کپاس: بغیر سپرے کے بہترین پیداوار

یہ ہیں چک نمبر 149 ٹی ڈی اے لیہ کے کاشتکار خدا بخش، جو محکمہ زراعت (توسیع) پنجاب کی ایک مجلس میں گفتگو کر رہے ہیں۔ خدا بخش نے 15 ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کر رکھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ آٹھ دس سال سے خدا بخش نے کپاس پر کسی بھی طرح کا کبھی بھی کوئی سپرے نہیں کیا لیکن اس کے باوجود 20 سے 25 من فی ایکڑ اوسط پیداوار حاصل کرتے ہیں۔

آج سے چالیس پچاس سال پہلے تو کاشت کاری، سپرے وغیرہ کے بغیر ہی کی جاتی تھی لیکن آج کل کے زمانے میں یہ بات ذرا انہونی سی لگتی ہے۔ راقم نے خدا بخش سے رابطہ کر کے یہ بات جاننے کی کوشش کی ہے کہ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ حشرات و کیڑے مکوڑے دوسرے کاشت کاروں کی فصل پر تو حملہ کرتے ہیں لیکن خدا بخش کی فصل کو معاف رکھتے ہیں۔ گفتگو کے بعد جو کچھ میری سمجھ میں آیا ہے آپ کی خدمت میں عرض کئے دیتا ہوں۔

خدا بخش سے میرا پہلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ کپاس کی فصل میں کیمیائی کھادیں استعمال کرتے ہیں؟ میں توقع کر رہا تھا کہ خدا بخش کیمیائی کھادیں استعمال نہیں کرتے ہوں گے۔کیونکہ کیمیائی کھادیں خاص طور پر یوریا استعمال کرنے سے فصل نرم و نازک ہو جاتی ہے اور نرم شگوفوں پر بیماریاں اور کیڑے جلدی حملہ آور ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کھاد کا کم سے کم استعمال کریں یا بالکل نہ کریں تو شگوفے سخت رہتے ہیں اور کیڑے حملہ نہیں کرتے۔

میری سوچ جو بھی تھی، خدا بخش کا جواب میری توقع کے بالکل بر عکس تھا۔ اُس نے واضح کیا کہ وہ کم از کم تین تھیلے فی ایکڑ نائٹروجنی کھاد استعمال کرتا ہے۔ کپاس کے اگاؤ کے بعد پہلے پانی پریوریا کی ایک بوری، تیسرے پانی پر کیلشیم امونیم نائٹریٹ (گوارا کھاد) کی ایک بوری اور پانچویں پانی پر گوارا کھاد کی ایک اور بوری استعمال کرنا خدا بخش کا معمول ہے۔

میرے لئے یہ جواب بڑا حیران کن تھا۔ اگر تین بوری نائٹروجنی کھاد ڈال کر بھی خدا بخش کو سپرے نہیں کرنا پڑتی تو پھر ان کے پاس کون سا تعویز ہے جو فصل کو حشرات سے بچا کر رکھتا ہے۔ یہ بات سوچتے ہوئے میں نے اگلا سوال کیا۔ آپ کی زمین کیسی ہے اور پانی کونسا استعمال کرتے ہیں؟

خدا بخش نے بتایا کہ ان کی زمین قدرے ریتلی ہے اور پانی ٹیوب ویل کا استعمال ہوتا ہے۔ استفسار پر مجھے معلوم ہوا کہ زیر زمین پانی میں نمکیات وغیرہ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

ریاض احمد اور اللہ بخش بھی اسی گاؤں میں رہتے ہیں اور یہ بھی خدا بخش کی طرح گزشتہ کئی سالوں سے سپرے کے بغیر کپاس کی اچھی پیداوار لے رہے ہیں

میں نے پھر پوچھا کہ آپ کپاس کی فصل کوکب اور کتنے پانی دیتے ہیں اور ورائٹی کونسی کاشت کرتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں خدا بخش نے جو باتیں بتائیں وہ عام کاشتکاروں سے بہت مختلف تھیں اور میرے خیال میں یہی باتیں خدا بخش کی کامیابی کا سبب ہیں۔

مجھے بتایا گیا کہ وہ کپاس کی فصل کو پانی دینے کے حوالے سے بہت زیادہ محتاط ہے اور کم از کم 15 تا 20 دن کے وقفے سے کپاس کو پانی لگاتا ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ وہ تب تک کپاس کو پانی نہیں لگاتا جب تک فصل کے پتے دن کے وقت مرجھانے نہ لگ جائیں۔ خدا بخش کا مشاہدہ ہے کہ زیادہ پانی دینے سے فصل پر کیڑے مکوڑے اور بیماریاں زیادہ حملہ آور ہوتی ہیں۔ راقم کا تجزیہ بھی یہی ہے کہ پانی کا ممکن حد تک کم سے کم استعمال خدا بخش کی فصل کے شگوفوں کو سخت رکھتا ہے جس کے باعث فصل کیڑوں مکوڑوں وغیرہ کے حملے سے محفوظ رہتی ہے۔

راقم کے نزدیک دو وجوہات اور بھی ہیں جو خدا بخش کی کپاس کو حشرات وغیرہ سے دور رکھتی ہیں۔ پہلی وجہ خدا بخش کی زمین کا ریتلا ہونا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ پانی لگنے کے زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے بعد زمین پانی جذب کر لیتی ہے اور چلنے پھرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین اچھے نکاس والی ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ اگر زمین پر زیادہ دیر تک پانی کھڑا رہے تو اس سے فصل کی قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے اور فصل جلدی حشرات وغیرہ کا نشانہ بنتی ہے۔ گویا خدا بخش کی ریتلی زمین ایک طرح سے بیڈ کے متبادل کے طور پر کام کرتی ہے کیونکہ فصل بیڈ پر کاشت کرنے میں بھی یہی حکمت ہے کہ پودے کے تنے کے ارد گرد پانی کھڑا نہ ہو۔

دوسری وجہ بیج کے استعمال سے متعلق ہے۔ خدا بخش کم از کم چار سے پانچ ورائٹیوں کے بیج استعمال کرتا ہے۔ لیکن یہاں بھی کچھ مختلف ہے۔ وہ تمام ورائٹیوں کو ایک ہی جگہ پر ڈھیر کر کے مکس کر لیتا ہے اور پھر اس مکس شدہ بیج سے کپاس کاشت کرتا ہے۔ گویا خدا بخش تنوع کے اصول پر کار بند ہے۔ کاشت کی گئی فصل میں تنوع جتنا زیادہ ہو گا فصل کی بیماریوں اور حشرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔

حسنِ اتفاق کہ میرے پاس پی ایچ ڈی کرنے والے ایک ریسرچ سکالر محمد اصغر خدا بخش کے قریبی گاؤں کے رہائشی ہیں۔ محمد اصغر کا خیال تھا کہ خدا بخش نئی آباد شدہ زمینوں میں کپاس کاشت کرتا ہو گا۔ یہ بات درست ہے کہ نئی آباد شدہ زمین میں کیڑوں وغیرہ کا حملہ کم ہوتا ہے لیکن خدا بخش سے معلوم ہوا کہ اس کی زمین نئی آباد شدہ نہیں ہے۔

لہذا ہماری رائے میں خدا بخش کے ہاں بغیر سپرے کے بھی اچھی پیداوار لینے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی اچھی نکاس والی ریتلی زمین اور دوسرا پانی کا ممکنہ حد تک کم استعمال۔

لہذا اگر آپ بھی کپاس پر سپرے وغیرہ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو یہ ناممکن نہیں ہے۔ اگر آپ کو بھی خدا بخش جیسی زمین میسر ہے اور آپ پانی کے استعمال میں محتاط ہیں تو ایک دو ایکڑ پر ضرور تجربہ کریں۔ اسی طرح سپرے کے ساتھ ساتھ کھادوں اور ہلوں وغیرہ سے بھی جان چھڑا کر اچھی پیداوار حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو قدرتی کاشتکاری کو اپنانا ہو گا۔ اس طریقہ کاشت میں فصل بیڈ بنا کر کاشت کی جاتی ہے، زمین کو گھاس پھونس وغیرہ سے ڈھانپ کر رکھا جاتا ہے اور ہل بالکل نہیں چلایا جاتا۔ یہ ایک کامیاب طریقہ ہے جس پرپنجاب کے کئی ایک کاشت کار عمل پیرا ہیں۔

بشکریہ فیس بک پیج ایگریکلچر ساؤتھ پنجاب بذریعہ حیدر کرار

تحریر

ڈاکٹر شوکت علی

ماہر توسیع زراعت، فیصل آباد

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں