فال آرمی ورم: مکئی کی فصل کے لئے ابھرتا ہوا خطرہ

ایک زمانہ تھا  جب لشکری سنڈی  یا  آرمی ورم ، کپاس کے کاشتکاروں کے لئے دہشت کی علامت تھی۔ لیکن پھر بی-ٹی کپاس  کی دریافت نے اس سنڈی کو بے بس کر کے رکھ دیا۔

آج کل اسی سنڈی  کی ایک قریبی رشتہ دارسنڈی، مکئی کی فصل پر حملہ آور ہے  جو اپنی شکل و صورت اور چال ڈھال میں لشکری سنڈی سے  بہت زیادہ ملتی جلتی  ہے۔ اس نئی سنڈی کو فال آرمی ورم کا نام دیا گیا ہے۔ 

مکئی پر حملہ کرنے والی اس سنڈی کو فال آرمی ورم کیوں کہتے ہیں؟

فال (Fall)   انگریزی زبان کا لفظ ہے   جسے امریکہ میں موسم خزاں کے لئے بولا جاتا ہے۔ دراصل فال  (Fall) کے  لغوی معنی  گرنے کے ہیں۔ چونکہ خزاں  کے موسم میں درختوں کے پتے زمین پر گرنے لگتے ہیں اسی مناسبت سے  موسم خزاں کو امریکی، فال   (Fall) کہ کر پکارتے ہیں۔ واضح رہے کہ  پتے جھڑنے کی نسبت سے پاکستان میں  بھی موسم خزاں کو  بعض اوقات پت جھڑ  کہ دیا جاتا ہے۔

فال کے ساتھ دوسرا لفظ ہے آرمی ورم ۔ آرمی  ورم دراصل دو لفظوں کا مجموعہ ہے ایک آرمی (Army) اور دوسرا  ورم (Worm)۔

آرمی (Army) کا مطلب ہے لشکر ۔ ۔ ۔ اور  ورم  (Worm) کا مطلب ہے سنڈی۔  ۔ ۔ اس طرح آرمی ورم کا مطلب ہوا لشکری سنڈی۔

لہذا اردو میں ہم فال آرمی ورم کو  اگر چاہیں تو   پت جھڑی لشکری سنڈی کہ سکتے ہیں۔

اس سنڈی کو پت چھڑی لشکری سنڈی کہنے کی  دو وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس سنڈی کا زیادہ تر حملہ پت جھڑ یعنی موسم خزاں میں ہوتا ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ  اس کے انڈوں  سے جب بچے نکلتے ہیں  تو وہ لشکر  یا جتھوں کی صورت میں پتوں پر حملہ آور  ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جیسے ہی یہ بچے ذرا بڑے ہوتے ہیں تو پھر ہر پودے پر  دو دو چار چار سنڈیاں مورچے سنبھال کر تباہی مچانا شروع کر دیتی ہیں۔   

پت جھڑی لشکری سنڈی کی پہچان کیا ہے؟

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ پت جھڑی لشکری سنڈی،  عام لشکری سنڈی سے بہت زیادہ ملتی جلتی ہے۔  سب سے پہلے آپ نیچے دی گئی تصویرکے مختلف حصوں کو دیکھئے۔

جب آپ مکئی کے کھیت میں پت جھڑی لشکری سنڈی کو پہچاننے کی کوشش کریں گے تو آپ کو اس کے جسم خاص طور پر دم اور منہ کے حصوں پر نشانات اتنے واضح طور پر نہیں آئیں گے جیسا کہ آپ کو تصویر نمبر 2 اور تصویر نمبر3 میں نظر آ رہے ہیں۔ تصویر میں نشانات کا واضح طور پر نظر آنا دراصل کیمرے کے عدسے کا کمال ہے۔ ہاں اگر آپ محدب عدسے کی مدد سے سنڈی کو دیکھنے کی کوشش کریں گے تو پھر آپ کو یہ نشانات ایسے ہی نظر آئے گی جیسا کہ دی گئی تصاویر میں نظر آ رہے ہیں۔

اب آپ ذرا نیچے والی دونوں تصویروں تصویر نمبر 2 اور تصویر نمبر 3 کوغور سے دیکھئے۔ تصویرنمبر 2 میں سنڈی کی دُم کے نیچے والے حصے پرمربع نما شکل کے چار واضح نقطے نظر آ رہے ہیں۔ ان چار نقطوں کے بالکل اوپر بھی چار نقطے موجود ہیں مگر یہ مربع نما نہیں بلکہ مخروطی شکل کے ہیں۔ یہ سارے نقطے اس سنڈی کی خاص نشانی ہیں۔

اسی طرح اب آپ تصویرنمبر3 کو دیکھیں جہاں سنڈی کے منہ پر Y جیسا نشان بنا ہوا نظر آ رہا ہے۔ تصویر نمبر 2 اور 3 میں نظر آنے والی ان خاص علامتوں کی مدد سے آپ اس سنڈی کی شناخت کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

ان علامتوں کے علاوہ اس سنڈی کو پہچاننے والی ایک اور نشانی آپ تصویرنمبر 1 میں دیکھئے جہاں آپ کو سنڈی کے ارد گرد کافی زیادہ مقدار میں گند پڑا ہوا نظر آ رہا ہے۔ تصویر نمبر 1 میں تو آپ کو گند زرا کم نظر آ رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پت جھڑی سنڈی اس سے بھی کہیں زیادہ گند ڈالتی ہے اورزیادہ تر اسی گند میں چھپ کر بیٹھنے کی کوشش کرتی ہے۔

آخری بات ہے اس سنڈی کے رنگ کی۔ اس کا رنگ ہلکے سبز سے لے کر پیلا، بھورا اور بھورا سیاہ ہو سکتا ہے۔ یہ اپنی عمر اور خوراک کے حساب سے رنگ بدلتی رہتی ہے۔ اوپر دی گئی تصویرنمبر 1 میں نظر آنے والی سنڈی کو مکئی کے نئے بننے والے سِٹّے سے پکڑا گیا ہے۔ سِٹّے کا رنگ چونکہ پیلا ہوتا ہے لہذا جیسی خوراک تھی سنڈی نے بھی ویسا ہی رنگ اختیار کیا ہوا ہے۔

لیکن یاد رہے کہ ان سب علامتوں اور نشانیوں کے بعد بھی کاشتکار پت جھڑی سنڈی کو پہچاننے میں دھوکا کھا سکتا ہے۔ بس آخری بات یہ ذہن میں رکھیں کہ اگر آپ کی فصل کے پتے بہت بڑی مقدار میں کھائے جا رہے ہیں۔ پتوں میں لمبے لمبے سوراخ نظر آ رہے ہیں اور پودا ٹنڈ منڈ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے تو سمجھ لیجئے کہ یہ لشکری نہیں بلکہ پت جھڑی لشکری سنڈی ہے۔

ہاں اگر پھر بھی پہچان نہ ہو پائے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ کیونکہ لشکری سنڈی اور پت جھڑی لشکری سنڈی، دونوں کو مارنے والے زہر ایک ہی ہیں۔ لہذا جب آپ زہر سپرے کریں گے تو اس سے لشکری اور پت جھڑی لشکری سنڈی دونوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔

پت جھڑی لشکری سنڈی کس طرح کے موسم میں  انڈے بچے دیتی ہے؟

پت جھڑی سنڈی کی افزائش نسل کے لئے موزوں ترین  درجہ حرارت  28 ڈگری سینٹی گریڈ ہے لیکن یہ 11 ڈگری سے لے کر 30 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان   بھی انڈے دے سکتی ہے جن سے بچے بھی  نکل آتے  ہیں۔ درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ ہوا میں   نمی زیادہ ہو تو یہ سنڈی بہت خوش رہتی ہے۔ درجہ حرارت 11 ڈگری سے کم ہو جائے تو اس کی افزائش رک جاتی ہے اور مزید انڈے بچے دینے کے قابل نہیں رہتی۔

یہ سنڈی فصل کا  نقصان کیسے کرتی ہے؟

آگے ہم ذرا تفصیل سے بتائیں گے کہ پت جھڑی سنڈی گچھوں کی صورت میں انڈے دیتی ہے۔ ہر گچھے سے نکلنے والی  چھوٹی چھوٹی   بیسیوں سنڈیاں   آپ کو ایک ہی پودے پر نظر آئیں گی لیکن  بڑی سنڈیا ں ایک پودے پر عام طور پر دو سے زیادہ نہیں ٹکتیں۔ جیسے جیسے سنڈیاں بڑی ہوتی جاتی ہیں وہ   لڑائی سے بچنے اور خوراک حاصل کرنے کے لئے دوسرے پودوں پر چلی جاتی ہیں۔

انڈوں سے نکلنے والی   باریک باریک سنڈیاں  پتوں کے سبز حصے کو چاٹنا شروع کر دیتی ہیں اور  پتوں کو اس طرح کھاتی ہیں کہ آخر میں پتے کی بس ایک  جھلی  سی ہی باقی رہ جاتی ہے ۔

اوپر والے دونوں سرخ دائروں میں جھلی نظر آ رہی ہے جبکہ نیچے والے پتے میں لمبائی کے رخ سوراخ نظر آ رہے ہیں

لیکن جوان سنڈیاں جھلی بھی نہیں چھوڑتیں اور پتوں کو آر پار کھا کر ان میں سوراخ کرتی چلی جاتی ہیں۔

۔ان سنڈیوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ  انڈے سے نکلتے ہی مکئی کی کونپل سے پودے کی  پور کے اندر داخل ہو جائیں لیکن جو سنڈیاں پورمیں داخل نہ سکیں وہ مکئی کے دیگر حصوں جیسے سٹوں اور بھٹوں وغیرہ کو بھی کھاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مکئی کے سٹے پر یوں تو اور بھی ایک دو سنڈیاں حملہ کرتی ہیں البتہ پت جھڑی سنڈی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ چوٹی کی بجائے  پہلو سے سٹے میں  داخل ہوتی ہیں اور وہیں بیٹھ کر کھاتی رہتی ہے۔

پت جھڑی سنڈی کون کون سی فصلوں پر حملہ آور ہوتی ہے؟

ویسے تو یہ سنڈی چاول ، کپاس،  جوار اور سبزیوں وغیرہ پر بھی دیکھی گئی ہے لیکن اس کی سب سے مرغوب فصل  مکئی ہے۔ یہ مکئی کے پتوں، سٹوں اور بھٹوں، ہر جگہ پر حملہ کرتی ہے۔  ہو سکتا ہے یہ آنے والے دنوں میں دیگر فصلوں کے لئے بھی خطرہ بن کر ابھرے لیکن آج کل اس نے زیادہ تر مکئی کے کاشتکاروں کو ہی پریشان کر رکھا ہے۔

پت جھڑی سنڈی انڈے سے لیکر جوان ہونے تک کن کن مراحل سے گزرتی ہے؟

پت جھڑی سنڈی کے مادہ پروانے کی  اوسط عمر 10 دن اور زیادہ سے زیادہ 21 دن ہے۔ اپنی اوسطا 10 دن کی  زندگی میں  مادہ 1500 تک انڈے دیتی ہے۔ یہ پروانی  تقریبا ڈیڑھ ڈیڑھ سو کے گچھوں میں   پتوں کے نیچے انڈے دیتی ہے۔ لیکن اگر اس سنڈی کا حملہ شدید ہو جائے تو پھراس کے انڈے ہمیں پتوں کے  اوپر  والی سطح حتی کہ نوخیز تنوں پر بھی نظر آتے ہیں۔ دراصل  پت جھڑی سنڈی ایک جھگڑالو مزاج کی لڑاکا سنڈی ہے۔ یہ نہ صرف دوسری کمزور سنڈیوں پر حملہ کرتی ہے بلکہ انہیں  جان سے مار کر کھا بھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فصل میں یہ سنڈیا ں ہمیں ایک دوسرے سے دور دور محفوظ فاصلے پر بیٹھی ہوئی نظر آتی ہیں۔

تقریبا تین دن میں ان انڈوں سے سنڈیاں نکل آتی ہیں جو قدرے سبزی مائل رنگ  ہوتی ہیں لیکن ان کا سر گہرے رنگ کا ہوتا ہے۔  جوان سنڈیاں  سبزی مائل سے بھورے یا سیاہ بھورے رنگ کی ہو سکتی ہیں ۔ یہ سنڈیاں دو سے تین ہفتے تک فصل میں خوب تباہی مچاتی ہیں ۔

دو یا تین ہفتے کے بعد پت جھڑی  سنڈی زمین پر گر جاتی ہے اور زمین کے اندر داخل ہو کر خود کو  کیپسول میں تبدیل  کر لیتی ہے ۔ زمین میں یہ کیپسول کوئی 10 سے 20 دن تک  پڑا رہتا ہے۔ آخر کار اس کیپسول سے پت جھڑی سنڈی کا پروانہ بالکل اسی طرح نکل آتا ہے جیسے انڈے سے بچہ نکلتا ہے۔ کیپسول سے نکلتے ہی یہ پروانہ انڈے دے کر اپنی اگلی نسل کا آغاز کردیتا ہے۔ 

  پت جھڑی سنڈی کو کنٹرول کیسے کیا جا سکتا ہے؟

ہمارے کاشتکار مکئی  کی فصل پر زیادہ تر دانے دار زہروں کا استعمال  کرتے ہیں لیکن پت جھڑی لشکری سنڈی پر دانے دار زہریں بے اثر ہیں۔

لہذا ضروری ہے کہ پت جھڑی سنڈی کو مارنے کے لئے فصل پر کپاس کی طرح سپرے کیا جائے۔ سپرے کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے کاشتکار بھائی ٹی  جیٹ نوزل کا استعمال کریں  اور فوارہ سیدھا  چوٹی سے مکئی کی پور کے اندر ماریں۔  کیونکہ زیادہ تر امکان یہی  ہوتا ہے کہ سنڈی مکئی کے پور کے اندر چھپ کر بیٹھی ہوئی ہے۔ لہذا مکئی کی پور کو چھوڑ کر ادھر ادھر پتوں پر سپرے کرنے سے اس کا موثر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔

 پت جھڑی سنڈی کو مارنے کے لئے آپ درج ذیل زہریں سپرے کر سکتے ہیں؟

1۔ سپنٹورام 120 ایس سی

2۔ فلیوبنڈا مائیڈ  48%  ایس سی

زہروں کے علاوہ بارش بھی اس سنڈی کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ تیز بارش سے اس سنڈ ی کے انڈے اور بچے  زمین پر گر جاتے ہیں جہاں مناسب ماحول  اور خوراک کی عدم دستیابی سے تلف ہو جاتے ہیں۔

تحریر

ڈاکٹر شوکت علی، ایسوسی ایٹ پروفیسرتوسیع زراعت زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

ڈاکٹر  محمد ارشد، ایسوسی ایٹ پروفیسر حشریات، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

ڈاکٹر محمد اعجاز اشرف، ایسوسی ایٹ پروفیسر توسیع زراعت زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں