ایوب ریسرچ کی مجوزہ خود مختاری اور خدشات

یوں تو وطنِ عزیز میں زراعت کی ترقی اور بہتری کے لیے بہت سےسرکاری اور پرائیویٹ ادارے کارفرما ہیں مگر ان میں ایوب ایگریکلچرل ریسرچ  انسٹیٹوٹ فیصل آباد کا ایک منفرد مقام ہے۔یہ ادارہ 1909میں  قائم ہوا اور 1962میں اسے اپ گریڈ کر کے انسٹیٹوٹ کا درجہ دیا گیا۔ تب ہمارا ملک غذائی قلت کا شکار تھا۔ اس ادارے نے گندم کی دوگنی پیداور دینے والی ورائیٹیاں تیار کیں جن کی بدولت پاکستان میں سبز انقلاب برپا ہوا۔ سبز انقلاب سے ریاستِ پاکستان کی بنیادیں اس قدر مستحکم ہوئیں کہ بھارت سے دو بڑی جنگیں لڑنے کے باوجود ہمارا ملک اللہ کے فضل و کرم سے متزلزل نہ ہوا۔

وطن عزیز میں مسلسل غیر متوازن زرعی پالیسیوں اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود یہ ادارہ فصلوں کی بہترین ورائیٹیاں پیدا کرکے فوڈ سیکیورٹی کی ضمانت دیتا آیا ہے۔ پنجاب حکومت کے زیرِاہتمام اپنی خدمات سرانجام دینے والے اس ادارے میں مختلف فصلوں مثلا گندم،کپاس،چاول،گنااور مکئی  وغیرہ پر تحقیق کے نتیجے میں نہ صرف ملکی غذائی ضروریات پوری ہو رہی ہیں بلکہ ان کی فاضل پیداور سے زر مبادلہ بھی کمایا جا رہا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ بات جان کر حیرانی ہو کہ صوبہ پنجاب میں نوے فیصد سے زائد رقبے پر کاشت ہونے والی مختلف فصلوں  (گندم،کپاس،چاو ل،گنا اور مکئی وغیرہ) کی اقسام اسی ادارے کی تیار کردہ ہیں۔ اس  ادارے میں کام کرنے والے زرعی سائنس دان اور دیگر معاون عملہ، انتہائی محدود  وسائل اور ناکافی افرادی قوت کے باوجود ایسی اقسام تیار کر رہے ہیں جو ملک میں رونما ہونے والی نامساعد موسمیاتی تبدیلیوں کا کامیابی سے مقابلہ کر کے اچھی پیداور دے رہی ہیں

ایوب ریسرچ میں گنے کی تیار کردہ ورائٹیوں کی نمائش کی جا رہی ہے

زرعی تحقیق کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ کسانوں کی رہنمائی میں بھی مصروف عمل ہے۔ مختلف انفرادی اور اجتماعی سرگرمیوں کے ذریعے کاشت کاروں کو نت نئی اور جدید زرعی پیداوری ٹیکنالوجی سے متعارف کروانے میں اس ادارے کا ایک اہم کردار رہا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ ادارہ مختلف زرعی یونیورسٹیوں کے زرعی گریجوایٹس کو انٹرن شپ کی مد میں ٹیکنیکل تربیت مہیا کررہا ہے۔ پنجاب میں بیجوں کا کاروبار کرنے والی کمپنیاں جب باہر کے ممالک سے بیج منگواتی ہیں تو یہی ادارہ ان بیجوں کو ٹیسٹ کر کے انہیں منظور یا مسترد کرنے کی سفارشات دیتا ہے۔ ادارے کے اس تحقیقی عمل سے بیماریوں اور کیڑوں سے شدید متاثر ہونے والے بیج کاشت کے لئے منظور نہیں ہو پاتے جس سے کسان پیسٹی سائیڈ کمپنیوں کا گاہک بننے سے بچ جاتا ہے۔ جب کوئی بیماری یا کیڑا کسی فصل کو شدید نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے اور زیادہ تر پرائیویٹ پیسٹی سائیڈ کمپنیاں اس کے تدارک کی مد میں کسان کی جیب کو ہلکا کر چکی ہوتی ہیں تو بالآخر کاشتکار درست راہنمائی کے لیے پھر اسی ادارے سے رجوع کرتا ہے جہاں اسے درست مشورہ بلا قیمت و کاست دیا جاتا ہے۔

مگر ان تمام بے لوث خدمات کے باوجود ایوب ایگریکلچرل ریسرچ  انسٹیٹوٹ کے سائنسدانوں کی کاوشوں کو بہت کم سراہا جاتا ہے۔ اپنے چہروں کی ضیا اور آنکھوں کا عرق زراعت کی خدمت  میں صرف کرنے والوں کا نہ معیارِ زندگی بہتر ہوسکا اور نہ ہی انھیں وقار کی نظر سے دیکھا گیا۔ اپنی محدود تنخواہ میں گزر بسر کرنے والے صابر و شاکر زرعی سائنسدانوں نے آج تک اپنے ذاتی فائدے کے لیے کبھی کسی فورم پر ایک لفظ بھی اپنے منہ سے نہیں نکالا۔ لیکن آخر ایسا کیا ہونے جا رہا ہے کہ زرعی تحقیق میں سر مست یہ دیوانے سڑکوں پر احتجاج کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔

ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ کے سائنسدان ٹرانسفارمیشن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے

بات کچھ یوں ہے کہ ایوب ریسرچ میں چار بڑی فصلوں (گندم،چاول،گنا اورمکئی) پر تحقیق کرنے والے ذیلی اداروں کو زرعی ٹرانسفارمیشن ایکٹ کے ذریعے پرائیوٹائیزیشن کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جس سے یہ سائنسدان گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ دراصل کسی بھی تحقیقی ادارے کا سب سے بڑا اثاثہ اس کا جرم پلازم ہوتا ہے جو اندرون و بیرون ملک سے تنکا تنکا کر کے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ سائنسدان اس جرم پلازم کی ایٹم بم کی طرح حفاظت کرتے ہیں۔ زرعی سائنس دانوں کو تحقیق کے یہ اثاثے پرائیویٹ ہاتھوں میں جانے یا ممکنہ طور پر ضائع ہو جانے کے حوالے سے سخت تشویش ہے۔

سائنسدان یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر یہ جرم پلازم اور بیجوں کی تحقیق کے معاملات پرائیویٹ ہاتھوں میں چلے گئے تو پھر کسانوں کوکسی صورت سستا بیج میسر نہیں آ سکے گا اور سبزیوں کے ہائبرڈ بیجوں کی طرح ان عام فصلوں کے بیجوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ نتیجتا، فصلوں کی پیداوری لاگت بڑھ جائے گی جس کا بوجھ صارف یا عام عوام پر پڑے گا۔ اس عمل سے پانچ سات سال بعد مہنگائی کا ایک طوفان متوقع ہے اور آٹا،چینی، چاول وغیرہ عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہوجائیں گے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس مسئلے کی سنگینی کو ذرائع ابلاغ اور عوامی سطح پر محسوس نہیں کیا جا رہا۔

زرعی ٹرانسفارمیشن ایکٹ کے ذریعے مذکورہ چار اداروں کا سالانہ بجٹ تقریبا پونے سات ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جس کا زیادہ بڑا حصہ تنخواہوں کی مد میں جائے گا۔ ہو سکتا ہے آپ کو یہ بات جان کر دھچکا لگے کہ زرعی ٹرانفارمیشن کے تحت زرعی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں چالیس چالیس لاکھ روپے تجویز کی گئی ہیں۔ جی ہاں! اتنی خطیررقم ایک غریب اور مقروض ملک پر بہت بڑا بوجھ ہے۔ یقینا یہ رقم ہر سال غریب کسانوں کی جیب سے نکالی جائے گی۔ کیا اتنا بڑا بوجھ پاکستان کا مفلوک الحال کسان برداشت کر پائے گا؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ خصوصا چھوٹا کاشتکار زیادہ پیداواری لاگت کی وجہ سے کاشتکاری چھوڑسکتا ہے۔ اس سے ملک میں بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہو گا۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو پھر ملک میں فوڈ سیکیورٹی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے جس کا سامنا کرنا کسی بھی حکومت کے بس میں نہیں ہوگا۔

اس سارے عمل سے زراعت کی ترقی ہو نہ ہو یہ ضرور ہو گا کہ چالیس چالیس لاکھ ماہانہ تنخواہیں پانے والوں کی تجوریاں بھرجائیں گی۔ اور وہ اس ملک کی زراعت تباہ کرکے کروڑوں روپے بریف کیسوں میں بھر کر اپنے بیوی بچوں سمیت باہر کے ملکوں میں ہوں گے۔

ایوب ریسرچ کے زرعی سائنسدان ٹرانسفارمیشن کے حوالے میڈیا کو بریفنگ کے دوران

قابل قدر وزیراعظم پاکستان کا یہ بیانیہ بجا طور پر درست ہے کہ گزشتہ ادوار میں کرپٹ حکمرانوں کی غفلت سے ملکی ادارے تباہ ہوئے۔ تو کیا محکمہ زراعت اس غفلت کی بھینٹ نہیں چڑھا ہوگا۔ یقینی طورپر ارباب اختیار کی عدم دلچسپی اور بے توجہی کے اثرات زرعی اداروں پر بھی پڑے ہیں۔ مگر آپ نے دیکھا کہ نہ تو ملک میں غذائی قلت پیدا ہوئی اور نہ ہی کسی نے لوگوں کو فاقوں سے مرتے دیکھا ۔ اگر کبھی آٹے اور چینی وغیرہ کا بحران پیدا ہوا ہے تو وہ ناقص انتظامی پالیسیوں کی وجہ سے ہوا ہے نہ کہ پیداور میں کمی کی وجہ سے۔

مزید یہ کہ انڈیا نے پاکستانی دریاوں پر ڈیم بناکر پانی کا بہاؤ اورمقدار کو کم کردیا ہے۔ جس سے فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے نہروں میں پانی کی شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ ظاہر ہے اس سے بھی پاکستان کی زراعت براہ راست متاثر ہوئی ہے۔ مگر اس کے باوجود ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی تیار کردہ اقسام سے زبردست پیداور حاصل ہورہی ہے۔ جیسا کہ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق رواں سال گندم کی پیداور میں تاریخی اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ اسی طرح دیگر فصلوں جیسا کہ کپاس، گنا اور چاول میں بھی پہلے سے بہتر پیداور کے تخمینے لگائے گئے ہیں۔ یہ بات مبنی برحقیقت ہے کہ وزیراعظم پاکستان محترم عمران خان کی شعبہ زراعت میں خصوصی دلچسپی اور وزیراعلی پنجا ب سردار عثمان بزدار کے بہترین انتظامی امور کی بدولت محکمہ زراعت نے انگڑائی لی ہے اور فصلوں خصوصا گندم کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملی ہے

مگراب یہ بات بالکل سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان نفع بخش اداروں کو ٹرانسفارمیشن کے نام پر راتوں رات ختم کردینے کے لئے نوٹیفیکیشن جاری کئے جا رہے ہیں۔ اور کوشش یہ ہے کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہونے پائے۔ اور یہ سب کچھ اتنی جلد بازی میں کیا جا رہا ہے کہ زرعی سائنسدانوں کی رائے لینے کے لئے بھی کسی کے پاس کوئی وقت نہیں ہے۔ حالانکہ زرعی تحقیق کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھنے والے زیادہ بہتراورزیادہ عملی تجاویز دے سکتے ہیں۔

زرعی سائنسدان تو وزیراعظم پاکستان محترم عمران خان اور وزیراعلی پنجا ب سردار عثمان بزدار کی راہ دیکھ رہے تھے کہ انہیں زرعی اہداف کے حصول کی کامیابی پر تھپکی ملے گی۔ ان کی ڈھارس بندھائی جائے گی۔ زرعی تحقیق کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ لیبارٹریز کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر غور کیا جائے گا۔ انہیں پیش آنے والی مشکلات کو کم کرنے کی کوئی نوید سنائی جائے گی۔ جبکہ برخلاف توقع اُن پریہ خبر قیامت بن کر ٹوٹی ہے کہ زرعی اداروں کو نجکاری کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

اس ادارے کو زرعی سائنسدانوں نے نہائیت جانفشانی اور عرق ریزی سے ترقی کی پٹری سے اترنے نہیں دیا ہے۔ اگر اسے یوں فورا ختم کردیا گیا اور اس کے سارے اثاثہ جات تلپٹ ہو گئے تو یہ اس ملک کے ساتھ سانحہ عظیم ہو گا۔ اس ادارے کی نجکاری سے جو خدمات کسانوں کو مفت میں مل رہی ہیں پھروہ بھاری بھرکم مشاورتی فیسیں ادا کرنے سے بھی شائد میسر نہ ہو سکیں۔زرعی سائنس دان یہ سمجھتے ہیں کہ اگرایگرکلچر ٹرانسفارمیشن ایکٹ نافذ العمل ہوجاتا ہے تو یہ ملکی زراعت کو دو لخت کرنے کے مترادف ہوگا۔

زرعی تحقیق کے ذریعے فصلوں کی نئی نئی اقسام پیدا کرنا ایک سخت مشکل اور صبر آزما کام ہے جو صرف مخصوص مزاج اور تربیت کے لوگ ہی کر پاتے ہیں۔ اس طرح کا صبر آزما کام محض حکومتی سربراہی میں ہی ہوسکتا ہے۔اگر یہ کام کسی کو زیادہ تنخواہ یا زیادہ خودمختاری دینے سے جلداور بہتر ہونے والا ہوتا تو پاکستان میں پرائیویٹ ملٹی نیشنل اور نیشنل کمپنیوں کو تو کلی خود مختاری حاصل ہے۔ وہ جیسے چاہیں اعلی بیج تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر سکتی ہیں۔مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بہتر پیداور کے لیے آج بھی کسان ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیٹوٹ کی تیار کردہ اقسام پر ہی انحصار کرتا ہے۔ یہ بات نہائیت ذمہ داری کے ساتھ کی جا سکتی ہے کہ ہائبرڈ بیج کے میدان میں بھی ایوب ریسرچ ادارہ پرائیویٹ کمپنیوں کی ٹکر یا ان سے بہتر ورائٹیاں دے رہا ہے جن کا بیج نہائیت سست داموں کاشتکاروں کو مل سکتا ہے۔

ایوب ریسرچ میں تیار کردہ ہائبرڈ مکئی کی کامیاب ورائٹی

اس امر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایوبرریسرچ اور پرائیویٹ کمپنیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ مسابقتی تعلق ہے۔ زیادہ تر پرائیویٹ کمپنیاں، ایوب ریسرچ کو اپنے حریف کے طور پر دیکھتی ہیں اور اسے اپنے کاروبار کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتی ہیں، کیونکہ ان کے درآمد کئے گئے اکثر بیج ایوب ریسرچ کی غیر جانبدار تحقیق کے نتیجے میں مسترد قرار پاتے ہیں۔ زیادہ تر کمپنیاں ایوب ریسرچ کے جرم پلازم کو بھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتی ہیں اور اس کے حصول کی متمنی رہتی ہیں۔

ایوب ایگری کلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سائنس دان از خود چاہتے ہیں کہ ان اداروں کو مزید مضبوط و مستحکم کیا جائے۔ لیکن ادارے کی ترقی کے لئے تجاویز دینے والی کسی بھی کمیٹی کا متوازن ہونا بہت ضروری ہے۔ ایک ایسی کمیٹی تجاویز دینے کی مجاز ہو جس میں زرعی تحقیق، زرعی تدریس اور زرعی توسیع کے نمائندوں کے علاوہ کاشتکاروں کے نمائندے بھی شامل ہوں۔ کمیٹی کے تمام ممبران غیر جانبدار ہوں اور کسی بھی ممبر کا ذاتی مفاد قومی مفاد کے ساتھ متصادم نہ ہو۔

آخر میں ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے تمام زرعی سائنسدانوں کی وزیر اعظم سے خصوصی اپیل ہے کہ صرف ایک بار ان کا نقطۂ نظر سنا جائے۔ زرعی ٹرانسفارمیشن کے نام پر ان اداروں کی خود مختاری(نجکاری) کو فوری روکا جائے۔اور خودمختاری کا کوئی تجربہ اگر کرنا بھی ہے تو کسی ایک ایسی فصل کے ادارے سے کیا جائے جس کا فوڈ سکیورٹی سے براہ راست تعلق نہ ہو۔ اور بہتر نتائج برآمد ہونے کی صورت میں اس کا اطلاق باقی اداروں پربھی کردیا جائے۔ جلدبازی سے کام نہ لیا جائے۔اور ٹھنڈے دل سے سوچا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو زمینی حقائق سمجھے بغیر اچھی خاصی پھلتی پھولتی زراعت میں کوئی ایسا پیوند لگا دیا جائے جو پیسے اور وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ ملکی زراعت کا بھی بیڑا غرق کر دے۔ اور خدانخواستہ وہ ملک متزلزل ہو کر رہ جائے جسے جنگیں اور دہشت گردی جیسے ناسور بھی نہ ہلا سکے۔ پاکستان کی سالمیت زراعت سے وابستہ ہے کیونکہ زراعت ہے تو پاکستان ہے۔

 اللہ پاک پاکستان کی آنے والی نسلوں کا حامی و ناصر ہو۔ 

تحریر

محمد اقبال

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں