دھان کی نئی ورائٹی کی فروخت اور کسانوں کے مسائل!

اسے اگر بد قسمتی نہیں تو اور کیا کہا جائے کہ جب بھی ہمارے ملک میں چاول یا دھان کی کوئی بہترین قسم متعارف کروائی جاتی ہے تو ہم کسان کئی سال تک اسے بڑے پیمانے پراپنانے کے لئے تیار نہیں ہوتے، چاہے یہ نئی قسم، پرانی قسموں سے کتنی ہی بہتر کیوں نہ ہو۔
اس مسئلے کی کئی ایک وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ تو یہ ہے کہ نئی قسم کی مونجی کا ریٹ عموماََ کم لگایا جاتا ہے۔
عام طور پر اس حوالے سے کاشتکار، فیکٹری مالک کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ بیوپاری بھی نئی چیز ہونے کے نام پر کسانوں کا استحصال کرتے ہیں۔ نئی ورائٹی کے حوالے سے فیکٹری مالکان کہ رہے ہوتے ہیں کہ اس کی ریکوری کم ہے اور کسی حد تک یہ حقیقت بھی ہے۔
ریکوری سے مراد ایک من دھان سے حاصل ہونے والے چاول کی مقدار ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک من دھان سے 20 کلو چاول حاصل ہوتا ہے تو اس دھان کی ریکوری 50 فی صد ہو گی۔ بہتر ریکوری کا مطلب، فیکڑی مالکان کے لئے زیادہ منافع اور اور فیکٹری مالکان کو زیادہ منافع کا مطلب کسان کے لئے دھان کی بہتر قیمت۔
سوال یہ ہے کہ بہتر ریکوری کی کون کون سی وجوہات ہیں؟
اگر مونجی خشک اور صحت مند ہو تو ریکوری زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اس کے علاوہ فیکٹری میں مونجی کو چاول میں تبدیل کرنے کی ترکیب بھی نہائیت اہم ہے۔فیکٹری میں دھان کی الگ الگ قسموں کی پکائی اور چھنڈائی میں عام طور پر تھوڑا تھوڑا فرق ہوتا ہے۔ جب تک کاریگر اس فرق کو اچھی طرح سے سمجھ نہیں لیتے اور مونجی کی پکائی و چھنڈائی کی سکہ بند ترکیب وضع نہیں کر لیتے، ریکوری میں نقصان ہوتا رہتا ہے جس کا وبال کاشتکاروں کے سر کم قیمت کی صورت میں پڑتا رہتا ہے۔
سرکاری ادروں کی عدم رہنمائی کی وجہ سے کسی بھی نئی قسم کی بہترین پکائی کی ترکیب دریافت کرنے کے لئے مل کے مالک اور مستری کو بہت زیادہ تجربات کرنا پڑتے ہیں۔ اور جب تک کاریگر اس نئی قسم سے اچھے معیار کا چاول اور بہتر ریکوری حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو جاتے یہ تجربات کسی نہ کسی صورت میں جاری رہتے ہیں۔ ان تجربات میں کاریی گروں کی توجہ ٹوٹے ہوئے چاول کو کم کرنے اور اور چاول کے ضیاع کی شرح کو کم کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔
تو پھر مورد الزام کسے ٹھہرائیں؟
میرے خیال میں مسئلہ ادارہ جاتی و صنعتی رابطوں کی کمی ہے۔ ہمارے تحقیقی اداروں، کسانوں اور مل مالکان میں باہم رابطوں و تعاون کی انتہائی کمی ہے۔ یہاں حکومتی کردار بہت اہم ہے۔ اگر کچھ جنونی اور جدت پسند کاشتکار اپنی جدت کی ضد پر اڑے نہ رہیں تو بہت سی شاندار قسمیں وقت سے پہلے اور اپنی حقیقی صلاحیتوں کے فوائد دئیے بغیر ہی ختم ہو جائیں۔
میں ذاتی طور پر آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میں سن 2014 سے دھان کی قسم 1509 مسلسل کاشت کر رہا ہوں۔ میں نے یہ کاشت 10 ایکڑ سے شروع کی۔ ہر سال اس کا حصہ آہستہ آہستہ بڑھاتا رہا اور اس سال میں نے 50 فیصد رقبہ پر 1509 کو کاشت کیا ہے۔ پہلے 3 سالوں کے لئے مجھے دھان کی اس نئی قسم کو اچھی قیمت پر فروخت کرنے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے اسے بیچنے کے لئے دوسری مقبول قسموں کے ساتھ نتھی کر کرنا پڑا۔ البتہ 2018 پہلا سال ہے جب بیوپاری اور فیکٹری مالکان بغیر ہچکچاہٹ کے بہتر قیمتوں پر 1509 قسم خرید رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ بہت سے مل مالکان اور ان کے کاریگروں نے 1509 قسم کی پکائی اور چھنڈائی کا بہتر طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔
1509 ایک پائیدار، نسبتا ماحول دوست اور کسان دوست قسم ہے۔ یہ انتہائی مختصر مدت (90 سے 95 دن) میں تیار ہونے والی قسم ہے جس کی بدولت یہ پانی کی بڑی بچت کا باعث ہے۔ ذرا تصور کریں کہ پانی کی کتنی بچت کی جا سکتی تھی اگر ہم نے اسے پانچ سات سال پہلے اپنا لیا ہوتا۔ اس سے ہمارے تیز رفتاری کے ساتھ کم ہوئے ہوئے پانی کے وسائل پر دباؤ کم ہو سکتا تھا۔
بہت اچھا ہو گا اگر حکومت اور اس کے ادارے، کسانوں اور فیکٹر یوں کے درمیان روابط قائم کریں۔ اس سے بہت ساری بچت ہو گی اور کسانوں کے استحصال میں بھی کمی ہو گی۔
ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ بیوپاری اور فیکٹری مالکان، ریکوری کے مسائل حل ہونے کے بعد بھی کسانوں کا استحصال جاری رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جس نے محنت اور تجربات سے ترکیب دریافت کی ہو اسے کمانے کا بھی حق حاصل ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہوتا ہے کہ کسانوں کے لئے اس مسئلے کا بہتر حل کیا ہے؟
اس مسئلے کے بہتر حل کے لئے یہی تجاویز پیش کی جا سکتی ہیں کہ اول ترکیب جاننے والے خریداروں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جائے۔
دوئم دھان ملوں کے تکنیکی ماہرین یا کاریگروں کے لئے تربیتی کورسز کا انعقاد کیا جائے. اس سلسلے میں سرکاری تحقیقاتی ادارے بہتر خدمات سر انجام دے سکتے ہیں.
زرعی تحقیقاتی ادارہ، نیاب، ہمارے بہترین تحقیقاتی اداروں میں سے ایک ہے اس ادارے نے 2017 میں نور باسمتی کی شکل میں بہت اچھا کام کیا ہے۔ نیاب کی ویب سائٹ کا دعوی ہے کہ کہ نور باسمتی کی فی ایکڑ پیداواری صلاحیت 50 من ہے۔ لیکن میرے فارم کے بہترین کھیت پر اس کی پیداوار 55 من فی ایکڑ رہی ہے۔
واضح رہے کہ یہ پیداوار بہترین پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل کئے بغیر حاصل کی گئی ہے. مجھے امید ہے کہ ترقی پسند کاشتکار بہتر مینیجمنٹ اور صحیح ہدایات پر عمل کر کے اللہ تعالی کے فضل سے نور باسمتی سے 65 من سے بھی زیادہ پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ آنے والے چند سالوں میں دھان کے بیوپاریوں اور فیکٹری مالکان کا رویہ کیسا ہو گا اور میدان میں آنے والی نئی ورائٹی کس بھاؤ بکتی ہے.

تحریر
اسامہ محمد خان خاکوانی
ترقی پسند کاشتکار

ایڈیٹنگ
ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں