جائیں گےاور فروری میں اپنی نشوونما کا آغاز کریں گے. یعنی اگست ستمبر میں لگے ہوئے پودے نے بھی اپنی نشوونما فروری سے ہی شروع کرنی ہے اور مفت میں ہی آپ کو اگست سے فروری یعنی چھ مہینے کے کھاد پانی کا خرچہ پڑ جائے گا. یہی وجہ ہے کہ ہم آپ کو اگست کی بجائے فروری میں انگور کے پودے لگانے کا مشورہ دے رہے ہیں.

فروری میں آپ کو ایک تو پودے نسبتاََ سستے ملیں گے، دوسرا وہ فوراََ اپنی جڑیں بنا کر پتے نکال لیں گے اورتیسرا اگر آپ نے ایک سال کی عمر کے پودے لگائے ہیں تو وہ اچھی دیکھ بھال سے ٹھیک ایک سال پھل اٹھا لیں گے.

ایک ایکڑ میں انگور کے کتنے پودے لگیں گے؟

ایک ایکڑ میں انگور کے تقریباََ 700 پودے لگائے جاتے ہیں. 700 پودے لگانے کے لئے ایک قطار سے دوسری قطار کا فاصلہ 10 فٹ اور ایک پودے سے دوسرے پودے کا فاصلہ 6 فٹ رکھنا پڑتا ہے. 700 سے زیادہ پودے لگانے کا لالچ نہ کریں کیونکہ زیادہ پودے لگانے سے بیلوں کو دھوپ کم ملتی ہے اور دھوپ انگور کی فصل کے لئے از حد ضروری ہے.
یہی وجہ ہے کہ آپ نے پودے لگاتے ہوئے شمالاََ جنوباََ لائینیں بنانی ہیں. ایسی صورت میں جب سورج مشرق سے مغرب کی طرف جائے گا تو بیلوں کو زیادہ سے زیادہ دھوپ ملے گی جس کی بدولت ان کی نشوونما اچھی ہوگی. اسی طرح پھل کے موسم میں دھوپ بیلوں کو دھوپ لگنے سے انگور کے گچھوں پر پھپھوندی کا حملہ بھی کم ہو گا.

انگور کے پودوں پر پھل کب لگے گا اور پیداوار کتنی ہوگی؟

سادہ حساب یہ ہے کہ قلم لگانے کے دو سال بعد انگور کی بیل پھل اٹھا لیتی ہے.
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ فروری میں ایک سال کی عمر کا پودا لگا تے ہیں تو ٹھیک ایک سال بعد ہی اسے پھل لگ جائے.
لیکن اگر آپ ایک ماہ کے پودے لگاتے ہیں یا آپ قلمیں لگاتے ہیں تو پھر آپ کو دو سال انتظار کرنا پڑے گا.
ویسے تو انگور کی بیل پر 20 سے 25 کلو فروٹ بھی لگ جاتا ہے لیکن کاشتکاروں کا خیال ہے ایک پودے پر زیادہ سے زیادہ 12 سے 15 کلو پھل رکھنا چاہئیے باقی کاٹ دینا چاہئیے.
کیونکہ پھل اگر زیادہ لگا رہے تو ایسی صورت میں ایک تو پھل جلدی پکتا نہیں ہے اور دوسرا انگور کا وہ رنگ بھی نہیں بنتا جو بننا چاہئیے. یعنی پھل کی کوالٹی متاثر ہوتی ہے اور مارکیٹ میں اس کا ریٹ بھی کم ملتا ہے.

انگور کے پودے پر آنے والا پہلے سال کا پھل ایک تو کم ہوتا ہے اور دوسرا کوالٹی میں بھی ذرا ہلکا ہوتا ہے. دوسرے سال کا پھل پہلے سال کی نسبت ذرا بہتر ہوتا ہے لیکن تیسرے سال کا پھل اپنی مقدار اور معیار کے لحاظ سے بھر پور ہوتا ہے.
ایک ایکڑ میں عام طور پر 700 پودے لگائے جاتے ہیں. ان میں اگر اوسطاََ 650 پودوں پر بھی اچھا پھل ہو اور فی پودا پیداوار 12 سے 15 کلو رہے تو اس حساب سے فی ایکڑ پیداوار 7800 کلو (195من) سے لیکر 9750 کلو(244 من) تک ہو سکتی ہے.

سٹرکچر کیسا ہو گا اور اس پر کتنا خرچ آئے گا؟

یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ انگور کا پودا بیل نما ہوتا ہے اور بیل کو اوپر چڑھنے کے لئے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے. انگور کی بیل کو سہارا دیتے کے لئے سیمنٹ بجری کے بنے ہوئے پلر استعمال کئے جاتے ہیں.
یہ پلر آٹھ فٹ کا ہونا چاہئے جسے دو فٹ زمین کے اندر اور چھ فٹ باہر رکھا جاتا ہے. پلر اگر چھ فٹ سے اونچا ہو گا تو سپرے وغیرہ کرنے اور پھل توڑنے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے.
کمزور پلر لگا کر پیسے بچانے کی کوشش نہ کریں. کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ جب پھل لگتا ہے اور پلروں پر وزن آتا ہے تو آندھی چلنے سے بڑے بڑے مضبوط پلر ٹوٹ جاتے ہیں. اور یوں سمجھ لیں کہ اگر کوئی پلر ایک دفعہ ٹوٹ گیا تو اس کے ساتھ چڑھا ہوا پودا بھی ضائع ہو جائے گا. پودا پلر اور تاروں میں اس قدر الجھا ہوا ہوتا ہے کہ آپ اسے نئے سرے سے نئے پلر کے اوپر چڑھا ہی نہیں سکتے. آپ کو مجبوراََ پودا کاٹنا پڑتا ہے اور نئے سرے سے پلر پر چڑھانا پڑتا ہے.

کھیت کے آخر میں لگے ہوئے پلروں پر سب سے زیادہ وزن ہوتا ہے. کوشش کریں وہاں جو پلر لگائے جائیں وہ دو فٹ کی بجائے چار فٹ زمین کے اندر گاڑے جائیں اور وہ دوسرے پلروں سے زیادہ مظبوط ہوں.
پلر لگاتے ہوتے ایک پلر سے دوسرے پلر کا فاصلہ 18 فٹ رکھا جاتا ہے. اس حساب سے آپ کے ایکڑ میں
185 پلر لگیں گے.
ساڑھے تین فٹ ضرب ساڑھے تین فٹ کا 8 فٹ لمبا ایک پلر آج کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق 360 روپے میں ملے گا. اس طرح 185 پلر کا خرچ تقریباََ 66 ہزار روپے ہوگا. ٹرانسپورٹ کا خرچہ الگ ہے.

انگوروں کے باغ میں لگائے جانے والے خاص طور پر کمپنیاں تیار کرتی ہیں جن میں تاریں گزارنے کے لئے باقائدہ سوراخ رکھے جاتے ہیں.
پہلا سوراخ زمین کے اوپر ساڑھے تین فٹ پر اور دوسرا سوراخ ساڑھے پانچ فٹ پر رکھا جاتا ہے اور دونوں سوراخوں میں 8 گیج کی جستی تاریں گزاری جاتی ہیں.
ایک ایکڑ میں تقریبا 270 کلوگرام جستی تار لگتی ہے. فی کلو تار کی قیمت 135 روپے ہے. اس حساب سے فی ایکڑ تار کا خرچ تقریباََ 36 ہزار روپے ہوگا.
ظاہر ہے پلر زمین میں گاڑنا بھی ایک اہم کام ہے. فی ایکڑ پلر لگانے کی مزدوری تقریباََ 50 روپے فی پلر بھی ہوتو اس کا خرچہ تقریبا 9 ہزار بنے گا.
اس طرح پلر، تار، اور پلر لگوائی کا کل خرچ تقریباََ ایک لاکھ 11 ہزار روپے بنے گا.
واضح رہے کہ پلر دو طرح کے ہوتے ہیں. ایک سیدھا پلر اور دوسرا دو شاخہ پلر
ہم آپ کو ساری بات سیدھے پلر کو مدنظر رکھ کر بتائی ہے. بعض شوقین کاشتکار سیدھے پلر کی بجائے دوشاخہ پلر بھی استعمال کرتے ہیں. دوشاخے پلر کا خرچہ زیادہ ہے اس لئے ہم آپ کو سیدھے پلر کا ہی مشورہ دیں گے.

ایک ایکڑ پر انگور کا باغ لگانے میں کتنا خرچ آئے گا؟

یہ تو ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ ایک ایکڑ میں پلر، تار، اور پلر لگوائی کا کل خرچ تقریباََ ایک لاکھ 11 ہزار روپے بنے گا.
پودوں کا خرچ اس کے علاوہ ہے.
پودوں کی قیمتوں کے متعلق بھی ہم آپ کو تفصیلی معلومات دے چکے ہیں. یوں سمجھئے کہ اگرایک سال کی عمر والا پودا آپ کو 150 روپے میں ملے تو 700 پودوں پر آپ کا تقریباََ ایک لاکھ 5 ہزار روپے خرچ آئے گا.
لیکن اگر آپ ایک مہینے کی عمر والا پودا لگانا چاہیں تو وہ آپ کو زیادہ سے زیادہ 30 روپے میں ملے گا. اس حساب سے آپ کا 700 پودوں پر خرچ 21 ہزار روپے آئے گا.
اسی طرح اگر ایک سال کی عمر کا 50 روپے والا پودا آپ لے لیتے ہیں تو 700 پودوں کا خرچ 35ہزار روپے ہوگا.
لہذا آپ کا ایک ایکڑ میں پودوں کا خرچ تقریباََ 20 ہزار سے لیکر ایک لاکھ روپے تک ہو سکتا ہے.
اس طرح ایک ایکڑ انگور لگانے کا مجموئی خرچ ڈیڑھ لاکھ سے سوا دو لاکھ روپے تک ہو سکتا ہے.
کھیت میں پودے لگانے سے لیکر پھل آنے تک کھاد، سپرے اور پانی وغیرہ کا خرچ اس کے علاوہ ہے.

ایک ایکڑ انگور کے باغ سے کتنی آمدن ہو گی؟

یہ بات تو ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ ایک ایکڑ میں عام طور پر 700 پودے لگائے جاتے ہیں. ان میں اگر اوسطاََ 650 پودوں پر بھی اچھا پھل ہو اور فی پودا پیداوار 12 سے 15 کلو رہے تو اس حساب سے فی ایکڑ پیداوار 7800 کلو (195من) سے لیکر 9750 کلو(244 من) تک ہو سکتی ہے.

رنگ دار ورائٹی والے باغ سے فی ایکڑ آمدن

منڈی میں رنگ دار انگور کا ریٹ 30 سے 50 روپے فی کلو تک ملتا ہے.
اس لحاظ سے رنگ دار ورائٹی والے ایک ایکڑ سے کم از کم 2 لاکھ 34 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 4 لاکھ 87 ہزار روپے تک کی آمدن ہو سکتی ہے.

انگوری رنگ کی ورائٹی والے باغ سے فی ایکڑ آمدن

انگوری رنگ کا پھل منڈی میں 50 سے 100 روپے تک بکتا ہے.
اس لحاظ سے آپ کی کم از کم آمدن 3 لاکھ 90 ہزار جبکہ زیادہ سے آمدن 9 لاکھ 75 ہزار روپے تک ممکن ہے.

انگور کے باغات کوکھاد کتنی ڈالنی چاہئیے؟

ایک سال کی عمر کے پودے کے لئے کھادوں کا استعمال

اگر آپ کا پودا ایک سال کا ہو تو آپ نے اسے صرف یوریا کھاد ڈالنی ہے.
پہلے سال آپ نے 3 بوری یوریا فی ایکڑ کھاد ڈالنی ہے. کھاد پوری کرنے کے لئے 220 گرام یوریا فی پودا کھاد ڈالیں.

دو سال کی عمر کے پودے کے لئے کھادوں کا استعمال

جب آپ کا پودا دو سال کا ہو جائے تو آپ نے ساڑھے 4 بوری یوریا، 8 بوری ایس ایس پی اور 4 بوری پوٹاشیم سلفیٹ استعمال کرنی ہے.
کھاد پوری کرنے کے لئے 325 گرام یوریا فی پودا، 550 گرام ایس ایس پی فی پودا، اور 300 گرام پوٹاشیم سلفیٹ کھاد فی پودا استعمال کریں.
دوسرے سال آپ نے ان کھادوں کے علاوہ 5 کلو گوبر کی گلی سڑی کھاد فی پودا ستعمال کرنی ہے.

تین سال یا اس سے زیادہ عمر کے پودے کے لئے کھادوں کا استعمال

اگر آپ کا پودا تین سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہو تو آپ نے 6 بوری یوریا، ساڑھے 11 بوری ایس ایس پی اور 7 بوری پوٹاشیم سلفیٹ استعمال کرنی ہے.
کھاد پوری کرنے کے لئے 435 گرام یوریا فی پودا، 825 گرام ایس ایس پی فی پودا، اور 500 گرام پوٹاشیم سلفیٹ کھاد فی پودا استعمال کریں.
ان کھادوں کے ساتھ ساتھ آپ نے 7 کلو گوبر کی گلی سڑی کھاد فی پودا ستعمال کرنی ہے.
یہ وہ کھادیں ہیں جو انگور پر تحقیق کرنے والے ادارے تجویز کرتے ہیں. لیکن پنجاب میں کاشتکار عام طور پر اتنی زیادہ کھادیں استعمال نہیں کرتے. آپ بھی اپنی فصل اور زمین کو سامنے رکھتے ہوئے کھادوں کو کم کر سکتے ہیں.

انگور کے باغات کو کھادیں کب کب ڈالنی چاہئیں؟

یاد رکھیں کہ گوبر کی کھاد آپ نے جب بھی ڈالنی ہے سردی کے موسم یعنی دسمبر میں ڈالنی ہے. گرمیوں میں گوبر ڈالنے سے زمین میں حرارت پیدا ہوتی ہے جو پودوں کے لئے نقصان دہ ہے.
فاسفورس اور پوٹاش ہمیشہ بیلوں کی کانٹ چھانٹ کے بعد فروری میں ڈالیں. فروری میں بیلوں کے نئے پتے نکل رہے ہوتے ہیں اور اس موقع پر پودے کو طاقت کی ضرورت ہوتی ہے.
البتہ یوریا کھاد آپ نے دو حصوں میں کر لینی ہے. آدھی کھاد فاسفورس اور پوٹاش کے ساتھ یعنی فروری میں اور بقیہ آدھی کھاد اس وقت ڈالنی ہے جب پھل بن چکا ہو یعنی اپریل کے مہینے میں.

ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ انگور کی بیل کو سب سے زیادہ نقصان دیمک سے ہوتا ہے. اور اگر آپ نے کچا گوبر ڈال دیا تو سمجھ لیں کہ یہ دیمک کا گھر ہے. کچا گوبر ڈالنے سے دیمک کا حملہ بہت زیادہ ہوتا ہے. اس لئے آپ نے اس بات کی تسلی کر لینی ہے کہ گوبر کم از کم ایک سال پرانا اور اچھی طرح سے گلا سڑا ہوا ہو.

انگور پر کون کون سی بیماریاں اور حشرات حملہ کرتے ہیں.
ویسے تو انگور پر کئی طرح کی بیماریاں اور کیڑے حملہ آور ہوتے ہیں. لیکن عام طور پر انگور کو سب سے زیادہ دیمک اور پھپھوندی کا حملہ ہوتا ہے.
دیمک کے کنٹرول کے لئے کلورپائری فاس یا فیپرونل زہر فلڈ کی جا سکتی ہے اور پھپھوندی کے خاتمے یا بچاؤ کے لئے تھائیو فینیٹ میتھائل کا سپرے کیا جا سکتا ہے

اگر ہوا میں نمی زیادہ ہو جائے، جھڑی سی لگ جائے یا ہلکا پھلکا بارش کا ماحول بنا رہے تو ان حالات میں پھپھوندی کا حملہ زیادہ ہوتا ہے. اس کے علاوہ جب پھل لگنا شروع ہو جائے دس پندرہ دن کے وقفے سے
تھائیو فینیٹ میتھائل یا کسی دوسری پھپھوندی کش زہر کا سپرے کرتے رہنا چاہئے.
بعض اوقات تھرپس بھی انگور کے نئے بننے والے گچھوں پر حملہ آوار ہوتی ہے. تھرپس کو کنٹرول کرنے کے لئے ایسیفیٹ یا پھر کلورفینا پائیر کا سپرے کیا جا سکتا ہے. اگر تھرپس کا خاتمہ نہ کیا جائے تو انگور کے دانوں پر نشان سے بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے انگور زیادہ پسند نہیں کیا جاتا اور منڈی میں ریٹ کم ملتا ہے.

انگور کی شاخیں کب اور کیسے کاٹی جاتی ہیں؟
ہر سال جنوری کے مہینے میں جب انگور کی بیل کے پتے جھڑ جاتے ہیں اس وقت پودے کی کانٹ چھانٹ نہائیت ضروری ہوتی ہے.
کرنا آپ نے یہ ہے کہ کوئی اچھا سا کٹر لے کر بیل پر موجود ایک سال پرانی شاخیں کاٹ دیں. کیونکہ ایک سال سے پرانی شاخ پر پھل نہیں لگتا اور وہ نہ صرف پودے کے لئے بوجھ ہوتی ہے بلکہ ہوا، روشنی، پانی اور خوراک میں سے بھی اپنا حصہ لیتی ہے. اس لئے اسے کاٹنا بہت ضروری ہے. البتہ ایک سال کی عمر کی شاخیں مت کاٹیں کیونکہ یہی وہ شاخیں ہیں جن پر پھل لگنا ہے.

انگور کی قلم سے پودا کیسے تیا کیا جا سکتا ہے؟

قلم کے ذریعے انگور کے پودے تیار کرنا بہت آسان ہے.
وہ شاخیں جو ایک سال پرانی ہوتی ہیں اور جنہیں کانٹ چھانٹ کے عمل میں آپ کاٹ دیتے انہیں ضائع مت کریں.

بلکہ ان شاخوں کی قلمیں بنا کر انہیں پلاسٹک کی تھیلیوں میں یا براہ راست زمین میں لگا دیں. شاخوں کے درمیانی حصے کو قلم کے لئے استعمال کریں. قلم کی لمبائی کم از کم 8 سے 10 انچ ہو اور ایک قلم پر کم از کم تین آنکھیں موجود ہوں.قلم زیادہ باریک نہ ہو.
قلمیں لگانے سے پہلے آپ نے ان قلموں کو نمدار مٹی یا ریت میں کم از کم 15 دن سے ایک مہینے تک دبا دینا ہے.
اس عمل سے جو کمزور قلمیں ہو گی وہ سوکھ جائیں گی اور جو صحت مند قلمیں ہو گی وہ نرم ہو جائیں گی.
اب ان تیار شدہ قلموں کو زمین میں لگائیں. آپ دیکھیں گے کہ ان قلموں سے بہترین پودے بنیں گے انشاء اللہ. آپ ان پودوں کو مزید باغ لگانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں یا فروخت کر کے پیسے کما سکتے ہیں.

تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

اظہار تشکر
یہ مضمون لکھنے کے لئے پنجاب کے طول و عرض میں انگور کی کاشت سے وابستہ ترقی پسند کاشتکاروں کے تجربات سے استفادہ کیا گیا ہے.
اس کے علاوہ بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کے تجربات سے بھی مدد لی گئی.
اس مضمون میں شامل تمام تصویریں پنجاب کے مختلف باغات سے لی گئی ہیں.
راقم ان تمام کاشتکار حضرات اور تحقیقی ادارے باری چکوال کا بے حد ممنون ہے.

Share Please

2 تبصرے “انگور کی کاشت، اخراجات اور آمدن سے متعلق ایک جامع مضمون

  1. Me angoor ka baghun lagane me entrusted he plz koi achi c compny ka bta den jo bagh lgati hain

  2. آپ کا یہ مضمون بہت معیاری ہے.. میں بھی یہ فصل کاشت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں.. براہ کرم آپ کسی پلر بنانے والے کا رابطہ نمبر شیئر کر سکتے ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں