جدید کھاد یں: ایک کسان کا ذاتی تجربہ

جدید کھادوں کے بارے میں ایک تجربہ
ملتان کے ترقی پسند کاشتکار جناب اسامہ محمد خان خاکوانی، اپنے رقبہ، واقع بہاولنگر میں مختلف تجربات کرتے رہتے ہیں. وہ اپنے تجربات کاہے بگاہے سوشل میڈیا پر بیان کرتے رہتے ہیں. یہاں جدید کھادوں کے حوالے سے ان کے چند تجربات ضروری ترامیم و اضافے کے ساتھ ان کی اجازت سے شائع کئے جا رہے ہیں. تاکہ ہمارے کسان اپنے ہی کسان بھائی کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکیں.

کوئی 7 سال قبل ابو ظہبی (متحدہ عرب امارات) کی ایک کمپنی “ایڈ فرٹ” سے میرا تعارف ہوا. یہ تعارف، پاکستان میں کام کرنے والی ایک مشہور کمپنی ایف ایم سی کی وساطت سے ہوا.
ایف ایم سی کے زرعی ماہرین نے مجھے ایڈفرٹ کمپنی کی مختلف کھادوں مثلاََ یوریا فاسفیٹ، نائٹروپوٹاش اور ایس او پی وغیرہ سے متعارف کروایا. اس مضمون میں ان کھادوں کو جدید کھادیں کہا گیا ہے.
جدید کھادیں فورا پانی میں حل ہو جاتی ہیں اور تیزابی مزاج رکھتی ہیں. دعوی کیا جاتا ہے کہ ان کھادوں سے فصلوں کی پیداوار حیران کن حد تک بڑھ جاتی ہے. یہی وجہ ہے کہ یہ کھادیں عام کھادوں کی نسبت کافی مہنگی ہیں.
ماہرین نے مجھے آم کے باغ کے لئے یہ جدید کھادیں استعمال کرنے کا مشورہ دیا. یہ کھادیں فی پودا چند سو گرام کے حساب سے ڈالنا تھیں.
تجربہ بہت کامیاب رہا اور ہمارے آم کے باغ نے ڈبل پیداوار دی اور یہ پیداوار اس باغ کی تاریخ میں سب سے زیادہ تھی.
ایف ایم سی کی ٹیم نے ان کھادوں کے مزید فوائد بیان کئے. خاص طور پر ان کھادوں کا تیزابی مزاج، کھادوں کا مکمل طور پر پانی میں اس طرح حل ہونا کہ ساری کی ساری کھاد پودے کی خوراک بن جائے وغیرہ.
دیکھا جائے تو جدید کھادوں کے برعکس عام کھادیں فوراََ اور مکمل طور پر پانی میں حل نہیں ہوتیں، بلکہ مٹی کے ساتھ اس طرح چمٹ چاتی ہیں کہ پودے کا ان کھادوں کو استعمال کرنا ناممکن ہو جاتا ہے.
آم کے بعد ان جدید کھادوں کو کینو کے باغات پر آزمایا گیا جس کے نتائج بڑے تسلی بخش تھے. آم اور کنوں کے باغوں میں ان کھادوں کے غیر معمولی نتائج سے حوصلہ افزائی اور مطمئن ہونے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ ڈی اے پی، یوریا اور دوسری عام کھادوں کو الوداع کہنا ہے اور آئندہ تمام فصلوں میں یہی جدید کھادیں ہی استعمال کرنی ہیں.
سب سے پہلے کپاس کی باری آئی .
میں نے بھاری سرمایہ کاری کی اور ان کھادوں کے سینکڑوں بیگ خریدے. لیکن نتائج حوصلہ افزا نہ تھے.
اگلی باری گندم کی تھی.
لیکن اس بار بھی مایوسی ہوئی.
گندم کو یہ کھادیں ڈالنے سے ان کی ناکامی مکمل طور پر واضح ہو گئی.
مختصراً یہ کہ میں نے اپنے تجربے اور مشاہدے کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان اور مختلف ممالک میں ان جدید کھادوں کے حوالے سے ہونے والی تحقیق کا بغور مطالعہ کیا. اور بالآخر اس نتیجے پر پہنچا.
میں اپنے داتی تجربے سے کس نتیجے پر پہنچا؟
میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ کھادیں باغات پر 100 فیصد کام کرتی ہیں. لیکن کپاس، گندم اور مکئی وغیرہ جیسی فصلوں میں ان کھادوں سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے آپ کو زراعت کی سائنسی سمجھ بوجھ حاصل کرنا پڑتی ہے.
جدید کھادوں کے باغات پر اثر کرنے جبکہ دیگر فصلوں پر اثر نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟
میرے نزدیک اس کی دو وجوہات ہیں:
پہلی وجہ یہ ہے!
جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ یہ کھادیں عام کھادوں کے برعکس مکمل طور پر اور فوری طور پر پانی میں حل ہو جاتی ہیں. جب یہ کھادیں ڈال کر پانی لگایا جاتا ہے تو پانی کے ساتھ ساتھ یہ کھادیں بھی زمین کی گہرائی تک چلی جاتی ہیں.
لہذا جن پودوں کی جڑیں زیادہ گہرائی میں بھی پائی جاتی ہیں (مثلاََ باغات وغیرہ) وہ پودے ان کھادوں کو حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں. لیکن جن پودوں کی جڑیں بس ایک آدھ فٹ گہرائی تک ہی ہوتی ہیں (مثلاََ گندم، کپاس اور مکئی وغیرہ) ان کی دسترس سے یہ کھادیں بہت نیچے چلی جاتی ہیں. بس یہی وجہ ہے کہ یہ کھادیں باغات میں زیادہ کامیاب ہیں.
دوسری وجہ یہ ہے!
ہم نے بچپن میں سنا تھا کہ اونٹ کو جب پانی ملتا ہے تو وہ بہت سا پانی اپنے پیٹ اور کوہان میں جمع کر لیتا ہے. اور پھر وہ اس جمع شدہ پانی کو ضرورت کے مطابق استعمال کرتا رہتا ہے اور کئی کئی دن بغیرپانی کے گزارہ کر لیتا ہے. جبکہ اس کے برعکس بھیڑوں بکریوں کو تھوڑے تھوڑے پانی کی دن میں کئی مرتبہ ضرورت ہوتی ہے.
معلوم نہیں اونٹ والی بات کہاں تک درست ہے. لیکن اگر ہم بات کو سمجھنا چاہیں توباغات کا رویہ بالکل اونٹ جیسا اور گندم، کپاس مکئی وغیرہ کا رویہ بالکل بھیڑ بکریوں جیسا ہوتا ہے.
دراصل ہوتا یہ ہے کہ باغات کی جڑوں کے آس پاس سےجب کھاد والا پانی گزرتا ہے تو وہ جڑوں کے ذریعے ذیادہ سے زیادہ کھاد حاصل کرلیتے ہیں. اور پھر اس کھاد کو دیر تک ضرورت کے مطابق استعمال کرتے رہتے ہیں. جبکہ گندم، کپاس، مکئی وغیرہ میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی. اس لیے ان کی جڑوں کے آس پاس سے گزرنے والی تمام کھادیں پانی کے ساتھ زمین کی گہرائی میں جا کرضائع ہو جاتی ہیں.

گندم، کپاس، مکئی وغیرہ پر جدید کھادوں کیسے استعمال کرنی چاہئیں؟
کپاس، گندم، مکئی وغیرہ پر کھادیں تھوڑی تھوڑی اور بار بار استعمال کرنی چاہئیں. یعنی ایک آبپاشی میں 2 کلو سے 5 کلو کے درمیان استعمال کریں. جب پودے چھوٹے ہوں اور جڑ جھوٹی ہو تو 2 کلو کھاد لیکن جب بڑے ہو جائیں اور جڑ پھیل جائے تو 5 کلو تک کھاد بڑھا سکتے ہیں. ڈے اے پی کی طرح نیچے ڈالنے کے لئے ان کھادوں کا استعمال مناسب نہیں ہے.
یوں سمجھئے کہ اگر ایک ایکڑ گندم کی فصل، 5 کلوگرام یوریا فاسفیٹ، 36 گھنٹوں میں استعمال کر سکتی ہے، اور آپ نے آبپاشی کے ساتھ 15 کلو گرام کھاد ڈال دی ہے تو 5 کلو گرام کھاد تو فصل استعمال کر لے گی جبکہ باقی 10 کلو گرام کھاد پودوں کی جڑوں کے پاس سے گزرتی ہوئی گہرائی میں جا کر ضائع ہو جائے گی.
دوسرے الفاظ میں اگر آپ ان کھادوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ فصل کو کس وقت کتنی کھاد کی ضرورت ہے.
مثلاً مکئی کو پہلے 45 دنوں کے دوران کھاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے.
اسی طرح گندم کے لئے 60 دن کے اندر اندر اور ہر حال میں دوسری آبپاشی کے ساتھ تمام کھاد ڈالنا ضروری ہوتا ہے. لہذا “جب پیاس لگے تب پانی دو” والے فارمولے کو سامنے رکھتے ہوئے کھاد ڈالیں.
ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے!
اب اس ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ فولئر کھادیں آپ عام کھادوں کی جگہ استعمال نہیں کر سکتے بلکہ انہیں ایک اضافی اور فائدہ مند تڑکے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے. مثال کے طور پر ایک بوری ڈی اے پی (عام کھاد) کے ساتھ 10کلو مونو امونیم فاسفیٹ (فولئر کھاد) دو برابر حصوں میں پہلی دو آبپاشیوں کے ساتھ استعمال کرنا بہت مفید ہے. اگر آپ مونو امونیم فاسفیٹ ڈے اے پی کھاد کی جگہ استعمال کریں گے تو یہ پیسہ ضائع ہوجائے گا. یہ کھادیں ڈرپ آبپاشی کے نظام کے لئے بہترین ہیں، جس میں آبپاشی اور کھاد کو تھوڑا تھوڑا اور بار بار استعمال کیا جاسکتا ہے.

ترمیم و اضافہ: ڈاکٹر شوکت علی

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں