توسیع زراعت کی نجکاری: تجزیہ و مشورہ

آج کل پنجاب میں زرعی توسیع کا محکمہ افواہوں کی زد میں ہے اور توسیع زراعت کا نظام پرائیویٹ ہاتھوں میں دینے کی بات ہو رہی ہے۔ قابلِ قدروزیر اعظم عمران خان بھی اس تبدیلی کے لئے مائل نظر آتے ہیں۔ نجی شعبہ اس ممکنہ تبدیلی میں کئی طرح کے کاروباری امکانات دیکھ رہا ہے جبکہ ایک دوسرا طبقہ اسے زراعت کے لئے نقصان دہ قرار دے رہا ہے۔لہذا ضروری تھا کہ ملکی اہمیت کے اس موضوع پر تبادلہءِ خیال کیا جائے۔

بات کچھ یوں ہے کہ محکمہ توسیع زراعت کا سالانہ بجٹ کم و بیش 5 ارب روپے ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ پیسہ حکومت پنجاب کے خزانے سے جاتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ نجکاری کو دیکھنے والی موجودہ کمیٹی کے ذہن میں کیا نقشہ ہے؟ لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اگر اس کا ایجنڈا محض حکومت کے 5 ارب روپے بچانا مقصود ہے تو پھر توسیع زراعت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بجا ہے۔

توسیع زراعت کی نجکاری کا ذکر کریں تو سب سے پہلے ہمارے ذہن میں جس ملک کا نام آتا ہے وہ ہالینڈ ہے۔ ہالینڈ کو نیدر لینڈ بھی کہتے ہیں۔ یہ مغربی یورپ کا ایک ایسا ملک ہے جسے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہاں توسیع زراعت مکمل طور پر پرائیویٹ مانا جاتا ہے۔ ہالینڈ کا رقبہ، پنجاب کے ڈویژن بہاولپور سے بھی کم ہے۔ زرعی ترقی کے حوالے سے یہ ملک یورپ میں پہلے نمبر پر ہےجبکہ عالمی سطح پراس کا دوسرا نمبر ہے۔ ہالینڈ کی زرعی برآمدات چین سے بھی ڈبل ہیں۔ ہالینڈ میں 90 کی دہائی سے توسیعی سرگرمیاں نجی شعبے کے پاس ہیں، لیکن اس تمام تر نام نہاد نجکاری کے باوجود، کاشتکاروں کو توسیعی خدمات فراہم کرنے کے لئے ہالینڈ اوسطا 24000 روپے سالانہ فی خاندان خرچ کرتا ہے۔ جبکہ پنجاب میں یہ رقم کم و بیش 1000روپے فی خاندان ہے۔

ہالینڈ میں کاشتکاروں کی غالب اکثریت جدید زرعی مشینری سے لیس ہے۔ کاشتکاروں کے کھیتوں میں ڈرون اڑتے ہیں۔ وہاں ڈرائیوروں کے بغیر ٹریکٹر چلتے ہیں۔ ہر کاشتکار پڑھا لکھا اور اوسطا 80 ایکڑ کا مالک ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ جدید اور ترقی یافتہ ملک، توسیع زراعت پر دل کھول کر خرچ کرتا ہے۔ کیونکہ ہالینڈ جانتا ہے کہ توسیع زراعت پر سرمایہ کاری کئے بغیر زراعت کچھوے کی رفتار سے ہی آگے بڑھ سکتی ہے۔

تقریبا 115 ارب ڈالر کی زرعی ایکسپورٹ کرنے والا یہ وہی ہالینڈ ہے جو 1940 کی دہائی میں قحط سے دو چار تھا۔ یہ دوسری جنگ عظیم کےبعد کا زمانہ تھا جب ہالینڈ کے باشندے فاقہ کشی پر مجبور تھے۔ حکومت کے لئے فوڈ سیکیورٹی سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ اس مسئلے سے نمٹے کے لئے حکومت نے زرعی توسیع کی نجکاری نہیں کی بلکہ اس محکمے کو اور زیادہ مضبوط کیا۔ زراعت افسران کی تعداد 518 سے بڑھا کر 1219 کر دی گئی۔ ایک چھوٹے سے ملک میں زراعت افسروں کی یہ ایک بہت بڑی تعداد تھی۔ تب ہر زراعت افسر کے دائرہ کار میں اوسطا محض 160 کاشتکار آتے تھے جبکہ ہمارے ہاں پنجاب میں ہر زراعت افسر کے دائرہ کار میں آنے والے کاشتکاروں کی تعداد اوسطا 10،000 سے بھی زائد ہے۔ ہالینڈ کے ان زراعت افسروں نے کاشتکاروں کو منظم کیا اور انہیں جدید زرعی تحقیق سے روشناس کیا۔ جلد ہی ہالینڈ خوراک میں خود کفیل ہو گیا۔ خود کفالت کے بعد وہ دور آیا جب ہالینڈ نے زرعی برآمدات میں آگے بڑھنا شروع کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کسانوں کی تنظیمیں اس قدر مضبوط ہو چکی تھیں کہ وہ توسیعی خدمات کے حوالے سے بھی خود کفیل ہونے لگیں۔ ساتھ ساتھ کاشتکاروں کی یہ تنظیمیں کاروبار میں بھی آ گئیں۔ انہوں نے ہالینڈ اور ہالینڈ کے باہر اپنے کاروبار پھیلانا شروع کر دئیے۔ آپ کو شائد یہ بات جان کر حیرت ہو کہ پاکستان میں اولپردودھ، اومور آئس کریم اور ترنگ پاؤڈر وغیرہ ہالینڈ کی ایک کسان تنظیم کے پراڈکٹ ہیں جو پاکستان میں فروخت ہوتے ہیں۔

اب اس مرحلے پر کاشتکاروں کو یہ جاننے کی ضرورت تھی کہ بیرونی دنیا کے لئے زرعی اجناس کیسے پیدا کرنی ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ آخر وہ کون کون سے پیداواری اہداف ہیں جنہیں حاصل کئے بغیر عالمی منڈی میں جگہ نہیں بنائی جا سکتی۔ انہیں ایسے ماہرین کی ضرورت تھی جوپیداوار کے ساتھ ساتھ زرعی برآمدات بڑھانے کے لئے بھی کاشتکاروں کو مفید مشورے دے سکیں۔ یہ وہ دور تھا جب حکومت نے محسوس کیا کہ وہ کاشتکاروں کی بڑھتی ہوئی توسیعی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ لہذا نجکاری کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ آج بھی حکومت بہت سے اہداف حاصل کرنے کے لئے توسیع زراعت پر کھلا خرچ کرتی ہے۔

آج ہالینڈ کی حکومت کو زرعی حوالوں سے کئی ایک چیلنج در پیش ہیں۔ زراعت کا موجودہ جدید طریقہ بہت سے مسائل اپنے ساتھ لے کر آیا ہے۔ ہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار بڑھ رہی ہے۔ زمینوں کی زرخیزی کم ہوتی جا رہی ہے۔ پانی کے وسائل کم ہو رہے ہیں۔ زرعی زہروں کے بے تحاشا استعمال سے لوگوں کی صحت برباد ہو رہی ہے۔ حکومت پابندیاں لگانے کی کوشش کرتی ہے تو کسان سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔ گزشتہ سال ہالینڈ کے کسانوں نے بالکل ویسا ہی ٹریکٹر مارچ کیا جیسا ہم نے انڈیا میں دیکھا ہے۔ لہذا حکومت یہ سارے اہداف حاصل کرنے کے لئے تحقیقی اور توسیعی عمل کا سہارا لینے کے ساتھ ساتھ کسانوں کو مالی امداد دینے پر مجبور ہے۔ ہم پاکستانیوں کو تو شاید یہ بات جھوٹ ہی لگے کہ ہالینڈ کی حکومت ہر کاشتکار خاندان کو اوسطا 30 لاکھ روپے سالانہ کی مالی امداد (سبسڈی) دیتی ہے۔ جبکہ پنجاب میں موجودہ سال کے لئے یہ رقم کم و بیش 500 روپے فی کاشتکار خاندان ہے اور اس کا بھی ایک بڑا حصہ وزیراعظم کے خصوصی پیکج کی مرہونِ منت ہے۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پنجاب میں ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں کہ توسیع زراعت کی نجکاری کا فیصلہ کیا جائے۔ موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا جواب نفی میں ہے۔ پاکستان میں پرائیویٹ توسیع پرنہ کبھی کوئی پابندی تھی اور نہ ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس کھلے میدان کے باوجود بھی توسیعی خدمات دینے والے پرائیویٹ ادارے پنپ نہیں سکے۔ لہذا یہ اس بات کا کھلم کھلا ثبوت ہے کہ پنجاب میں توسیع زراعت کی نجکاری کے لئے حالات سازگار نہیں ہیں۔

محکمہ توسیع زراعت پنجاب کا زراعت افسر کاشتکاروں کی رہنمائی کرتے ہوئے

یہ الگ بات ہے کہ پنجاب میں زرعی زہریں، کھادیں اور بیج وغیرہ بیچنے والی پرائیویٹ کمپنیاں کسانوں کو توسیعی خدمات فراہم کرنے کا دعوی کرتی ہیں- لیکن اول تو بہت کم کمپنیاں توسیعی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہیں، اور اگر کر تی بھی ہوں تو یہ توسیعِ زراعت کی نا پسندیدہ ترین شکل ہے۔ ہالینڈ میں توسیعی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں حکومت کو یہ بات لکھ کر دیتی ہیں کہ اُن کا کسی بھی کھاد یا زہر وغیرہ بیچنے والی کمپنی سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور یہ کہ ان کا عملہ صرف اور صرف کسان کے مفاد کو مدنظر رکھ کر ہی مشورہ دے گا۔ بصورت دیگر انہیں کام کرنے کا لائسنس ہی نہیں دیا جاتا۔ کسی بھی قسم کا گٹھ جوڑ ثابت ہونے پر کمپنی بلیک لسٹ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ کئی عشروں کے تجربے سے یورپ نے یہی سیکھا ہے کہ زیادہ تر زرعی پراڈکٹ بیچنے والی کمپنیاں مشورے کے نام پراپنے پراڈکٹ کی سیل کال لگاتی ہیں اور مشورہ دیتے ہوئے کسان کے مفاد کو مد نظر نہیں رکھتیں۔ جس سے کسان، زراعت، اور ملک سب کا نقصان ہوتا ہے۔ یورپی یونین بھی اس مسئلے پر بہت حساس ہے۔ آئندہ سال سے وہ کسی بھی ایسی توسیعی کمپنی کو اپنی فہرست میں شامل نہیں کرے گی جس کا کسی بھی حوالے سے زرعی پراڈکٹ بیچنے والی کسی بھی کمپنی سے کوئی بھی لنک نکلتا ہوگا۔

لہذا ہر ملک کے اپنے مخصوص حالات ہوتے ہیں۔ وہ حالات فیصلہ کرتے ہیں کہ توسیع زراعت کی کونسی صورت، ملک اور کاشتکار دونوں کے حق میں ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ ایک ارتقائی عمل ہے جو بتدریج آگے بڑھتا ہے۔ کسی بھی نئے تجربے کے لئے پائلٹ پروگرام ایک آزمودہ فارمولا ہے۔ اس پر عمل ہونا چاہئے۔ جلد بازی کی بجائے غوروفکر سے کام لینا چاہئےاور ہر پہلو سے جائزہ لے کر قدم آگے بڑھانا چاہئے۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ موجودہ محکمہ توسیع زراعت کی کارکردگی پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس پر یقینا بات ہو سکتی ہے۔ کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔مسائل کی نشاندہی ہو سکتی ہے اور بہتری کے لئے اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ مختصر مضمون میں بس یہی کچھ کہا جا سکتا تھا۔ اسی موضوع پر بہت کچھ کہنا ابھی باقی ہے۔

تحریر

ڈاکٹر شوکت علی، پی ایچ ڈی (توسیعِ زراعت)

ایسوسی ایٹ پروفیسر، توسیعِ زراعت، زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد

Share Please

توسیع زراعت کی نجکاری: تجزیہ و مشورہ” ایک تبصرہ

  1. آپکی بات بلکل ٹھیک ہے ہمیں ایگری آفیسر کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیے اس سے بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔ میں نے ایک ہفتہ گاؤں میں گزارا ہے اور اسکی کمی شدت سے محسوس کی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں