گاجر کی کاشت سے آپ کتنا منافع حاصل کر سکتے ہیں؟

گاجر کب کاشت کرنی چاہئے؟

ویسے تو گاجر کاشت کرنے کا اصل موسم اکتوبر کا مہینہ ہی ہے۔ لیکن کاشتکار اگست کو بھی گاجر کاشت کررہے ہوتے ہیں۔ اگست کے مہینے میں گاجر کا اگاؤ یا تو بالکل نہیں ہوتا یا بہت کم ہوتا ہے۔ اگست کے پہلے دو ہفتوں میں 25 سے 30 فیصد اگاؤ کا امکان ہوتا ہے۔ اگست والی گاجر اگیتی کاشت سمجھی جاتی ہے۔
ستمبر کے مہینے کی کاشتہ گاجر کا اگاؤ 80 سے 90 فیصد تک ہو جاتا ہے۔ ستمبر والی کاشت درمیانی کاشتہ گاجر سمجھی جاتی ہے۔
اسی طرح اکتوبر میں اگر گاجر کاشت کی جائے تو اگاؤ 100 فیصد ہوتا ہے۔ اس کو پچھیتی کاشت کہتے ہیں۔

موسم میں بدلاؤ کی وجہ سے گاجر کے وقت کاشت میں تبدیلی

ایک بات جو کاشتکاروں کے لئے سمجھنا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ پودے انسانوں سے بھی زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ موسم کے اندر ہلکی سی تبدیلی پودوں کے اگاؤ اور کارکردگی پر اثر ڈالتی ہے۔
ہمارے ہاں وسطی پنجاب کے کاشتکار اگیتی گاجریں اگست کے مہینے میں بھی کاشت کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب صورت حال ذرا مختلف ہے۔ اگر سن 1972 سے لیکر 2014 تک اگست کے مہینے کا کم سے کم اوسط درجہ حرارت دیکھا جائے تو وہ 26.4 تھا ۔ لیکن 2001 سے 2014 تک کے آخری 10 سالوں میں اگست کے ہی مہنے کا کم سے کم اوسط درجہ حرارت 26.7 تھا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1972 سے 2014 تک، 42 سالوں میں اگست کے مہینے کے کم سے کم اوسط درجہ حرارت میں 0.3 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں 0.9 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو گیا ہے۔
اگر بارشوں کی صورت حال دیکھی جائے تو پچھلے انہی 45 سالوں میں اگست کے مہینے کی بارشوں میں 3.3 ملی لیٹر کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ سارے اعدادو شمار دینے کا مقصد آپ کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ اگست کا موسم پہلے کی نسبت زیادہ گرم ہو چکا ہے۔ گاجر چونکہ زیادہ گرمی ہرگز برداشت نہیں کر سکتی ۔ اس لئے اگست کے مہینے میں اب اس کی کاشت اُس طرح سے کامیاب نہیں ہے جیسا کہ اس سے پہلے تھی۔
پھر بھی کچھ کاشتکار اگست کے مہینے میں اگیتی گاجر کاشت کرنے کا رسک لے لیتے ہیں۔ اور اگر موسم ذرا ٹھنڈا ہو جائے تو گاجر کا کچھ نہ کچھ اگاؤ ہو جاتا ہے۔ لیکن عمومی طور پر گاجر کا اگاؤ بہت کم ہوتا ہے۔

آپ بہتر یہی ہے کہ گاجر کی کاشت 15 ستمبر کے آگے پیچھے کی جائے۔

گاجر کاشت کیسے کرنی چاہئے؟

ویسے تو گاجر کئی طریقوں سے کاشت ہوتی ہے لیکن آجکل جو طریقہ سب سے زیادہ رواج پا چکا ہے وہ یہ ہے کہ زمین اچھی طرح سے تیار کر کے وٹیں بنا لیں۔ وٹوں پر ہاتھ سے بیج کاہ کیرا کرتے جائیں اور ایک بندہ انگلیوں سے بیج پر ہلکی ہلکی مٹی چڑھاتا جائے۔ کاشت کے فوراََ بعد کھیت کو پانی لگا دیں۔ یہ طریقہ اگیتی اور درمیانی کاشتہ گا جر میں اختیار کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اگیتی گاجر چوکے سے بھی کاشت کی جاتی ہے۔ وٹیں بنا کر وٹوں کے دونوں جانب ہاتھ سے چوکے لگا کر کھیت کو پانی لگا دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ اگیتی گا جر میں زیادہ اختیار کیا جاتا ہے۔
سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ کھیت کو اچھی طرح سے تیار کر کے بیج کا چھٹا کر دیں۔ اور اس کے بعد ٹریکٹر سے ہلکی ہلکی وٹیں بنا دیں اور وٹیں بنانے کے بعد کھیت کو پانی لگا دیں۔ یہ طریقہ پچھیتی کاشت کے لئے زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔

گاجر کو کھاد کتنی ڈالنی چاہئے؟

فیصل آباد کے ترقی پسند گاجر کے کاشتکار مہر امین فی ایکڑ ایک بوری ڈی اے پی، ایک بوری یوریا اور 2 بوری پوٹاش کھاد ڈالتے ہیں۔
فاسفورس اور پوٹاش بوائی کے وقت جب کہ نائٹروجن دو قسطوں میں ۔ ۔ ۔ پہلی قسط بوائی کے وقت اور دوسری بعد میں فصل کے حالات کے مطابق ڈالی جاتی ہے۔
بابائے زراعت جناب محمد عاشق پونے دو بوری یوریا ، دو بوری ڈے اے پی اور ایک بوری پوٹاش کی سفارش کرتے ہیں۔
ترقی پسند کاشتکار رانا عامر شکور کے مطابق اگر گاجر کی ٹی۔29 ورائٹی کاشت کی گئی ہو تو پھر پوٹاش کی تین بوریاں ڈالنی چاہئیں۔ کیونکہ ٹی ۔29 کا ،رنگ پوٹاش ڈالنے سے ہی گہرا سرخ ہوتا ہے اور پوٹاش ڈالنے سے پیداوار پر بھی اچھا خاصا فرق پڑتا ہے۔
اگر آپ بجائی کے وقت زمین میں پوٹاش نہ ڈال سکیں تو پھر آپ پوٹاش کھاد کا سپرے بھی کر سکتے ہیں۔ کسی اچھی کمپنی کا فولئیر پوٹاش لے کر سپرے کر دیں۔ پہلا سپرے 50 دن کی فصل پر اور دوسرا 65 دن کی فصل پر کیا جا سکتا ہے۔ بعض تجربات بتاتے ہیں کہ سپرے کے ذریعے دی گئی پوٹاش کھاد ،زمین کے ذریعے کھاد دینے سے زیادہ اثر کرتی ہے۔
گوبر کی کھاد ڈال کر فوراََ گاجر کاشت کر دی جائے تو یہ جڑیں زیادہ بناتی ہے ۔ زیادہ جڑیں بننے سے ایک تو پیداوار متاثر ہوتی ہے اور دوسرے گاجر کی دھلائی و صفائی بہت مشکل ہو جاتی ہے۔ البتہ گاجر سے پچھلی فصل کو گوبر کھاد ڈالی جائے تو اس کا فائدہ گاجر کو بھی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گاجر کاشت کرنے سے کم از کم سے 3 مہینے پہلے زمین میں گوبر ڈالنا مفید ہے۔
آپ کے ذہن میں یہ سوال تو ضرور پیدا ہوا ہو گا کہ کاشتکار اگست میں گاجر کاشت کرنے کا پنگا کیوں لیتے ہیں.وجہ اس کی یہ ہے کہ اگست کے مہینے والی گاجر کی پیداوار تو اگرچہ ستر اسی توڑے (ایک توڑے میں 50 کلو گاجر ہوتی ہے) ہی ہوتی ہے لیکن ریٹ اچھا ملنے کی وجہ سے پیسے ٹھیک بن جاتے ہیں ۔ اس سے ایک تو 400 توڑوں کی دھلائی کی بجائے 80 توڑے ہی دھونے پڑتے ہیں اور دوسرا ٹرانسپورٹ کا خرچہ بھی کم ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ زمین جلد فارغ ہو جاتی ہے جس پر اگلی فصل یعنی گندم وغیرہ باآسانی کاشت ہو جاتی ہے۔

گاجر کی کونسی ورائٹی بہتر ہے؟

آج کل پنجاب میں تقریبا 95 فی صد کاشتکار، گاجر کی بھارتی ورائٹیاں کاشت کرتے ہیں۔ بھارتی ورائٹیوں میں سے پرولائین کمپنی کی لانگ ریڈ ورائٹی خاصی مقبول ہے۔ مہارانی اور مہا راجہ کی بھی لوگ تعریف کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کا رنگ سرخ، جسم پرکشش اور بال بہت کم ہوتے ہیں۔
ٹی۔ 29 بھی اچھی ورائٹی ہے۔ یہ ورائٹی پیداوار میں ہائبرڈ ورائٹیوں کا مقابلہ کرتی ہے۔ ٹی۔29 کے بارے میں کسان کہتا ہے کہ اس کی اتنی زیادہ پیداوار ہوتی ہے کہ مزدور اکھاڑ اکھاڑ کر تھک جاتے ہیں گاجریں ختم نہیں ہو تیں۔ رانا عامر شکور کا کہنا ہے کہ جہاں بھارتی ورائٹی کی گاجر کی پیداوار 300 من فی ایکڑ ہوتی ہے وہاں ٹی۔29 کی پیداوار 450 من فی ایکڑ ہوتی ہے۔
بھارتی ورائٹیوں کی نسبت ٹی۔29 زیادہ میٹھی بھی ہے۔ البتہ اس میں ایک بات ہے کہ یہ مکمل گول نہیں ہوتی بلکہ اس کے جسم پر تکونی سی لہریں بنی ہوتی ہیں ۔
اس کے علاوہ اس پر یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ ٹی۔29 کی گاجر زیادہ سرخ اور پر کشش نہیں ہوتی۔رانا عامر شکور کے مطابق اگر اس ورائٹی کو تین بوری پوٹاش کھاد ڈال دی جائے تو یہ اچھی خاصی سرخ ہو جاتی ہے۔ بابائے زراعت محمد عاشق نے بھی اس بات کی تصدیق ہے۔ محمد عاشق کے مطابق اگر ٹی۔29 ذرا پکے وٹ کی ہلکی کلراٹھی زمین میں کاشت کی جائے تو ایک بوری پوٹاش پر بھی اس کا رنگ ٹھیک ٹھاک سرخ ہو جاتا ہے اور یہ دیکھنے میں بھی پر کشش نظر آتی ہے۔ البتہ ہلکی میرا زمین میں اس کا گہرا سرخ رنگ حاصل کرنے کے لئے وافر مقدار میں پوٹاش کھاد استعمال کرنا پڑتی ہے۔
ہائبرڈ ورائٹی بھی آپ چاہیں تو کاشت کر سکتے ہیں۔ اس بات پر عمومی اتفاق ہے کہ اگیتی کاشت کے لئے گاجر کی ہائبرڈ ورائٹی زیادہ موزوں ہے۔ اور یہ بات تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہائبرڈ بیجوں سے پیداوا ر زیادہ ہوتی ہے۔

گاجر کا بیج کہاں سے خریدنا چاہئے؟

اگر آپ گاجر کا بیج خریدنے کے لئے مارکیٹ میں جائیں تو بیج فروش آپ کے سامنے کوئی دس پندرہ قسم کی کمپنیوں کے بیج رکھ دے گا اور پھر وہ یہ بھی آپ کو بتائے گا کہ یہ سب کی سب انڈین ورائٹیاں ہیں۔ ان ورائٹیوں کو وہ پوجا، مہارانی، درگا، پرولائن، ایگرو، مہاراجہ،گانئیر وغیرہ کا نام دے رہا ہو گا۔
پہلی بات تو یہ ذہن میں رہے کہ پوجا، درگا، پرولائن، ایگرو، گانئیر ورائٹیاں نہیں بلکہ بھارتی کمپنیاں ہیں جن سے پاکستان کے تاجر بیج درآمد کرتے ہیں۔ ان کمپنیوں کی جو ورائٹیاں پاکستان میں بیچی جا رہی ہیں ان کے نام اور ریٹ یہاں درج کئے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اوپر دی گئی تمام ورائٹیوں میں صرف ریڈ پرل ہی ہائبرڈ ورائٹی ہے باقی تمام غیر ہابرڈ ورائٹیاں ہیں۔
اب آپ نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ان ورائٹیوں میں سے کونسی ورائٹی آپ کو کاشت کرنی ہے۔ عمومی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ اگر آپ نے اگیتی گاجر یعنی اگست کے آخری ہفتے یا ستمبر کے پہلے دوسرے ہفتے میں گاجر کاشت کرنی ہے تو پھر پرولائن کمپنی کی لانگ ریڈ ورائٹی زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ورائٹی کسی حد تک گرمی کو براداشت کر لیتی ہے۔
لیکن اگر آپ نے 15 ستمبر کے بعد گاجر کاشت کرنی ہے تو پھر ریڈ کور، ڈیپ ریڈ، مہارانی، مہاراجہ وغیرہ موزوں سمجھی جاتی ہیں۔
البتہ بیج خریدنے میں سب سے اہم نقطہ یہی ہے کہ کسی تسلی بخش ڈیلر سے بیج خریدیں اور ڈیلر سے اگاؤ کی گارنٹی طلب کریں۔عام طور پر ڈیلر اگاؤ کی گارنٹی دینے سے کتراتے ہیں۔ لیکن میری آپ کو یہی تجویز ہے کہ اگر آپ کو ڈیلر انڈین بیج کے اگاؤ کی گارنٹی نہ دے تو متبادل ڈیلر تلاش کریں۔
ایسی صورت میں آپ حکومت پنجاب کی منظور شدہ گاجر کی ورائٹی ٹی۔29 کاشت کرسکتے ہیں۔ ٹی ۔29 ورائٹی ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کی تیار کردہ ہے۔
یہ ورائٹی یا تو آپ کو ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ ، فیصل آباد کے شعبہ سبزیات سے براہ راست مل سکتی ہے۔ یا پھر آپ پنجاب سیڈ کارپوریشن سے بھی گاجر کا بیج خرید سکتے ہیں۔ پنجاب سیڈ کارپوریشن، ٹی۔29 کے علاوہ گاجر کی ڈیپ ریڈ ورائٹی کا بیج بھی فروخت کر رہی ہے۔ تسلی بخش ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بیج سستا بھی ہے۔ عام طور پر آپ کو 500 روپے فی کلو کے حساب سے یہ بیج مل جاتا ہے ۔
اگر آپ کا تعلق سیالکوٹ یا ملحقہ علاقے سے ہے تو آپ انڈین ورائٹیوں سے گاجر کا بیج خود بھی تیار کر سکتے ہیں۔ جس کھیت کی گاجریں سرخ، میٹھی ، گول، لمبی اور زیادہ پیداوار والی ہوں وہاں سے ڈک لگانے کے لئے بیج رکھ لیں۔
10 مرلے پر ڈک لگانے کے لئے صرف تین مرلے کی گاجریں کافی ہوں گی۔
10 مرلے پر کاشت کی گئی گاجر سے 25 تا 30 کلو بیج با آسانی حاصل ہو جاتا ہے جو 5 سے 6 ایکڑ گاجر یں کاشت کرنے کے لئے کافی ہو گا ۔ اگر پانچ چھ ایکڑ کا اچھے والا بیج آپ مارکیٹ سے خریدنے جائیں تو یہ آپ کو پچیس تیس ہزار سے کم میں نہیں ملے گا۔
البتہ باقی پنجاب میں آپ گاجر کی ٹی۔29 ورائٹی کا بیج تیار کر سکتے ہیں۔

گاجر پر کیڑے مار ، جڑی بوٹی مار اور پھپھوندی کش زہروں کا استعمال

بہترین طریقہ یہ ہے کہ گاجر میں جڑی بوٹیاں کنٹرول کرنے کے لئے اگاؤ سے پہلے سپرے کیا جائے۔ گاجر کاشت کر کے پانی لگائیں اور 24 گھنٹے کے اندر اندر جڑی بوٹی مار زہر کا سپرے کر دیں۔ سپرے کرنے کے لئے پینڈی میتھلین (سٹامپ ۔ ایف ایم سی یا متبادل) یا لائی نو ران (لائی نیکس۔ ایوائل گروپ یا متبادل) کا سپرے کر دیں۔ ایس میٹولا کلو (ڈوال گولڈ۔ سنجنٹا) کا بھی سپرے کیا جا سکتا ہے لیکن گاجر پر پینڈی میتھلین یا لائی نوران زیادہ محفوظ ہیں۔ اگست کاشتہ گاجر پر ڈوال گولڈ کا سپرے اگر نہ کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
اوپر بتائی گئی زہریں ،گاجر میں اگنے والی ہر طرح کی جڑی بوٹیوں کو تلف کر دیتے ہیں سوائے گاجر بوٹی کے۔ اگر آپ کے کھیت میں گاجر بوٹی کا بھی مسئلہ ہونے کا امکان ہو تو پھر اکلونی فن (چیلنج ۔بائر کراپ سائنس) بحساب 500 ملی لیٹر یا آکسی فلورفن (آکسی فن ۔ ایوائل گروپ) 300 ملی لیٹر فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔
گاجر پر سست تیلہ، امریکن سنڈی، لشکری سنڈی یا جوؤں وغیرہ کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔
سست تیلے کی صورت میں امیڈا کلوپرڈ یا ا سیٹا میپرڈ سپرے کریں
امریکن یا لشکری سنڈی کی صورت میں ایما میکٹن کا سپرے کیا جا سکتا ہے۔ فصل پر نظر رکھیں اور سنڈی ابھی چھوٹی ہی ہو تو سپرے کر دیں ۔ کیونکہ اگر یہ سنڈیاں بڑی ہو جائیں تو کنٹرول مشکل ہو جاتا ہے۔
گاجر کو پھپھوندی والی بیماریاں بھی حملہ کر سکتی ہیں۔ لہذا ان سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ گاجر کے بیج کو ٹاپسن ۔ایم یا کوئی متبادل زہر لگا کر کاشت کیا جائے۔ اسی طرح اگر فصل پر پھپھوندی کا حملہ ہو جائے تو ٹاپسن ایم یا کوئی متبادل زہر فلڈ کیا جا سکتا ہے۔

گاجر کی فصل سے کتنی فی ایکڑ پیداوار اور آمدن ہوتی ہے؟

اگیتی گاجر کی پیداوار کم ، درمیانی کاشتہ گاجر کی پیداوار درمیانی اور پچھیتی گاجر کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔ کم یا زیادہ پیداوار کی وجہ موسم کی ٹھنڈک ہے۔
اگر آپ گاجر کی پٹائی، دھلائی اور منڈی میں سپلائی خود کرنا چاہیں تو اس صورت میں پیداوار اور آمدن کا حساب کچھ یوں ہو گا۔
اگیتی کاشتہ گاجر کی پیداوار اور آمدن

نوٹ: ایک توڑے میں 50 کلوگرام گاجر ہوتی ہے : گزشتہ پانچ سالوں (2013-2017)کے اوسط ریٹ کو سامنے رکھا گیا ہے۔

اگیتی کاشت ہونے والی گاجر کی پیداوار 80 سے185 توڑے ہو جاتی ہے ۔
اگیتی گاجرنومبر کے آخری ہفتے منڈی پہنچ جاتی ہے۔ ان دنوں منڈی کا ریٹ عموماََ تیز ہوتا ہے۔ اور آپ کا ایک توڑا1000 سے 1200 روپے میں بک جاتا ہے۔ اس حساب سے اگیتی گاجر کی فی ایکڑ کم سے کم آمدن 80 ہزار اور زیادہ سے زیادہ2 لاکھ20 ہزار روپے فی ایکڑ ہو سکتی ہے۔ اس طرح اگیتی گاجر کی اوسط آمدن تقریبا ڈیڑھ لاکھ روپے بنتی ہے۔

درمیانی کاشتہ گاجر کی پیداوار اور آمدن


اگر گاجر کی کاشت درمیانے موسم میں کی گئی ہو تو پیداوار 200 سے 335 توڑے تک پہنچ جاتی ہے۔
درمیانی کاشتہ گاجر دسمبر کے تیسرے ہفتے منڈی پہنچ جاتی ہے۔ ان دنوں منڈی کا ریٹ عموماََ درمیانہ ہوتا ہے۔ اور آپ کا ایک توڑا400 روپے سے650 روپے میں بک جاتا ہے۔ اس حساب سے درمیانی کاشتہ گاجر کی فی ایکڑ کم سے کم آمدن 80 ہزار اور زیادہ سے زیادہ2 لاکھ 18 ہزار روپے ہو جاتی ہے۔ اس طرح درمیانی کاشتہ گاجر کی اوسط آمدن تقریباِِ ایک لاکھ49 ہزار روپے بنتی ہے۔

پچھیتی کاشتہ گاجر کی پیداوار اور آمدن

اگر گاجر کی کاشت پچھیتی ہو تو پیداوار 350 سے450توڑے تک ہو جاتی ہے۔
پچھیتی کاشتہ گاجر وسط جنوری میں برداشت ہوتی ہے۔ اس مہینے میں منڈی کا ریٹ عموماََ کم ہوتا ہے۔ اور آپ کا ایک توڑا215روپے سے475روپے میں بک جاتا ہے۔ اس حساب سے پچھیتی گاجر کی فی ایکڑ کم سے کم آمدن 75 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 2 لاکھ 14 ہزار روپے تک ہو جاتی ہے۔ اس طرح پچھیتی گاجر کی اوسط آمدن ایک لاکھ 45 ہزار روپے بنتی ہے۔
اس کے علاوہ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ گاجر کی کھڑی فصل بیوپاری کے ہاتھ فروخت کر دیں۔ کھڑی فصل بیچنے کی صورت میں گاجر کی پٹائی، دھلائی اور منڈی میں سپلائی والا جھنجٹ ۔ ۔ ۔ بیوپاری جانے اور اس کا کام ۔ ۔ ۔ آپ پیسے لے کر آرام سے گھر جائیں۔
کھڑی گاجر اگر بیوپاری کے ہاتھ فروخت کرنی ہو تو عام طور پر 80 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں ایک ایکڑ بک جاتا ہے۔

فیصل آباد کی منڈی میں گاجر کے حقیقی ریٹ کا جائزہ (روپے فی توڑا)

اوپر ہم نے فیصل آباد کی سبزی منڈی میں پچھلے پانچ سالوں کے گاجر ریٹ سے متعلق تفصیل درج کر دی ہے۔ اس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دسمبر میں اوسط ریٹ 1068 روپے ہے جبکہ کسان کے بتائے گئے ریٹ کی اوسط 1100 روپے فی توڑا ہے۔ اس میں تو زیادہ فرق نہیں ہے۔
لیکن اگر پچھلے پانچ سالوں میں جنوری اور فروری کے ریٹ کا جائزہ لیں تو کسان کا بتایا گیا ریٹ کافی کم ہے۔ کسانوں کے مطابق جنوری کے مہینے کا اوسط ریٹ 525 روپے فی توڑا اور فروری کے مہینے کا اوسط ریٹ 345 بنتا ہے۔ جبکہ اگر ہم منڈی کے حقیقی ریٹ پر نظر ڈالیں تو جنوری کے مہینے میں اوسطاََ 665 روپے فی توڑا جبکہ فروری کے مہینے میں 664 روپے فی توڑا ریٹ رہا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم منڈی کے حقیقی ریٹ کے مطابق حساب کتاب لگائیں تو اوسط آمدن 2 لاکھ فی ایکڑ سے اوپر چلی جاتی ہے۔

گاجر کاشت کرنے کے لئے فی ایکڑ کتنے اخراجات ہو جاتے ہیں؟

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں