توسیع زراعت کا موجودہ اور مجوزہ نظام : حل کیا ہے؟

مضمون کا خلاصہ

یہ مضمون حکومت کی طرف سے تجویز کئے گئے زرعی ٹرانسفارمیشن پلان کے تناظر میں لکھا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ اس پلان میں محکمہ زراعت (توسیع) کے متوازی ایک پرائیویٹ نظام کھڑا کرنے کی تجویز ہےجس سے مصنف اتفاق نہیں کرتا۔ یہ مضمون چار حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں موجودہ محکمہ زراعت (توسیع) کا تنقیدی جائزہ لے کر واضح کیا گیا ہے کہ اس محکمے کو اپاہج کرنے کے ذمہ دار ضلعی انتظامیہ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ کیونکہ ضلعی انتظامیہ، زراعت افسروں کو غیر توسیعی سرگرمیوں میں الجھائے رکھتی ہے اور فنانس ڈیپارٹمنٹ زرعی عملے کی نقل و حرکت کے لئے مطلوبہ وسائل مہیا نہیں کرتا۔ مضمون کے دوسرے حصے میں محکمہ زراعت کی سرگرمیوں کو موثر بنانے کا حل پیش کیا ہے جومجوزہ نظام کے مقابلے میں انتہائی سادہ اور کم خرچ بھی ہے۔ مضمون کے تیسرے حصےمیں ٹرانفارمیشن پلان کے تحت تجویز کئے گئے نئے توسیعی نظام کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے اور اس کی خامیوں کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مصنف کی رائے میں نیا نظام ٹھوس بنیادوں پر استوار نہیں کیا گیا۔ لہذا قومی خزانے سے ایک بڑی رقم خرچ ہونے کے باوجود بھی نیا نظام، زراعت میں ممکنہ طور پر خاطر خواہ تبدیلی لانے میں ناکام رہے گا۔ مضمون کے چوتھے اور آخری حصے میں توسیع زراعت کی پرائیویٹ ڈلیوری کا ایک قابل قبول خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ ایک ایسا خاکہ جس پر قومی خزانے سے بہت کم پیسہ خرچ ہو گا۔ مصنف کا تجویز کردہ پرائیویٹ نظام، محکمہ زراعت (توسیع) کے متوازی نہیں بلکہ ایک معاون نظام کے طور پر کام کرے گا- زیر نظر مضمون زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر کام کرنے والے ماہرِ توسیع زراعت ڈاکٹر شوکت علی نے تحریر کیا ہے۔ ڈاکٹر شوکت، توسیع زراعت میں پی ایچ ڈی ڈگری کے حامل ہیں اور بطور استاد و محقق دس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔

پہلا حصہ: توسیع زراعت کو مفلوج کس نے کیا؟

یہ بات تو آپ کے علم میں ہو گی کہ حکومت زرعی شعبہ جات کی ٹرانسفارمیشن کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اسی پلان کے تحت محکمہ زراعت (توسیع) کے متوازی ایک پرائیویٹ نظام لایا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ پرائیویٹ نظام کے لئے حالیہ بجٹ 2021 میں 18 ارب سے زائد کی ایک بڑی رقم زیر تجویز ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر محکمہ زراعت (توسیع) کے ہوتے ہوئے ایک نیا متوازی نظام کھڑا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

ٹرانسفارمیشن تجویز کرنے والوں کے نزدیک اس کا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ محکمہ زراعت (توسیع) کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے اور اس میں تعینات اہلکار کام نہیں کرتے۔

توکیا واقعی ایسا ہے؟ بات تو بڑی تلخ ہے لیکن حققت یہ ہے کہ محکمہ زراعت (توسیع) کواپاہج کرنے کے ذمہ داران میں سر فہرست ضلعی انتظامیہ اور اس کے بعد فنانس ڈیپارٹمنٹ ہے۔

آئیے پہلے ضلعی انتظامیہ کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔

زراعت افسر کی ڈیوٹی میں شامل ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر دیہاتوں کا دورہ کرے۔ کاشتکاروں سے ملاتیں کرے۔ اہم زرعی امور کے حوالے سے کسانوں کی ٹریننگ کرے اور انہیں مفید مشورے دے۔ اس کام کےلئے زراعت افسر کے پاس مہینے کے 26 دن ہوتے ہیں۔

میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ ایک چھوٹا سا سروے کریں اور زراعت افسران سے پوچھیں کہ 26 دنوں میں سے کتنے دن انہیں دیہاتوں میں جانے دیا جاتا ہے اور یہ بھی پوچھیں کہ آخروہ کون ہے جو ان کے کام میں مداخلت پیدا کرتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ان 26 دنوں میں سے شائد 10 دن بھی زراعت افسروں کو دیہاتوں میں جانے نہیں دیا جاتا ہو گا۔ اور یہ ضلعی انتظامیہ ہے جو ان میں کام میں مداخلت پیدا کرتی ہے۔

یقیقنا آپ جاننا چاہیں گے کہ یہ مداخلت کس طرح کی ہے اور کیوں کی جاتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ زرعی توسیع کے علاوہ، زراعت افسروں سے ہر طرح کا کام لیا جاتا ہے۔ زراعت افسر سارا سال کن کن سرگرمیوں میں جتے رہتے ہیں آئیے اس کا ذرا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔

1۔ پرائس کنٹرول

حکومت، کھانے پینے کی اشیاء مثلا سبزیات، پھل، آٹا، گھی، چینی اور دالوں وغیرہ کی قیمتوں کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ پرائس کنٹرول کی ذمہ داری کس محکمے کی ہے۔ لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ قیمتوں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری اکثر زراعت افسروں کو تفویض کی جاتی ہے اور دن کا زیادہ تر وقت یہ زراعت افسران اسی کام میں مشغول رہتے ہیں۔ اس کام کے لئے زراعت افسر دیہاتوں میں جانے کی بجائے شہروں و قصبوں میں سبزیوں پھلوں کے ٹھیلوں اور کریانے وغیرہ کی دکانوں کا گشت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ جہاں ریٹ لسٹوں کی پڑتال کر کے دیکھا جاتا ہے کہ پرچون فروش منافع خوری تو نہیں کر رہا۔ اسی ضمن میں زراعت افسروں کو سبزی منڈی میں بھی بھیجا جاتا ہے جہاں وہ علی الصبح بولی کا معائنہ کرتے ہیں۔ اشیاء کی طلب و رسد کا جائزہ لیتے ہیں اور قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے دلالوں و کمیشن ایجنٹوں پر نظر رکھتے ہیں۔ شام کے وقت سارے دن کی کارگزاری ضلعی انتظامیہ کو رپورٹ کی جاتی ہے۔ پرائس کنٹرول کی یہ ذمہ داریاں سارا سال چلتی رہتی ہیں جن میں زراعت افسر مشغول رہتے ہیں۔ زراعت افسران کے لئے لازم ہے کہ وہ یہ کام ترجیحی بنیادوں پر کریں۔ ظاہر ہے اس کے لئے انہیں توسیعِ زراعت کا کام پسِ پشت ڈالنا پڑتا ہے۔

2۔ ڈینگی سروے

گزشتہ کئی سالوں سے ڈینگی ایک بڑے خطرے کے طور پر ابھرا ہے۔ ڈینگی پر قابو پانے کا اہم طریقہ ڈینگی لارووں کی تلفی ہے۔ویسے تو یہ کام محکمہ ہیلتھ سے متعلق معلوم ہوتا ہے لیکن توسیع زراعت کے زرعی افسروں کو بھی یہ ڈیوٹی تفویض کر دی جاتی ہے۔ زراعت افسر شہروں اور قصبوں میں ڈینگی لارووں کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔ اگر کہیں لاروا پایا جائے تو متعلقہ جگہ کی تصویریں بنا کر متعلقہ محکمے کو رپورٹ کرنا ہوتی ہے تاکہ لاروے کا سد باب ہو سکے۔ ڈینگی سروے کا یہ کام جولائی، اگست اور ستمبر کے مہینوں میں زوروں پر ہوتا ہے۔ ان مہینوں میں توسیع زراعت کا کام عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہی وہ دن ہوتے ہیں جب کپاس کی فصل کا اگاؤ ہو چکا ہوتا ہے اور کاشتکاروں کو فصل کی ابتدائی دیکھ بھال کے بارے میں مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان اہم مہینوں میں بھی جب زراعت افسران کاشتکاروں کے پاس نہیں جا پاتے تو ایسے میں کاشتکاروں کا یہ کہنا بجا طور پر درست ہے کہ زراعت افسر کام نہیں کرتے۔

3۔ رمضان بازار

رمضان کا مقدس مہینہ آتے ہی حکومت رمضان بازار لگا دیتی ہے۔ویسے تو ایگری مارکیٹنگ کا الگ سے محکمہ موجود ہے لیکن رمضان بازاروں کی کامیابی کے لئے ضلعی انتظامیہ کو زراعت افسروں کی بھی ضرورت پڑجاتی ہے۔ ان زرعی کارکنان کو رمضان بازاروں میں سستی دکانیں لگانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ یہ کارکنان منڈی سے سستے داموں اشیاء اپنی ذاتی جیب سے خرید کر رمضان بازار میں دکانیں سجا لیتے ہیں۔ دکان داری کرنے کے لئے وہاں توسیع زراعت کا عملہ بٹھا دیا جاتا ہے جہاں وہ سارا دن گاہکوں سے نمٹتا رہتا ہے۔ اس سال رمضان کا مہینہ وسط اپریل سے وسط مئی تک تھا۔ اور یہ دونوں مہینے وہ ہیں جب کپاس کی کاشت زوروں پر ہوتی ہے۔ اب کاشتکاروں کو یہ بات کون سمجھائے کہ انہیں مشورہ دینے والے زرعی کارکنان رمضان بازاروں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

4۔ باردانہ کی تقسیم

گندم کی فصل سنہری ہوتے ہی حکومت گندم خریداری مراکز کے انتظام میں لگ جاتی ہے۔ جہاں کاشتکاروں سے سرکاری نرخ پر گندم خریدی جانی ہوتی ہے۔ اس اہم کام کے لئے فوڈ ڈیپارٹمنٹ، ریونیو ڈیپارٹمنٹ، اور مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ موجود ہے لیکن انتظامیہ محکمہ زراعت (توسیع) کے عملے کو پابند کرنا بھی ضروری خیال کرتی ہے۔ لہذا ان مراکز پر زراعت افسروں کی ڈیوٹیاں لگا دی جاتی ہیں جہاں وہ ساراسارا دن کاشتکاروں کےخسرہ گرداوری کا جائزہ لے کر انہیں باردانہ جاری کر رہے ہوتے ہیں۔ گندم خریداری کے اس کام کا زور اپریل اور مئی کے مہینوں میں ہوتا ہے۔ اور ظاہر ہے انہی مہینوں میں ہی کاشت کار کپاس کی بوائی کے لئے کھیت تیار کر رہے ہوتے ہیں اور بیج وکھاد وغیرہ کے انتخاب کے لئے انہیں مشورے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ان اہم دنوں میں زرعی افسران ضلعی انتظامیہ کے حکم پر گندم خریداری مراکز پر بیٹھ کر باردانہ شماری میں مصروف ہوتے ہیں۔

5۔ پولیو مہم

زراعت افسران کے بغیر حکومت کی پولیو مہم بھی ادھوری رہتی ہے۔ یوں تو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا عملہ ہی پولیو قطرے پلانے کا مجاز ہے لیکن ضلعی انتظامیہ ضروری سمجھتی ہے کہ زراعت افسروں کو پولیو ٹیموں کے ساتھ اُن کی سہولت و نگرانی کے لئے منسلک کر دیا جائے۔ زراعت افسر، ان پولیو ٹیموں کے ساتھ گھر گھر جاتے ہیں اورپولیو مہم کے عمل میں سہولت کار و نگران کا کردار ادا کرتے ہیں۔ شام کو زراعت افسر متعلقہ محکمے کو سارے دن کی کارگزاری رپورٹ بھی بھیجتے ہیں۔ صوبے میں جب بھی پولیو مہم کا آغاز ہوتا ہے، زراعت افسران کو بلا لیا جاتا ہے۔ اور اس دوران کاشتکاروں کو زرعی مشورے کون دے گا؟ ضلعی انتظامیہ اس بارے میں بہتر جانتی ہو گی۔

6۔ متفرق ڈیوٹیاں

مندرجہ بالا کاموں کے علاوہ بھی بہت سی ضلعی سرگرمیاں ایسی ہوتی ہیں جہاں زراعت افسروں کی موجودگی کو ازحد ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ فرداََ فرداََ ذکر کرنے کی بجائے بس یہی سمجھ لیں کہ ضلعی انتظامیہ جب اور جہاں ضرورت محسوس کرتی ہے توسیع زراعت کے عملے کو بلا بھیجتی ہے۔ البتہ اس مسئلے کو گہرائی میں سمجھنے کے لئے میں چند ایک ذاتی مشاہدات پیش کرتا ہوں۔ ایک مرتبہ مصنف اپنی تحقیق کے سلسلے میں وزیر آباد گیا۔ جب وزیر آباد کے محکمہ زراعت (توسیع) میں حاضری ہوئی تو وہاں تالے پڑے ہوئے تھے۔ تالے دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی۔ دفتر کے ساتھ کھڑے ایک ریڑھی بان نے بتایا کہ آج صبح سے ہی سارا عملہ یہاں سے تین چار کلومیٹر دور کسی سرگرمی میں مصروف ہے، اگر آپ آج ہی ملنا چاہتے ہیں تو وہاں تشریف لے جائیں۔ جب میں وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تحصیل کا سارا توسیعی عملہ گاڑیوں سمیت وہاں موجود ہے اور ہیلی کاپٹر کا ہیلی پیڈ بنانے کے لئے معاونت کر رہا ہے۔ پتا چلا کہ کل یہاں صوبے کے سربراہ تشریف لا رہے ہیں اور شنید ہے کہ ان کا ہیلی کاپٹر یہاں اترے گا۔ ظاہر ہے توسیعِ زراعت کے عملے نے اس دن کے تمام توسیعی پروگرام کینسل ہی کئے ہوں گے اور طے شدہ پرگرام کینسل کرنے سے کاشتکارکس طرح کے تبصرے کرتے ہوں گے۔ گاؤں میں رہنے والا ہر آدمی یہ بات با آسانی سمجھ سکتا ہے۔

اسی طرح ایک مرتبہ جھنگ میں توسیعِ زراعت کے ضلعی دفتر حاضر ہوا جہاں مجھے ضلعی افسر سے اپنی تحقیق کے سلسلے میں ملنا تھا۔ پتا چلا کہ یہاں سے پندرہ بیس کلومیٹر دور پختہ سڑک بن رہی ہے جہاں پراُن صاحب کی ڈیوٹی لگی ہوئی ہے۔ وہاں جانے پر معلوم ہوا کہ ڈیوٹی کا مقصد سڑک پر ڈالے جانے والے چارکول کی نگرانی کرنا ہے۔ اور یہ ڈیوٹی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے لگائی گئی تھی۔ میں نہیں جانتا کہ اس ڈیوٹی کا توسیع زراعت کے ضلعی افسر کی کوالیفکیشن کے ساتھ کیا تعلق تھا۔

یہ دو مثالیں محض بات واضح کرنے کے لئے دی گئی ہیں ورنہ اس طرح کی کہانیوں پر ایک کتاب مرتب ہو سکتی ہے۔

کیا ان حالات میں محکمہ زراعت(توسیع)، توسیعی سرگرمیاں سر انجام دے سکتا ہے؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہے۔ محکمہ (زراعت) توسیع کی اعلی قیادت بھی اس سلسلے میں بے بس نظر آتی ہے۔ میرے خیال میں قیادت نے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر کے نوکری کرنا سیکھ لیا ہے۔ اور زرعی کارکنان کی نفری کو ضلعی انتظامیہ کی ڈسپوزل پر چھوڑ دیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ توسیعی سرگرمیوں کی اہمیت سے واقف نہیں ہے۔ میرا ذاتی تجزیہ ہے کہ پنجاب میں کپاس کے بحران کی ایک وجہ توسیعی افسروں کی فیلڈ میں عدم موجودگی ہے۔ کیونکہ ایسے میں کاشتکار غیر جانبدار مشورے سے محروم ہو جاتا ہے۔ اور اُسے بیج ، کھاد، زرعی ادویات وغیرہ کے انتخاب و دیگر مشوروں کے لئے پرائیویٹ سیل افسروں یا ڈیلروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو زیادہ تر اپنے کاروباری مفاد کو سامنے رکھ کر مشورے دیتے ہیں۔

نوٹ: یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختلف ضلعوں میں زراعت افسروں کو سونپی جانے والی غیر توسیعی ڈیوٹیوں کی کیفیت مختلف ہے۔ البتہ درج بالا ڈیوٹیاں وہ ہیں جو زیادہ تر اضلاع میں اکثریتی زراعت افسران کو سونپی جاتی ہیں۔ بہت کم زراعت افسر ایسے ہیں جو اِن ڈیوٹیوں سے بچ کر اپنی توسیعی سرگرمیاں طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رکھتے ہیں۔

آئیے اب اس حوالے سے بات کرتے ہیں کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ کس طرح سے اس کا ذمہ دار ہے؟

توسیعِ زراعت کا کام کچھ ایسا ہے کہ اس میں زراعت افسروں کو دوردراز دیہاتوں میں کاشتکارکی دہلیز تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے لئے لازم ہے کہ زراعت افسروں کو ضروری سفری سہولیات مہیا کی جائیں۔

بہتر تو یہی ہے کہ زراعت افسر کو فیلڈ میں جانے کے لئے سرکاری گاڑی مہیا کی جائے۔ چلئے سرکار اگر گاڑی نہیں دے سکتی اور زراعت افسر اس کام کے لئے اپنی ذاتی سواری استعمال کرنے کے لئے تیار ہے تو کم از کم اسے تیل وغیرہ کے پیسے یعنی ٹی اے ڈی اے تو دیا جائے۔ لیکن اس حوالے سے بھی صورت حال نہائیت مخدوش ہے۔

اس کے لئے میں ایک دفعہ پھر آپ کو مشورہ دو ں گا کہ آپ ایک چھوٹا سا سروے کریں یا متعلقہ محکموں سےڈیٹا حاصل کر کے پتا لگائیں کہ پچھلے دو سالوں میں کس زراعت افسر کو کتنا ٹی اے ڈی اے ملا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ زراعت افسروں کو سال کے چند مہنیوں کا بھی ٹی اے ڈی اے پورا نہیں ملتا۔ اور یہ تفصیل متعلقہ محکموں سے با آسانی حاصل کی جا سکتی ہے۔ زراعت افسر مجبور ہیں کہ اپنی جیب سے پیسہ خرچ کر کے دور دراز دیہاتوں کے دورے کریں۔ مجھے کسی ایک محکمے کا نام بتائیں جہاں افسر اپنی ذاتی جیب سے پیسہ خرچ کر کے سرکاری ڈیوٹی کرتے ہوں۔ یہ بات درست ہے کہ زراعت افسران کے جعلی ٹی اے ڈی اے حاصل کرنے کے حوالے سے ماضی میں شکایات موجود رہی ہیں۔ لیکن 2013 سے زراعت افسروں کے دوروں کو مانیٹر کرنے کے لئے ایگری سمارٹ ایپ کے نام سے ایک فول پروف نظام موجود ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ ایگری سمارٹ ایپ کے باوجود زراعت افسروں کو ٹی اے ڈی اے کیوں نہیں دیا جاتا؟ چند سال قبل زراعت افسروں کو گاڑیاں دینے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اور اس منصوبے کے تحت جنوبی پنجاب کے 100 سے زائد زرعی افسروں کو بولان گاڑیاں مہیا بھی کی گئی ہیں۔ لیکن یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کیا ان گاڑیوں کو فیلڈ میں لے کر جانے کے لئے پٹرول وغیرہ بھی مہیا کیا جا رہا ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے بھی صورت حال جوں کی توں ہے۔

میری سمجھ میں تو یہ بات نہیں آتی کہ ان حالات میں زرعی افسران فیلڈ میں کیسے جا سکتے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان حالات میں بھی زرعی افسران کی اکثریت فیلڈ میں جانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ دوریش منش لوگ اپنی جیب سے پیسے لگا کر کاشتکاروں کے پاس جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس کام کو تبلیغی مشن سمجھتے ہیں اور ثواب کی نیت سے یہ کام کرتے ہیں۔ اس سال پنجاب میں فصلوں کی تاریخی پیداوار میں زراعت افسروں کا کتنا حصہ ہے یہ موضوع ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے۔

محکمہ زراعت (توسیع) کا عملہ کاشت کاروں کو تربیت دیتے ہوئے

لہذا توسیع زراعت کی غیر موثر کارکردگی کا سہرا فنانس ڈیپارٹمنٹ کے بھی سر جاتا ہے جس نے اپنی زرعی نفری سے ہر طرح کے ہتھیار لے کر انہیں میدان میں لڑنے کے لئے چھوڑا ہوا ہے۔

دوسرا حصہ: حل کیا ہے؟

توسیع زراعت کی غیر موثر کارکردگی کا حل بہت سادہ ہے۔

اول: اسمبلی سے کسی ایکٹ کے ذریعے محکمہ زراعت (توسیع) کو ضلعی انتظامیہ سے الگ کر دیا جائے۔ اور توسیعِ زراعت کے کام میں ہر طرح کی مداخلت کا دروازہ قانونی طور پر بند کر دیا جائے۔ حکومت عوام کو کثیر جہتی خدمات مہیا کرنے کے لئے محکمہ زراعت (توسیع) پر انحصار کرنےکی بجائے متعلقہ اداروں کو مضبوط کرے تاکہ ضلعی انتظامیہ متعقلہ محکموں کی مدد سے حکومتی ٹاسک مکمل کر سکے۔ رمضان بازار، سہولت بازار، یا اسی طرح کی دیگر مخصوص مدتی خدمات کے لئے روزانہ اجرت کی بنیاد پر بھرتیاں کی جا سکتی ہیں۔ محکمہ تعلیم میں اس کی مثال پہلے سے موجود ہے۔

دوم: محکمہ زراعت (توسیع) کی توسیعی سرگرمیوں کو سامنے رکھ کر زرعی افسران و دیگر عملے کو وسائل مہیا کئے جائیں۔ زرعی افسران کو گاڑی اور فیلڈ اسسٹنٹ حضرات کو موٹر سائکل مہیا کئے جائیں۔ اور پھر ان گاڑیوں کو چلانے کے لئے معقول ٹی اے ڈی اے بھی جاری کیا جائے۔ توسیع زراعت کی نظامتِ اعلی کو بھی ہر ضلع کی افرادی قوت کے مطابق ٹی اے ڈی اے تقسیم کرنے کی ضرورت ہے۔

یوں تو اور بھی کئی اصلاحات درکار ہیں لیکن میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ محض یہ دو کام کرنے سے ہی توسیعِ زراعت کی کارکردگی بڑی حد تک موثر ہو جائے گی۔ اور اس سے صوبے کی زراعت میں زبردست انگڑائی پیدا ہو گی۔

ذرا دیکھئے! پنجاب میں کم و بیش 50 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت ہوتی ہے۔ محکمہ زراعت (توسیع) کی کاوشوں سے اگر ایک من فی ایکڑ پیداوار ہی بڑھ جائے تو 50 لاکھ من (1.18 ملین بیلز) کی اضافی پیداوار حاصل ہو سکتی ہے. اگر فی من قیمت کم از کم 4000 روپے لگائی جائے تو 20 ارب روپیہ زائد مارکیٹ میں آ سکتا ہے۔ فی ایکڑ ایک من پیداوار بڑھانا توسیعِ زراعت کے کارکنان کےلئے بہت بڑا ہدف نہیں ہے۔ یہ حساب میں نے صرف ان لوگوں کے لئے پیش کیا ہے جو توسیعِ زراعت کی اہمیت اور اس کے پوٹینشل سے ناواقف ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ امریکہ اور چین جیسے انتہائی ترقی یافتہ ممالک توسیعِ زراعت پر اربوں ڈالر خرچ کررہے ہیں۔آپ کو شائد یہ بات جان کر حیرانی ہو کہ چین میں توسیع زراعت کا کام کرنے کے لئے 70 لاکھ سے زائد زراعت افسر تعینات ہیں۔امریکہ میں محض 20 لاکھ کاشتکاروں کے لئے ڈیڑھ لاکھ سے زائد ماہرین، سرکاری سطح پر توسیعِ زراعت کی خدمات سر انجام دیتے ہیں. یہاں میں نے آپ کو ترقی یافتہ ملکوں کی مثالیں دی ہیں۔ جب کہ اصول یہ ہے کہ ترقی پذیر اورپس ماندہ ملکوں کے کاشتکاروں کو توسیعِ زراعت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ توسیع زراعت کی کارکردگی موثر بنانے کے لئے ایک سادہ سا دو نکاتی فارمولا ہے جس پر عمل کر کے توسیع زراعت اور زراعت کو تگڑا کیا جا سکتا ہے۔

لیکن حال ہی میں سامنے آنے والے ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت توسیعِ زراعت کا مجوزہ نظام کچھ اور ہی تصویر پیش کرتا ہے۔

تیسرا حصہ: زرعی ٹرانسارمیشن پلان کے تحت مجوزہ توسیعی نظام کا تنقیدی جائزہ

آئیے مجوزہ نظام کا تنقیدی جائزہ لینے سے پہلے دیکھ لیں کہ اس مجوزہ نظام کا خاکہ کیا ہے۔

ابھی تک جو کچھ سامنے آیا ہے اس کے مطابق حکومت، توسیعِ زراعت کا ایک ایسا پرائیویٹ نظام متعارف کروانے والی ہے جس کا انتظام تو پرائیویٹ سیکٹر کے ہاتھ میں ہو گا لیکن اس میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں حکومت ادا کرے گی۔ یعنی ایک پرائیویٹ کمپنی ہو گی جو حکومتی پیسے کو استعمال کرتے ہوئے ملازمین کو بھرتی کرنے اور ان سے کام لینے کی مجاز ہو گی۔ پرائیویٹ کمپنی، ہرتین یونین کونسل کے لئے ایک زراعت افسر اور ہر ایک یونین کے لئے دو فیلڈ اسسٹنٹ حضرات دیہاڑی پر بھرتی کرے گی جن کی تنخواہیں حکومتی خزانے سے آئیں گی۔ ہر زراعت افسر کو گاڑی اور ہر فیلڈ اسسٹنٹ کو موٹر سائیکل دیا جائے گا۔ اور فیلڈ میں جانے کے لئے ان کارکنان کو وافر پٹرول وغیرہ بھی دیا جائے گا۔

اس منصوبے کی کمزوریوں پر بات کرنے سے پہلے میں ایک سادہ سا سوال کرنا چاہتا ہوں۔

سوال یہ ہے کہ حکومت نئے بھرتی شدہ، غیر تربیت یافتہ لوگوں کو اگر گاڑی اور پٹرول وغیرہ دینے کے لئے تیار ہے تو یہی سہولیات وہ پہلے سے موجود تربیت یافتہ، تجربہ کار زراعت افسروں کو کیوں نہیں دے رہی؟اس طرح ملکی وسائل بھی کم خرچ ہوں گے اور کارکردگی بھی اچھی ہو گی۔ ایک مرتبہ آپ توسیعِ زراعت کے زرعی افسروں اور فیلڈ اسسٹنٹ صاحبان کو لیول پلینگ فیلڈ دے کر تو دیکھیں۔ انہیں آزادانہ ماحول میں کام کرنے کا موقع تو دیں۔ ہاں اگر پھر بھی کارکردگی غیر تسلی بخش ہو تو کوئی نیا نظام لے آئیں۔ آخر آپ کے پاس اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ نئے بھرتی شدہ، غیر تجربہ کار، دیہاڑی دار زرعی کارکنان، زراعت میں تبدیلی لا سکیں گے؟ میری رائے میں مجوزہ نظام کی بنیاد ٹھوس حقائق پر نہیں رکھی گئی ہے۔ آئیے اس منصوبے کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا یہ منصوبہ واقعی اتنا جاندار ہے کہ اس کی تائید کی جاسکے۔

مجوزہ نظام میں زرعی افسروں کارکردگی جانچنے کا پیمانہ ناقص ہے

بتایا جا رہا ہے کہ مجوزہ نظام میں زرعی کارکنان کی تنخواہوں کو کارکردگی سے منسلک کیا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ “کارکردگی” کا پیمانہ کیا ہو گاَ؟

دراصل موجودہ محکمہ زراعت (توسیع) کے زرعی افسروں کی مانیٹرنگ یا نگرانی کے لئےغالباََ 2013 میں ایک ڈیجیٹل نظام متعارف کروایا گیا تھا جسے ایگری سمارٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہر زراعت افسر کا موبائل فون ایگری سمارٹ ایپ کے ساتھ منسلک ہے۔ زراعت افسر کس گاؤں میں گیا ہے؟ وہاں کتنا عرصہ ٹھہرا ہے؟ ایگری سمارٹ نظام کے ذریعے ہر چیز سامنے آ جاتی ہے۔ مزید یہ کہ زرعت افسر نے جن کاشتکاروں کے ساتھ میٹینگ یا مشاورت کی ہوتی ہے، لازم ہے کہ وہ اس میٹنگ کی تصویریں بھی ایگری سمارٹ پر اپ لوڈ کرے۔ 2013 سے آج تک محکمہ زراعت (توسیع) کے تمام زرعی افسروں کو (اگر کبھی دیا جائے تو) اسی نظام کے تحت ٹی اے ڈی اے دیا جاتا ہے۔

ایگری سمارٹ ایپ جس کے ذریعے زراعت افسران کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے

ٹی اے ڈی اے کی حد تک تو یہ نظام ٹھیک ہے لیکن اگرزراعت افسروں کی حقیقی کارکردگی کی بات کی جائے تو اس کا پیمانہ بالکل دوسرا ہونا چاہئے۔

زراعت افسر کی حقیقی کارکردگی یہ ہے کہ اول وہ کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر قائل کرے۔ اور دوم ان قائل ہونے والے کاشتکاروں کے علم اور مہارت میں اضافہ کرے۔ ظاہر ہے کہ اس عمل کا حتمی نتیجہ کاشتکار کی مجموعی پیداوار بڑھنے کی صورت میں نکلے گا۔ اور یہی زراعت افسر کی حقیقی کارکردگی ہو گی۔

سوال یہ ہے کہ کیا نجی کمپنی سے کاشتکاروں کی پیداوار بڑھانے کے حوالے بھی سوال کیا جائے گا؟ یا پھر کمپنی کے ملازمین کا دیہات میں جا کر کاشتکاروں کے ساتھ تصویریں بنانے کو ہی کارکردگی سمجھا جائے گا اور پھر اسی بنیاد پر ہی کمپنی کو ادائیگیاں کی جائیں گی؟ جب تنخواہ کی ادائیگی کو ایگری سمارٹ سے مشروط کیا جائے گا تو ایسے میں کمپنی کے کارکنان کی ساری توجہ گاؤں میں جا کر ایگری سمارٹ ایپ پر اپنی لوکیشن ظاہر کرنے اور کاشتکاروں کی تصویریں بنا کر انہیں اپ لوڈ کرنے پرہی ہو گی۔ اور کیوں نہ ہو آپ نظام ہی ایسا بنا رہے ہیں جس میں انہیں تنضواہ ہی اسی بات کی ملے گی۔ یہ بڑی مایوس کن صورت حال ہو گی۔ کاشت کار جلد ہی سمجھ جائیں گے کہ یہ دیہاڑی دار زراعت افسر تصویروں اور دیہاڑی کے چکر میں انہیں بلاتے ہیں۔اس سے زرعی کارکنوں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا، کاشتکار، جلد ہی دیہاڑی دار زرعی کارکنان پر اپنا اعتماد کھو دیں گے اور یہ نظام ناکامی سے دوچار ہو جائے گا۔ عدم اعتماد کی یہ صورتِ حال، محکمہ زراعت (توسیع) کے عملے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچائے گی۔ توسیعی کارکنان کا سب سے بڑا سرمایہ کاشتکاروں کے ساتھ ان کا باہمی اعتماد ہوتا ہے، جو ایک مرتبہ کھو جائے تو پھر بحال ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔

توسیع زراعت ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں زراعت افسر کی کارکردگی جانچنے کا کم از کم پیمانہ یہ ہونا چاہئے کہ اگر پچھلے سال کاشتکار کی گندم کی پیداوار 30 من فی ایکڑ رہی ہے تو زرعی مشورے کے نتیجے میں اس کی پیداوار 35 من ہو جائے۔ یعنی زراعت افسر کاشتکار کے دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر اس کی پیداوار بڑھاتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ زراعت قدرتی آفات سے متاثر ہونے والا پیشہ ہے۔ زراعت افسر کی کارکردگی جانچتے ہوئے اس بات کا بھی لحاظ رکھا جانا چاہئے۔

زراعت افسر کی کارکردگی جانچنے کا جامع پیمانہ کسی پیسٹی سائیڈ کمپنی میں کام کرنے والے سیل افسر کی کارکردگی کے پیمانے سے بھی مختلف ہے۔ اس پیچیدہ عمل کے پیچھے دنیا کا ڈیڑھ سو سالہ تجربہ ہے۔ کیا آپ اس تجربے سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار ہیں؟ اگر نہیں تو پھر توسیع زراعت کا اللہ ہی حافظ ہے۔

کارکردگی جانچنے والے مجوزہ نظام سے بہتر تو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کا نظام ہے جو 2015 میں نافذ کیا گیا تھا۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سکولوں میں اساتذہ کی کارکردگی کو نتائج کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ یعنی اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ سکول میں جانا اور کلاس میں کھڑے رہنا کافی نہیں ہے بلکہ نتائج کی اہمیت ہے۔ پیف کے تحت آنے والے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کا امتحان ایک سرکاری نظام کے تحت لیا جاتا ہے۔ اور اگر نتائج 75 فیصد سے کم ہوں تو سکول کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جاتی ہے۔

آپ کو کیسا لگے گا اگر حکومت نتائج کی پروا کئے بغیر استاد کو اس بات کے پیسے دے رہی ہو کہ وہ سکول گیااور پھر کلاس میں بھی کھڑا رہا۔ ظاہر ہے آپ کو یہ بات نہائیت غیر معقول لگے گی۔ بالکل یہی کچھ نئے تجویز کردہ نظام میں ممکنہ طور پر ہونے جا رہا ہے۔

مجوزہ نظام میں ممکنہ طور پر زرعی گریجوایٹس کا استحصال ہو گا

تجویز یوں ہے کہ حکومت کسی پرائیویٹ کمپنی کے ساتھ توسیع زراعت کے لئے معاہدہ کرے گی۔ اور یہی پرائیویٹ کمپنی، زرعی گریجوایٹ سے دیہاڑی پر کام لے گی۔ سوال یہ ہے کہ ان زرعی گریجوایٹ کی تنخواہ کتنی ہو گی اورکام کرنے کے شرائط و ضوابط کیا ہوں گے؟

کیا زرعی گریجوایٹ کے ساتھ بھی وہی کچھ تو نہیں ہو نے جا رہا جو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی امداد سے چلنے والے پیف سکولوں میں پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جہاں زیادہ تر بی ایس سی اور ایم ایس سی اساتذہ کو 10 ہزار سے بھی کم ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ اور حکومتی امداد کا بڑا حصہ سکول چلانے والے مالکان کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ جس طرح حکومت نے اساتذہ کو ان پرائیویٹ سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، کیا پرائیویٹ توسیعی نظام میں زرعی گریجوایٹ کے ساتھ بھی یہی کچھ تو نہیں ہونے والا؟

سوال یہ ہے کہ اس بات کو کس طرح یقینی بنایا جائے گا کہ پرائیویٹ کمپنی حکومت سے رقم وصول کر کے اپنے ملازمین کا استحصال نہیں کرے گی؟ جیسا کہ بظاہر نظر آ رہا ہے نئے نظام کی آڑ میں زرعی گریجوایٹ کے استحصال کا ایک اور دروازہ کھل جائے گا۔

کیا ایک ہی کمپنی کو توسیع زراعت کا کام دینا درست ہے؟

دنیا میں جہاں کہیں بھی خدمات نجی شعبہ کے سپرد کی جاتی ہیں وہاں پر دو بنیادی باتوں کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ ایک مناپلی سے پاک مسابقت یعنی مقابلے کا ماحول اور دوسرا صارف کے ہاتھ میں انتخاب اور احتساب کا حق۔ لیکن مجوزہ نظام ان دونوں خوبیوں سے خالی ہے۔ آئیے سب سے پہلے مسابقتی ماحول کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔

پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ مسابقت یا مقابلے کی بہترین مثال ہے۔ ملک میں چار سے زائد کمپنیوں کے پاس خدمات فراہم کرنے کا لائسنس ہے۔ اور حکومت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ان کمپنیوں کے درمیان مقابلے کی فضا موجود رہے۔ مقابلے کی فضا برقرار ہو تو صارف کو بہتر اور سستی خدمات میسر آتی ہیں۔ نجی شعبے میں مقابلے کا ہونا اس قدر ضروری ہے کہ حکومت پاکستان کا ایک ادارہ کمپیٹیشن کمیشن اسی مقصد کے لئے بنایا گیا ہے۔ کیونکہ اگر مقابلہ کی فضا برقرار نہ رہے اور کمپنیاں کٹھ جوڑ کر لیں تو پھر نجی شعبہ مافیا کی شکل اختیار کر لیتا ہے- نجی شعبے کے لئے مافیا کا لفظ اسی سیاق و سباق میں استعمال ہوتا ہے۔

لیکن مجوزہ نظام میں توسیعی خدمات کا لائسنس ایک ہی کمپنی کے پاس ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نظام کی بنیاد ہی مناپلی پر رکھی جائے گی۔ کمپنی کومسابقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور وہ جیسے چاہے گی اپنے ملازمین کا استحصال کرے گی اور جیسے چاہے گی اپنے صارفین کو خدمات مہیا کرے گی۔

مجوزہ کمپنی کی مناپلی اور عدم مسابقت کی وجہ سے صارف کے ہاتھ میں انتخاب یا احتساب کا حق نہیں ہو گا۔ کاشت کار کو مشاورت سے فائدہ پہنچ رہا ہے یا نہیں، وہ اسی ایک کمپنی سے ہی خدمات لینے پر مجبور ہو گا۔ اور ظاہر ہے کمپنی کاشتکار کی اس مجبوری سے خوب واقف ہو گی۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں مجبوری سے فائدہ اٹھانے کا چلن عام ہو، وہاں اس طرح کا نظام ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔

مجوزہ نظام طلب کے حوالے سے ایک غیر حساس نظام ہے

پرائیویٹ توسیع کی کامیابی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اسے طلب اور رسد کی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ کاشتکارکون کون سی فصلوں کےحوالے سے مشاورت چاہتا ہے؟ وہ باغات کے بارے میں کس طرح کی تربیت چاہتا ہے؟ وہ کن پھولوں اور کن سبزیوں کے حوالے سے معلومات چاہتا ہے؟ وہ کون کون سی ہائی ویلیو فصلیں پیدا کرنے کا متمنی ہے؟ یا کیا پھر وہ زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن کرنا چاہتا ہے؟ پرائیویٹ شعبہ ہمیشہ طلب کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی خدمات کی پیش کش کرتا ہے۔ وہ مطلوبہ خدمات مہیا کرنے کے لئے اپنی صلاحیت اور استعداد میں اضافہ بھی کرتا ہے۔ وہ کاشتکاروں کی مطلوبہ مشاورتی ضروریات جاننے کے لئے مسلسل ٹوہ میں لگا رہتا ہے تاکہ کاروباری مواقع پیدا کئے جا سکیں۔ وہ طلب کو سامنے رکھتے ہوئے نت نئے آئیڈیازاور منصوبہ جات سے کسانوں کو آگاہ کرتا رہتا ہے۔ نجی شعبے کے اس عمل سے زراعت میں تنوع پیدا ہوتا ہے اور توسیع زراعت کا کام جمود کا شکار نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس مجوزہ نظام ایک جامد اور طلب کے حوالے سے غیر حساس نظام ہے۔ یہ دو جمع دو کی طرح کام کرے گا۔ ایک ایسا نظام جو اپنی ابتدا میں ہی طلب سے لا تعلق ہوکر میکانکی انداز اختیار کر لے گا۔ یعنی یہ توسیع زراعت کا ایک ایسا ڈھانچہ ہو گا جو حقیقی روح سے محروم ہو گا۔

توسیع زراعت پر سرمایہ کاری کے نتیجے میں ٹھوس اہداف مقرر نہیں کئے گئے

پنجاب میں یونین کونسلز کی تعداد ساڑھے تین ہزار کے لگ ہے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق ہر تین یونین کونسلز پر ایک زراعت افسر اور ہر ایک یونین کونسل میں دو فیلڈ اسسٹنٹ لگائے جائیں گے۔اس حساب سے پنجاب میں ساڑھے گیارہ سو سے زائد زراعت افسر جبکہ سات ہزار کے قریب فیلڈ اسسٹنٹ دیہاڑی پر رکھے جائیں گے۔ ہر زراعت افسر کو مبینہ طور پر گاڑی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ زرعی ملازمین کی تنخواہیں اور گاڑیوں کے اخراجات الگ ہوں گے۔اس طرح مجموئی طور پر مجوزہ منصوبے پر کم و بیش ساڑھے سات ارب سالانہ لاگت آئے گی۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کے بعد وہ کون سے ٹھوس اہداف ہیں جن پر اس منصوبے کی کارکردگی کو پرکھا جائے گا۔ منصوبہ بنانے والوں نے ٹھوس اہداف مقرر کرنے سے گریز کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مجوزہ نظام میں اتنی بڑی رقم جھونک کر اگر نتیجہ صفر نکلا (جیسا کہ نظر آ رہا ہے) تو اس کا جواب دہ کون ہو گا؟

لیکن اگر پھر بھی حکومت، توسیع زراعت کا کوئی پرائیویٹ نظام لانا چاہتی ہے تو اس پر بھی بات ہو سکتی ہے۔ ایک کامیاب نظام کا ممکنہ طور پر کیا نقشہ ہو سکتا ہے آئندہ سطور میں ہم اس پر بات کریں گے۔

چوتھا حصہ: توسیع زراعت کی پرائیویٹ ڈلیوری کے لئے ایک قابلِ قبول خاکہ

حکومت، توسیع زراعت کے لئے پرائیویٹ افراد یا پرائیویٹ کمپنیوں کی رجسٹریشن کی اجازت دے سکتی ہے۔ پرائیویٹ افراد یا کمپنیوں کی استطاعت و مہارت کی جانچ پڑتال کر نے کے بعد، محکمہ زراعت (توسیع) انہیں توسیعی سرگرمیاں کرنے کا لائسنس جاری کر سکتا ہے۔

اس بات کی قوی امید ہے کہ زراعت کے مختلف شعبہ جات میں خصوصی مہارت رکھنے والے افراد یا کمپنیاں لائسنس حاصل کرنے کے لئے سامنے آئیں گی۔جیسا کہ سیم تھور سے متاثرہ زمینوں کی اصلاح، زمین کی زرخیزی میں اضافہ، کم پانی سے کاشتکاری، باغات،سبزیات و پھولوں کی کاشت، ادویاتی پودوں کی کاشت، کھمبی کی کاشت، پھلوں اور سبزیوں وغیرہ کی ویلیو ایڈیشن، زرعی اجناس کی بہتر مارکیٹنگ یا پھر زرعی اجناس کی برآمدات وغیرہ میں مہارت رکھنے اور کاشتکاروں کو مشاورت دینے والی فرمز سامنے آنے کی قوی امید ہے۔

کاشتکاروں کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ لائسنس یافتہ فرموں میں سے جسے چاہیں گے، مشاورت کے لئے منتخب کر سکیں گے۔

فرم کاشتکاروں کی طلب کے مطابق مشورہ تو دے گی لیکن مشورہ فیس کاشت کار نہیں بلکہ حکومت ادا کرے گی۔ حکومت چھوٹے اور کم وسائل رکھنے والے کاشت کاروں کو مشورہ ٹوکن جاری کرے گی۔ مشورہ لینے کے بعد کاشت کاراپنا ٹوکن، فرم کے حوالے کر دے گا اور فرم وہ ٹوکن بینک کو دے کر رقم وصول کر لے گی۔

لائسنس یافتہ فرمیں اپنے کلائنٹ بڑھانے کے لئے دیہاتوں کا دورہ کریں گی۔ جہاں وہ کاشت کاروں کو توسیعی خدمات حاصل کرنے کی ترغیب دیں گی۔ اور کاشتکاروں کو قائل کریں گی کہ کس طرح کمپنی کی مشاورت سے کاشتکاری وغیرہ کر کے، کسان اپنے منافع جات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

واضح رہنا چاہئے کہ پرائیویٹ توسیع کا یہ نظام صرف اُن کاشتکاروں کے لئے ہو گا جن کے اندر جدید زرعی معلومات کے حصول کی طلب ہوتی ہے۔ لیکن پنجاب کے زیادہ تر کاشتکاروں کا رویہ جدت پسندانہ نہیں ہے اور وہ غیر پیشہ ورانہ رویے کے حامل ہیں۔ وہ روائتی کاشتکار ہیں اور روائتی انداز میں ہی کاشتکاری کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ زیادہ تر کاشتکار خطرناک حد تک بڑھی ہوئی قناعت پسندی اور تساہل کا شکار ہیں۔ ان کا سوچنے یا تجزیہ کرنے کا انداز میرے آپ کے تجزیے سے بالکل جدا ہے۔ یہ ایسے کاشتکار ہیں جو زراعت میں ناکامیابی کا ذمہ دار اپنی کم علمی کو نہیں بلکہ اپنے محدود وسائل کو سمجھتے ہیں۔ اور امید لگائے رکھتے ہیں کہ حکومت انہیں وسائل مہیا کرے ۔ وسائل کی عدم دستیابی کا ذمہ دار وہ اپنے آپ کو نہیں بلکہ حکومت کو گردانتے ہیں۔ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ محدود وسائل کےموزوں استعمال سے بھی زیادہ آمدن حاصل کی جا سکتی ہے اور وسائل کے موزوں استعمال کے لئے انہیں کسی ماہر زراعت کے مشورے کی ضرورت ہے۔

پوری دنیا میں اس طرح کے کاشتکار توسیعِ زراعت کے نہائیت مشکل کلائنٹ تصور کئے جاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں ڈیل کرنے کے لئے دوہری مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک سماجی مہارت اور دوسرے زرعی مہارت۔ کیونکہ جب تک ان کاشتکاروں کی سوچ اور رویے میں بنیادی تبدیلی پیدا نہ کی جا سکے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے عمل کا آغاز ہی نہیں ہو سکتا۔ لہذا بنیادی طور پر زراعت افسر کا کردار کاشتکاروں کے لئے موٹیویشنل سپیکر کا ہوتا ہے۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ توسیعی کارکن کا حقیقی ٹارگٹ کاشتکاروں کے رویے میں تبدیلی پیدا کرنے اور انہیں متحرک کرنے کا ہے۔ جب ایک دفعہ کاشتکار متحرک ہو جاتا ہے تو پھر معلومات کے ذرائع تک وہ از خود پہنچ جاتا ہے۔ اور ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ زراعت افسر بھی ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس ایسے کاشتکار جو قدرے جدت پسند رویے کے حامل ہوتے ہیں اور زرعی معلومات کے طلب گار ہوتے ہیں، وہ سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے زرعی تحقیقی اداروں تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ وہ کئی طرح کے زرعی رسائل و یو ٹیوب پر موجود زرعی ماہرین سے استفادہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے کاشتکار پس ماندہ و ترقی پذیر ملکوں میں کم اور ترقی یافتہ ملکوں میں زیادہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ توسیع زراعت کی ضرورت، پس ماندہ اور ترقی پذیر ملکوں میں زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔ لہذا مصنف کا تجویز کیا گیا پرائیویٹ نظام روائتی کاشتکاروں کے لئے نہیں ہو گا۔ یہ صرف ان کاشتکاروں کی سہولت و بہتر رہنمائی کے لئے ہو گا جو جدت پسند رویے کے حامل اور زرعی معلومات کے طلب گار ہوں گے۔ روائتی کاشتکاروں کے لئے محکمہ زراعت (توسیع) کا موجودہ نظام ہی بہتر خدمات سر انجام دے سکتا ہے۔

پرائیویٹ نظام کی تجویز اپنی جگہ لیکن اس میں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہو گا کہ بیج و ادویات وغیرہ بیچنے والی کمپنیوں کے ساتھ ان فرموں کا کاروباری یا پوشیدہ گٹھ جوڑ نہ ہو۔ تاکہ کاشت کار کو غیر جانبدار مشورہ مل سکے۔ دوسرا اس میں کاشتکار اور فرم کی ملی بھگت کے نتیجے میں ہونے والی ممکنہ جعلسازی پر بھی نظر رکھنا ہو گی۔ توسیعی ٹوکن والا یہ سسٹم نہیائیت کامیابی کے ساتھ دنیا کے کئی ممالک میں چل رہا ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں مقابلہ یا مسابقت، تنوع اور طلب و رسد کی حساسیت کے تما تر امکانات موجود ہیں۔

تحریر و تجزیہ

ڈاکٹر شوکت علی، پی ایچ ڈی (توسیع زراعت)

ایسوسی ایٹ پروفیسر، زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد

Share Please

2 تبصرے “توسیع زراعت کا موجودہ اور مجوزہ نظام : حل کیا ہے؟

  1. آپ نے الف سے ی تک لکھ دیا اب ان پیسہ کھانے والوں پر منحصر ہے کہ وہ ملک کا پیسہ برباد کرتے ہیں یا عقل سے کام لیتے ہیں
    میرے خیال میں تویہ سارہ معاملہ ہی ذاتیات کا ہے کیونکہ جو بندہ یہ ماڈل پیش کرنے والاہے وہ خود ایک کمپنی کا ہیڈ ہے اس لیے اس نے باقیوں کو بھی اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے

  2. آپ نے بہت عمدہ تبصرہ پیش کیا۔ مجوزہ نجکاری کی بے معنی وجوہات، اس کے نقصانات اور سب سے اہم بات یہ کہ اس کا تحقیقی جاٸزہ لیتے ہوے موجودہ نظام میں ہی بہتری لانے کا آسان طریقہ کار بھی بتایا۔
    لیکن اب ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ کاشتکاروں کو بھی اس کے متعلق روشناس کروانا ہو گا کہ نجکاری کی صورت میں انہیں کیا شکلات درپیش ہونگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں