زمینی پانی میں زہر: کیا واقعی

سنکھیا نام کے زہر سے توآپ واقف ہی ہوں گے.
یہ زہر عام طور پر چوہے مار دوائیوں اور کیڑے مار ادویات میں استعمال ہوتا ہے. یہ زہر غیر محسوس طریقے سے کام کرتا ہے اس لئے اسے خاموش قاتل بھی کہتے ہیں.
ماہرین کہتے ہیں کہ زمینی پانی میں آہستہ آہستہ اس زہر کی مقدار بڑھتی جا رہی ہے. اور اگر پانی میں سنکھیا (زہر) کی مقدار 10 درجے سے زیادہ ہو گئی تو اس پانی کو زہر ہی سمجھئیے.

پچھلے دنوں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اپنی تحقیق میں دعوی کیا ہے کہ پاکستان میں پانچ دریاؤں کے آس پاس بسنے والے شہروں کا زمینی پانی زہر آلود ہو چکا ہے جس میں زہر (سنکھیا) کی مقدار 10 درجے سے اوپر جا چکی ہے. سوئٹزرلینڈ کے سائنسدان کی سربراہی میں ہونے والی یہ تحقیق ایک معتبر سائنسی رسالے “سائنس ایڈوانس” میں شائع ہوئی ہے.

اس تحقیق کی ایک جھلک اس گراف میں دیکھئے. اس تصویر میں زرد، سرخ اور گلابی رنگ کے دائرے ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں یہاں پر پانی زہر آلود ہو چکا ہے.

میڈیا میں یہ خبر بڑے زوردار طریقے سے آئی ہے جس نے پاکستان کے عام شہریوں اور خاص طور پر پڑھے لکھے طبقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے.
واضح رہے کہ پانی میں سنکھیا کی مقدار کی وجہ سے سے کئی ایک بیماریاں پیدا ہوتے ہیں. جن میں کئی ایک چھوٹی موٹی بیماریوں کے علاوہ شوگر، جلد کا کینسر، پھیپھڑوں کا کینسر، مثانے کا کینسر، جگر اور گردوں کا کینسر وغیرہ شامل ہیں.
یہی وجہ ہے کہ اس خبر کے بعد لوگ زمینی پانی پینے سے خوف زدہ نظر آ رہے ہیں اور بوتل کا پانی پینے کی طرف مائل نظر آتے ہیں. بعض طبقے اسے منرل واٹر بیچنے والی کمپنوں کی سازش قرار دے رہے ہیں اور بعض فیکٹریوں کو زہر آلود پانی دیارؤں میں چھوڑنے پر کوس رہے ہیں. مگر معتبر رائے یہی ہے کہ تحقیق کو جذباتی انداز سے دیکھنے کی بجائے سائنسی انداز سے ہی دیکھنا چاہیے.

ان حالات میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایک ماہرڈاکٹر نبیل خان نیازی، جو زمینی پانی کی کھوج کا بھر پور تجربہ رکھتے ہیں، سامنے آئے ہیں. اور انہوں نے شائع ہونے والی اس تحقیق کو چیلنج کر دیا ہے. زرعی یونیورسٹی کے ماہر نے اس تحقیق پر 6 اعتراضات اٹھائے ہیں. سائنسی انداز میں اٹھائے گئے یہ اعتراضات “سائنس ایڈوانس” کو بھیج دئیے گئے ہیں جسے انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیا ہے.

اس معاملے نے اب ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے. اور ان مدلل اعتراضات کی بدولت، زہر والی رپورٹ میں شکوک و شبہات پیداہو گئےہیں.

لیکن اب بات یہیں پہ ختم نہیں ہونی چاہیے!

عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی حکومت کے اولین فرائض میں سے ہے. حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیق کے لئے ایک کمیٹی بنائے جو اس بات کی تسلی کرے کہ جو لوگ زمینی پانی پیتے ہیں وہ ان کی صحت کے لئے نقصان دہ نہیں ہے.
مزید یہ کہ پانی میں زہر کی آمیزش کی وجوہات تلاش کرکے اس کا سد باب کیا جائے. ورنہ خدانخواستہ یہ صورتَ حال کسی بڑے المیے کو جنم دے سکتی ہے.

باخبر رہنے کے لئے ایگری اخبار سے وابسطہ رہیے.

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں